صدقہ فطر کی مقدار اور اشیاء
تحریر: عمران ایوب لاہوری

صدقہ فطر کی مقدار اور اشیاء
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :
كنا نخرج زكاة الفطر صاعا من طعام أو صاعا من شعير أو صاعا من تمر أو صاعا من أقط أو صاعا من زبيب
”ہم گندم سے ایک صاع ، یا جو سے ایک صاع ، یا کھجور سے ایک صاع ، یا پنیر سے ایک صاع ، یا منقے سے ایک صاع صدقہ فطر نکالتے تھے۔“
صحیح بخاری کی ایک روایت میں یہ لفظ زائد ہیں في زمان النبي ”یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم ایسا کرتے تھے ۔“
[بخاري: 1506 ، 1507 ، كتاب الزكاة: باب صدقة الفطر صاع من طعام ، مسلم: 985 ، أبو داود: 1616 ، ترمذي: 668 ، نسائي: 51/5 ، ابن ماجة: 1829 ، موطا: 284/1 ، ابن أبى شيبة: 172/3 ، أحمد: 23/3]
اس سے معلوم ہوا کہ ان تمام اشیاء سے ایک صاع فطرانہ نکالا جائے گا۔ البتہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جب حج یا عمرے سے لوٹے تو منبر پر لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمانے لگے: میں سمجھتا ہوں کہ شام کی گندم کے دو مد (یعنی نصف صاع) کھجور کے ایک صاع کے برابر ہیں۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تو ہمیشہ اُسی طرح (صدقہ فطر ) نکالتا رہوں گا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نکالتا تھا (یعنی ایک صاع ) ۔“
[مسلم: 984 ، كتاب الزكاة: باب زكاة الفطر على المسلمين ، بيهقى: 165/4]
معلوم ہوا کہ گندم سے نصف صاع فطرانہ دینا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا اپنا اجتھاد تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور دیگر صحابہ تمام اجناس سے ایک صاع فطرانہ نکالنے کے ہی قائل رہے۔ مزید برآں جن روایات میں ایک آدمی کی طرف سے نصف صاع کے بھی کافی ہو جانے کا ذکر ہے وہ یا تو مرفوع ثابت نہیں ہیں یا ضعیف ہیں جیسا کہ امام بیہقیؒ اور دیگر ائمہ نے اسی بات کو ترجیح دی ہے ۔
[بيهقي فى السنن الكبرى: 170/4 ، مرعاة المفاتيح: 1831]
بہر حال محل اختلاف دو ہی چیزیں ہیں ”گندم اور منقی“ کہ کیا ان سے نصف صاع دیا جائے گایا مکمل صارع؟
[نيل الأوطار: 147/3]
(جمہور، مالکؒ ، احمدؒ ، شافعیؒ) ان دونوں اشیاء سے بھی مکمل صاع فطرانہ دیا جائے گا۔
(احناف) ان سے نصف صاع دیا جائے گا۔
[الأم: 90/2 ، المغنى: 287/4 ، حاشية الدسوقي على الشرح الكبير: 506/1 ، الكافي لابن عبدالبر: ص/ 112 ، المبسوط: 113/3 ، الهداية: 117/1 ، الاختيار: 123/1]
(راجح) جمہور کا موقف راجح ہے۔
(شوکانیؒ) اسی کے قائل ہیں۔
[نيل الأوطار: 147/3]
(ابن قدامہؒ) تمام اجناس سے ایک صاع دیا جائے گا۔
[المغنى: 285/4]
خلاصہ کلام یہ ہے کہ تمام ایسی اجناس جو لوگوں کا طعام (یعنی خوراک) ہیں جیسا کہ روایت میں ہے۔ صاعا من طعام ان سب سے ایک صاع صدقہ فطر نکالا جائے گا۔
◈ یاد رہے کہ ایک صارع چار مد کا ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں صاع کی مقدار پانچ رطل اور ایک رطل کا تیسرا حصہ بھی بیان ہوئی ہے۔
[المغنى: 285/4 ، روضة الطالبين: 301/2]
جدید وزن کے مطابق ایک صاع اڑھائی کلو گرام کے قریب ہوتا ہے۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

1