حسب توفیق عمدہ کفن پہنانے میں کوئی حرج نہیں لیکن بہت زیادہ قیمتی نہ ہو
➊ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا ولى أحدكم أخاه فليحسن كفنه
”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا والی بنے تو اسے اچھا کفن پہنائے ۔“
[صحيح: صحيح ابن ماجة: 1202 ، أحكام الجنائز: ص/ 58 ، صحيح الجامع: 844 ، ترمذي: 995 ، كتاب الجنائز: باب منه ، ابن ماجة: 1474]
➋ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تغالوا فى الكفن فإنه يسلب سريعا
”بہت قیمتی کفن نه دیا کرو کیونکہ یہ تو بہت جلد بوسیدہ ہو جاتا ہے۔“
[ضعيف: ضعيف أبو داود: 689 ِ، كتاب الجنائز: باب كراهية المغالاة فى الكفن ، المشكاة: 1639 ، أبو داود: 3154]
(البانیؒ) اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہے لیکن پھر بھی بہت زیادہ قیمتی کفن پہنانا جائز نہیں کیونکہ اس میں مال کا ضیاع ہے جو کہ صحیح حدیث میں ممنوع ہے۔
[أحكام الجنائز: ص/ 84]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ان الله كره لكم ثلاثا قيل وقال وإضاعة المال وكثرة السوال
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تین چیزوں کو ناپسند کیا ہے: بہت زیادہ باتیں کرنا ، مال کو ضائع کرنا ، اور کثرت سے سوال کرنا ۔“
[بخاري: 5975 ، كتاب الأدب: باب عقوق الوالدين من الكبائر ، مسلم: 593 ، أحمد: 246/4]
➌ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے اس کپڑے کو (جس پر زعفران کا دھبہ تھا ) دھو لینا اور اس کے ساتھ دو اور کپڑے ملا کر مجھے کفن دینا (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ) میں نے کہا یہ تو پرانا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ :
ان الحى أحق بالحديد من الميت
”زندہ آدمی نئے کپڑے کا مردہ سے زیادہ حق دار ہے۔“
[بخاري: 1387 ، كتاب الجنائز: باب موت يوم الاثنين ، مؤطا: 224/1]