عید کے دن عید گاہ جانے اور واپسی کے لیے مختلف راستہ اختیار کرنا نبی کریم ﷺ کی سنت ہے، اور اس پر صحابہ کرام کا بھی عمل رہا ہے.
➊ حدیث سے دلائل
✅ نبی کریم ﷺ کا راستہ بدلنے کا عمل:
🔹 حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
"كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا كَانَ يَوْمُ عِيدٍ خَالَفَ الطَّرِيقَ.”
(جب عید کا دن ہوتا تو رسول اللہ ﷺ راستہ بدل لیا کرتے تھے۔)
(صحیح بخاری: 986)
✅ یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ نبی کریم ﷺ عید گاہ جاتے ہوئے ایک راستہ اختیار کرتے اور واپس آتے وقت دوسرا راستہ اختیار کرتے تھے۔
✅ ایک اور حدیث میں آتا ہے:
🔹 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
"إِذَا خَرَجْتُمْ إِلَى الْعِيدِ فَخَالِفُوا الطَّرِيقَ.”
(جب تم عید کے لیے نکلو تو راستہ بدل لیا کرو۔)
(سنن ابن ماجہ: 1297، سنن دارمی: 1585)
✅ یہ حدیث صحابہ کرام کی سنت کو بھی بیان کرتی ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی پیروی میں عید کے دن راستہ بدلتے تھے۔
➋ اجماع صحابہ کرام
🔹 تمام صحابہ کرام نبی کریم ﷺ کی اس سنت پر عمل کرتے تھے، اور کسی بھی صحابی سے اس کے خلاف کوئی قول یا عمل ثابت نہیں۔
🔹 حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ، اور دیگر صحابہ سے بھی یہی معمول ثابت ہے کہ وہ راستہ بدل کر واپس آتے تھے۔
✅ لہٰذا، عید کے دن راستہ بدلنا نہ صرف نبی کریم ﷺ کی سنت ہے بلکہ صحابہ کرام کا بھی متفقہ عمل رہا ہے۔
➌ راستہ بدلنے کی حکمتیں
علماء نے اس سنت کی درج ذیل حکمتیں بیان کی ہیں:
➊ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سلام پہنچے – نبی کریم ﷺ زیادہ سے زیادہ مسلمانوں سے ملاقات اور سلام کا اہتمام فرماتے تھے۔
➋ فرشتوں کی گواہی – دونوں راستوں پر فرشتے نیکیوں کو درج کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں۔
➌ اللہ کے نشانات کی تعظیم – یہ ایک طرح سے اللہ کی عبادت کا اظہار ہے کہ ہر راستے کو اللہ کی یاد سے منور کیا جائے۔
➍ مساکین اور ضرورت مندوں کی مدد – راستہ بدلنے سے زیادہ لوگوں کو صدقہ دینے کا موقع ملتا ہے۔
➎ اسلامی تہذیب اور شعار کا اظہار – یہ ایک منفرد عمل ہے جو صرف عید کے دن کیا جاتا ہے، اور مسلمانوں کے لیے ایک شناخت بن جاتا ہے۔
✅ یہ حکمتیں ثابت کرتی ہیں کہ راستہ بدلنے میں کئی روحانی اور عملی فوائد ہیں۔
➍ کیا راستہ بدلنا واجب ہے یا مستحب؟
🔹 اکثر فقہاء کا کہنا ہے کہ یہ عمل سنت مستحبہ ہے، یعنی اس پر عمل کرنا افضل ہے لیکن لازم (واجب) نہیں۔
🔹 امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"یہ عمل نبی کریم ﷺ کی مستقل سنت ہے، اور صحابہ کرام نے بھی اس پر عمل کیا، لیکن اگر کوئی شخص کسی عذر کی بنا پر نہ کر سکے، تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔”
(زاد المعاد: 1/449)
✅ لہٰذا، عید کے دن راستہ بدلنا ایک سنت مؤکدہ ہے، جس پر عمل کرنا باعثِ ثواب ہے، لیکن اگر کوئی نہ کر سکے تو اس پر گناہ نہیں۔
➎ خلاصہ اور اہم نکات
✅ عید کے دن راستہ بدلنا نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔
✅ صحابہ کرام کا بھی اس پر عمل تھا، اور کسی نے اس کے خلاف عمل نہیں کیا۔
✅ اس میں کئی روحانی، معاشرتی اور عملی فوائد ہیں۔
✅ یہ سنت مستحب ہے، یعنی مستحب عمل ہے لیکن لازم (واجب) نہیں۔
📌 لہٰذا، ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ عید کے دن جاتے اور آتے وقت مختلف راستہ اختیار کرے تاکہ نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل ہو اور زیادہ سے زیادہ اجر و ثواب حاصل ہو۔