روزہ باطل کرنے والے امور
تحریر: عمران ایوب لاہوری

جان بوجھ کر کھانے ، پینے ، جماع ، اور قے کرنے ، سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے
➊ ارشاد باری تعالی ہے کہ :
وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ [البقرة: 187]
”تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے (یعنی صبح صادق رات سے ) ظاہر ہو جائے ، پھر رات تک روزے کو پورا کرو۔“
➋ حدیث نبوی ہے کہ :
والذي نفسي بيده لخلوف فم الصائم أطيب عند الله من ريح المسك يترك طعامه وشــرابـه وشهوته من أجلى
”اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! روزے دار کے منہ کی بدبو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے زیادہ عمدہ و پاکیزہ ہے۔ (اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کیونکہ ) روزے دار اپنا کھانا ، اپنا پینا اور اپنی شہوت میرے لیے چھوڑ دیتا ہے۔“
[بخاري: 1894 ، كتاب الصوم: باب فضل الصوم ، أحمد: 7179 ، مؤطا: 602]
➌ اس پر اجماع ہے کہ جان بوجھ کر کھانے پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
[المغنى: 350/4]
اگر کوئی بھول کر کھا پی لے تو
تو اس پر نہ کفارہ ہے نہ قضا کیونکہ اس کا روزہ برقرار ہے۔
➊ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من نسى وهو صائم فأكل أو شرب فليتم صومه فإنما أطعمه الله وسقاهه
”جو روزہ دار بھول کر اگر کچھ کھا ، یا پی لے تو اسے چاہیے کہ اپنا روزہ پورا کرے کیونکہ اسے اللہ تعالی نے کھلایا پلایا ہے ۔“
[بخاري: 1933 ، كتاب الصوم: باب الصائم إذا أكل أو شرب ناسيا ، مسلم: 1155 ، أبو داود: 2398 ، ترمذي: 717 ، دارمي: 346/1 ، أحمد: 395/2 ، دار قطني: 178/2 ، ابن خزيمة: 238/3 ، بيهقي: 229/4]
➋ ایک روایت میں یہ لفظ ہیں:
فإنما هو رزق رزقه الله
”بے شک یہ رزق ہے جو اللہ تعالی نے اسے عطا فرمایا ہے۔“
[ترمذي: كتاب الصوم: باب ماجاء فى الصائم يا كل أو يشرب ناسيا ، عارضة الأحوذي: 246/3 – 247]
➌ ایک اور روایت میں ہے کہ :
من أفطر فى رمضان ناسيا فلا قضاء عليه ولا كفارة
”اگر کوئی بھول کر رمضان میں روزہ کھول لے تو اس پر قضا اور کفارہ نہیں ۔“
[صحيح: حاكم: 430/1 ، دار قطني: 178/2 ، ابن خزيمة: 239/3 ، حافظ ابن حجرؒ نے اسے صحيح كها هے۔ فتح الباري: 157/4 ، شيخ محمد صبحی حلاق نے بهي اسے صحيح كها هے۔ التعليق على سبل السلام: 137/4]
معلوم ہوا کہ اگر بھول کر روزہ باطل کر دینے والا کوئی عمل کر لیا جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔
(جمہور) اسی کے قائل ہیں۔
[نيل الأوطار: 178/3 ، الروضة الندية: 542/1 ، سبل السلام: 137/4]
(مالکؒ) جس نے بھول کر کھا لیا اس کا روزہ باطل ہو گیا اور اس پر قضا بھی لازم ہے۔
[المغنى: 327/4]
یاد رہے کہ یہ قول صریح حدیث کے خلاف ہے۔
➊ ارشاد باری تعالی ہے کہ :
أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَتُ إِلَى نِسَائِكُمْ [البقرة: 187]
”روزے کی راتوں میں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لیے حلال کیا گیا۔ “
معلوم ہوا کہ دن میں یہ عمل حرام ہے۔
➋ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا اے اللہ کے رسول ! میں ہلاک ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تجھے کس چیز نے ہلاک کر دیا؟ اس نے کہا میں رمضان میں اپنی بیوی سے مباشرت کر بیٹھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تجھ میں اتنی طاقت ہے کہ ایک گردن آزاد کر دے۔“ اس نے کہا ”نہیں ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو دو ماہ کے پہ در پہ روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہے۔“ اس نے کہا ”نہیں ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانے کی وسعت رکھتا ہے۔“ تو اس نے کہا نہیں۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھجوروں کا ایک ٹوکرہ دیا جسے اس نے صدقہ کر دیا۔
[بخاري: 1936 ، كتاب الصوم: باب إذا جامع فى رمضان ، مسلم: 111 ، موطا: 296/1 ، أبو داود: 2390 ، ترمذي: 724 ، ابن ماجة: 681 ، دارمي: 343/1 ، أحمد: 208/2 ، دار قطني: 190/2]
سنن ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا:
وصم يوما مكانه
”اس کی جگہ ایک دن کا روزہ رکھو۔“
[صحيح: صحيح ابن ماجة: 1356 ، كتاب الصيام: باب ماجاء فى كفارة من أفطر يوما من رمضان ، إرواء الغليل: 940 ، ابن ماجة: 1671]
سنن ابی داود کی روایت میں یہ لفظ ہیں:
وصم يوما واستغفر الله
”ایک دن کا روزہ رکھو اور اللہ سے استغفار کرو۔“
[صحيح: صحيح أبو داود: 2096 ، كتاب الصوم: باب كفارة من أتى أهله فى رمضان ، ابو داود: 2393]
معلوم ہوا کہ دوران روزہ جماع و ہم بستری کرنے والے شخص پر کفارہ اور قضا دونوں لازم ہیں۔
اگر کوئی بھول کر ہم بستری کر بیٹھے
(جمہور) اس پر کوئی کفارہ نہیں (انہوں نے ہم بستری کو بھی کھانے ، پینے کے ساتھ ملایا ہے ) اور مزید ان کے موقف کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے:
من أفطر فى رمضان ناسيا فلا قضاء عليه ولا كفارة
”اگر کوئی بھول کر رمضان میں روزہ کھول لے تو اس پر قضاء اور کفارہ نہیں ۔“
[حاكم: 3430/1 ، دار قطني: 178/2]
(احمدؒ) ایسے شخص پر کفارہ لازم ہے۔ (ان کی دلیل یہ ہے کہ گذشتہ حدیث میں مذکور آدمی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں پوچھا کہ آیا اس نے بھول کر ہم بستری کی ہے یا جان بوجھ کر ) ۔
(ابن حجرؒ) انہوں نے جمہور کے موقف کی تائید کی ہے۔
[نيل الأوطار: 188/3 ، المغنى: 372/4 ، فتح البارى: 670/4]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :
من ذرعه القيئ وهو صائم فليس عليه قضاء وإن استقاء فليقض
”جسے روزے کی حالت میں قے آ جائے اس پر قضا نہیں ، اگر جان بوجھ کر قے کرے تو قضائی دے۔“
[صحيح: صحيح أبو داود: 2084 ، كتاب الصوم: باب الصائم يستقى عمدا ، أبو داود: 2380 ، ترمذي: 716 ، ابن ماجة: 1676 ، أحمد: 498/2 ، شرح معاني الآثار: 97/2 ، دار قطني: 184/2 ، حاكم: 427/1 ، بيهقي: 219/4 ، ابن خزيمة: 1906]
(ابن منذرؒ) مذکورہ حدیث میں موجود مسئلے پر اجماع ہے۔
[الإجماع لا بن المنذر: ص/ 52 ، 124]
(خطابیؒ) میرے علم میں نہیں کہ اہل علم کے درمیان اس مسئلے میں کوئی اختلاف ہو۔
[معالم السنن: 261/3]
(ابن قدامہؒ ) عام اہل علم کا یہی موقف ہے۔
[المغني: 117/3]
(ابن حزمؒ ) اس پر اجماع ہے ۔
[المحلى: 255/6]
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور بعض دیگر حضرات کا یہ موقف ہے کہ مطلقا قے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔ ان کی دلیل یہ روایت ہے:
ثلاث لا يفطرن القئ والحجامة والاحتلام
”تین چیزیں روزہ نہیں توڑتیں: قے ، سینگی لگوانا ، اور احتلام ۔“ لیکن یہ روایت ضعیف ہے اس لیے یہ مسئلہ درست نہیں ۔
[ضعيف: ضعيف ترمذي: 114 ، كتاب الصيام: باب ما جاء فى الصائم يزرعه القي ، ترمذي: 719 ، اس كي سند ميں عبد الرحمن بن زيد بن اسلم راوي ضعيف هے۔ تقريب التهذيب: 480/1 ، الكاشف: 146/2 ، المغنى: 380/2 ، ميزان الإعتدال: 564/2 ، المجروحين: 57/2 ، كتاب الجرح والتعديل: 233/5]

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

1