صدقہ فطر کے مستحقین: زکوٰۃ کے برابر مصرف
امام شوکانیؒ اور دیگر جن علماء نے زکوٰۃ کے آٹھوں مصارف کو ہی صدقہ فطر کا مصرف قرار دیا ہے ان کے دلائل حسب ذیل ہیں:
➊ حدیث نبوی ہے کہ :
فمن أداها قبل الصلاة فهى زكاة مقبولة
”جس نے اسے نماز عید سے پہلے ادا کر دیا تو یہ مقبول زکوٰۃ ہو گی ۔“
[حسن: إرواء الغليل: 843 ، أبو داود: 1609 ، كتاب الزكاة: باب زكاة الفطر]
➋ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ :
أن رسول الله أمر بزكاة الفطر
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ الفطر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔“
[بخارى: 1504 ، كتاب الزكاة: باب صدقة الفطر على العبد وغيره من المسلمين ، مسلم: 984]
چونکہ ان احادیث میں صدقہ فطر کو زکوٰۃ کہا گیا ہے لٰہذا اس کا مصرف بھی وہی ہو گا جو زکوٰۃ کا ہے۔
(ابن قدامہؒ) اسی کے قائل ہیں۔
[المغنى: 314/4]
لیکن بعض علماء کا یہ خیال ہے (اور یہی بات زیادہ قوی معلوم ہوتی ہے ) کہ صدقہ فطر صرف مساکین اور فقراء و حاجت مند لوگوں میں ہی تقسیم کیا جائے گا کیونکہ اس کے متعلق حدیث میں واضح الفاظ موجود ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے کہ :
طعمة للمساكين
”زکوٰۃ فطر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے مقرر کیا ہے ۔“
[حسن: إرواء الغليل: 843 ، ابن ماجة: 1827 ، كتاب الزكاة: باب صدقة الفطر]
(ابن تیمیہؒ) اسی کے قائل ہیں ۔
[مجموع الفتاوى: 38/25]
(ابن قیمؒ) اسی کو تر جیح دیتے ہیں ۔
[كمافي تمام المنة: ص/388]
(شوکانیؒ ) انہوں نے بھی اپنی دوسری کتاب میں یہی موقف اپنایا ہے۔
[السيل الجرار: 86/2]
(البانیؒ) یہی موقف رکھتے ہیں۔
[تمام المنة: ص/387]