مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

شیطان کے گروہ کا وجود اور اس کی حقیقت

فونٹ سائز:
تالیف: ڈاکٹر رضا عبداللہ پاشا حفظ اللہ

سوال:

کیا شیطان کا کوئی گروہ بھی ہوتا ہے ؟

جواب :

جی ہاں، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا ۚ إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ ﴿٦﴾
” بے شک شیطان تمھارا دشمن ہے تو اسے دشمن ہی سمجھو۔ وہ تو اپنے گروه والوں کو صرف اس لیے بلاتا ہے کہ وہ بھڑکتی آگ والوں سے ہو جائیں۔ “ [الفاطر: 6]
یعنی وہ دشمنی میں تمھارے مدمقابل کھڑا ہے، اس لیے تم اس سے بڑھ کر اس سے عداوت رکھو اور جن چیزوں میں وہ تمھیں دھوکا دیتا ہے، ان میں تم اس کی مخالفت و تکذیب کرو۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:
إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ
یعنی بلاشبہ تمھیں گمراہ کرنا اس کا مقصود ہے، یہاں تک کہ تم اس کے ساتھ جہنم میں داخل ہو جاؤ۔ پس تم اس آیت میں مذکور اللہ کے حکم :
فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۖ وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِاللَّـهِ الْغَرُورُ ﴿٥﴾
”تو کہیں دنیا کی زندگی تھیں دھوکے میں نہ ڈال دے اور کہیں وہ دھوکے باز تمھیں اللہ کے بارے میں دھوکا نہ دے جائے۔“[الفاطر: 5]
کی اتباع کو لازم پکڑو اور اس کے رسولوں کے راستے پر چل پڑو، بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر اور قبول کرنے کے لائق ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔