صدقہ فطر کی ادائیگی: احکام و وقت
تحریر: عمران ایوب لاہوری

صدقہ فطر کی ادائیگی: احکام و وقت
صدقہ فطر غلام کے مالک اور کم سن یا اس کی مثل کسی کے ذمہ دار پر واجب ہے اور اسے نماز عید کے لیے جانے سے پہلے ادا کیا جائے
➊ جیسا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی روایت میں پیچھے گزرا ہے کہ :
فرض رسول الله زكاة الفطر صاعا من تمر أو صاعا من شعير على العبد والحر والذكر والأنثى والصغير والكبير من المسلمين وأمر بها أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے غلام ، آزاد ، مرد ، عورت ، بچے اور بوڑھے سب پر صدقہ فطر فرض کیا ہے۔ ایک صاع کھجوروں سے یا ایک صاع جو سے۔ اور اس کے متعلق حکم دیا ہے کہ یہ فطرانہ نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے ۔“
[بخاري: 1503 ، كتاب الزكاة: باب فرض صدقة الفطر ، مسلم: 984]
➋ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی روایت میں یہ لفظ ہیں:
فمن أداها قبل الصلاة فهي زكاة مقبولة ومن أداها بعد الصلاة فهي صدقة من صدقات
”جس نے اسے نماز (عید) سے پہلے ادا کر دیا تو یہ قابل قبول زکوٰۃ ہو گی اور جس نے نماز کے بعد سے ادا کیا تو وہ صرف صدقات میں سے ایک صدقہ ہی ہے (یعنی صدقہ فطر ادا نہیں ہو گا ) ۔“
[حسن: إرواء الغليل: 843 ، 332/3 ، أبو داود: 1609 ، كتاب الزكاة: باب زكاة الفطر ، ابن ماجة: 1827 ، دار قطني: 138/2 ، حاكم: 409/1]
معلوم ہوا کہ یہ صدقہ نماز عید کے لیے روانگی سے پہلے ادا کر دینا ضروری ہے اور اگر عید سے ایک ، دو دن پہلے ادا کر دیا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں ۔
[المغني: 300/4 ، فتاوي ابن باز مترجم: 127/1]
(جمہور ) نماز عید سے پہلے صدقہ دینا صرف مستحب ہے علاوہ ازیں عید الفطر کے دن کے آخر تک کفایت کر جاتا ہے۔
(شوکانیؒ) گذشتہ حدیث ان کا رد کرتی ہے۔
[نيل الأوطار: 149/3]

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

1