مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

عام انسان کو محسن انسانیت کہنے کا شرعی حکم

فونٹ سائز:

سوال

کسی عام انسان کو "محسنِ انسانیت” کہنا کیسا ہے؟

جواب از فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ ، فضیلۃ الباحث کامران الہیٰ ظہیر حفظہ اللہ

لغوی اعتبار:
"محسنِ انسانیت” کا مطلب ہے "انسانوں کے ساتھ حسن سلوک اور احسان کرنے والا”۔ یہ صفت کسی عام انسان میں بھی ہو سکتی ہے، اس لیے لغوی لحاظ سے اگر کوئی کسی کو "محسنِ انسانیت” کہتا ہے تو اس میں گنجائش موجود ہے، جیسے ہم "محسنِ پاکستان” یا "محسنِ اہل حدیث” جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔

احتیاط کا پہلو:
بہتر یہ ہے کہ "محسنِ انسانیت” کے الفاظ کسی عام امتی کے لیے نہ بولے جائیں، کیونکہ یہ لقب زیادہ تر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس سے یہ غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے کہ شاید کسی کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تشبیہ دی جا رہی ہے، جو کہ مناسب نہیں۔

واللہ اعلم

مزید وضاحت:

لغوی معنی کے تحت اس اصطلاح کا استعمال ممکن ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔