روزہ افطار کرنے میں جلدی کرنا اور سحری کھانے میں تاخیر کرنا مستحب ہے
➊ حضرت سھل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ :
لايزال الناس بخير ما عجلوا الفطر
”لوگ جب تک افطار کرنے میں جلدی کریں گے ہمیشہ خیر و عافیت سے رہیں گے ۔“
[بخاري: 1957 ، كتاب الصوم: باب تعجيل الإفطار ، مسلم: 1098 ، ترمذي: 699 ، ابن ماجة: 1697 ، أحمد: 337/5 ، ابن خزيمة: 2059 ، ابن حبان: 3502 ، بيهقي: 237/4]
➋ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يزال الدين ظاهرا ماعجل الناس الفطر لأن اليهود والنصاري يؤخرون
”لوگ روزہ افطار کرنے میں جب تک جلدی کرتے رہیں گے دین ہمیشہ غالب رہے گا کیونکہ یہود و انصاری تاخیر سے افطار کرتے ہیں ۔“
[حسن: صحيح أبو داود: 2063 ، كتاب الصوم: باب ما يستحب من تعجيل الفطر ، أبو داود: 2353 ، ابن ماجة: 1698 ، أحمد: 4500/2]
➌ سحری کھانے اور نماز شروع کرنے کے درمیان نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر وقفہ رکھتے کہ جتنے میں آدمی پچاس آیتیں تلاوت کر سکتا ہے۔
[بخاري: 1921 ، كتاب الصوم: باب قدركم بين السحود وصلاة الفجر، مسلم: 1097]
➍ حضرت عمرو بن میمون اودیؒ سے مروی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ لوگوں میں سب سے جلد افطار کرتے اور سب سے تاخیر سے سحری کھاتے ۔
[صحيح: عبد الرزاق: 7591 ، حافظ ابن حجرؒ نے اسے صحيح كها هے۔ فتح الباري: 713/4]
جس روایت میں یہ لفظ ہیں:
لا تزال أمتى بخير ما أخرو السحور وعجلوا الفطر
”میری امت کے افراد جب تک تاخیر سے سحری کھائیں گے اور جلد افطار کریں گے ہمیشہ خیر و عافیت سے رہیں گے ۔“ اس کی سند میں سلیمان بن ابی عثمان راوی ہے جسے امام ابو حاتمؒ نے مجہول کہا ہے ۔
[نيل الأوطار: 196/3 ، الروضه الندية: 545/1 ، أحمد: 147/5]