مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

شفعہ کا حقدار کون ہے ؟

فونٹ سائز:

 

تحریر : فضیلۃ الشیخ حافظ عبدالستار الحماد حفظ اللہ

قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَالٍ لَمْ يُقْسَمْ
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مال میں شفعہ کا فیصلہ دیا ہے جو تقسیم نہ ہوا ہو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ: 2214]
فوائد :
شریک کے اس حصے کو مقررہ معاوضہ کے بدلے شریک کی طرف منتقل کرنا شفعہ کہلاتا ہے جو اجنبی کی طرف منتقل ہو گیا تھا۔
شفعہ کا سبب صرف شراکت ہے اور وہ ہر چیز میں عام ہے زمین ہو یا گھر یا دکان وغیرہ چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر چیز میں شفعہ کا فیصلہ فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ: 3513]
احادیث کی رو سے پڑوسی کے لئے شفعہ کا حق ہے بشرطیکہ ان کے گھر کا راستہ ایک ہو جیسا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”ہمسایہ اپنے ہمسائے کا شفعہ میں زیادہ حقدار ہے، شفعہ کی وجہ سے اس کا انتظار کیا جائے گا۔ اگر چہ وہ غائب ہو بشرطیکہ دونوں کا راستہ ایک ہو۔“ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ: 3518]
یہ حدیث اس امر کی دلیل ہے کہ محض ہمسائیگی کے ذریعے حق شفعہ ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے مشترک راستہ ہونا ضروری ہے۔ اس کی تائید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درج ذیل فرمان سے ہوتی ہے :
”جب حد بندی ہو جائے اور راستے جدا جدا ہو جائیں تو پھر شفعہ کا حق باقی نہیں رہتا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّفْعَةِ: 2257]
ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب گھر تقسیم کر دیا جائے اور اس کی حد بندی ہو جائے تو اس میں کوئی حق شفعہ نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ: 3515]
ہمارے ہاں یہ غلط رواج ہے کہ اگر کسی نے گھر یا پلاٹ خریدا ہے تو کھیوٹ کھتونی میں شراکت رکھنے والا کوئی بھی شفعہ کر سکتا ہے اگrچہ وہ اس کا ہمسایہ نہ ہو۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔