رمضان کے روزے واجب ہیں
➊ لغوی وضاحت: لفظ صیام باب صَامَ يَصُومُ (نصر) سے مصدر ہے۔ اس کا معنی روزہ رکھنا اور رک جانا، (یعنی کھانے ، پینے، بولنے ، جماع کرنے یا چلنے سے رک جانا سب اس میں شامل ہیں۔ ) ۔“
[القاموس المحيط: ص/ 1020 ، المنجد: ص / 476]
شرعی تعریف: مخصوص شرائط کے ساتھ مخصوص ایام میں مخصوص اشیاء (یعنی کھانے پینے ، فسق و فجور کے ارتکاب اور دن میں جماع کرنے) سے رک جانا۔
[فتح البارى: 592/4 ، شرح مسلم للنووى: 200/4 ، سبل السلام: 859/2]
واضح رہے کہ رمضان کے روزے دوسری صدی ہجری میں فرض کیے گئے ۔
[نيل الأوطار: 151/3]
جیسا کہ اس کے دلائل حسب ذیل ہیں:
➊ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مَنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ [البقرة: 184]
”اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کر دیے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے، تا کہ تم پرہیز گار بن جاؤ ۔“
➋ فَمَنْ شَهِدَ مَنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمُهُ [البقرة: 185]
”تم میں سے جو شخص اس مہینے میں موجود ہو وہ اس کے روزے رکھے۔“
➌ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ اشیاء پر رکھی گئی ہے…… و صيام رمضان ” (ان میں سے ایک یہ ہے ) رمضان کے روزے ۔ “
[بخاري: 8 ، كتاب الإيمان: باب نبي الاسلام على خمس]
➍ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا رايتموه فصوموا
”جب تم اسے (یعنی ہلال رمضان کو) دیکھ لو تو روزے رکھو۔“
[بخاري: 1900 ، كتاب الصوم: باب هل يقال: رمضان أو شهر رمضان؟ ومن رأى كله واسعا ، مسلم: 1080 ، ابن ماجة: 1654 ، أحمد: 145/2 ، موطا: 286/1 ، طيالسي: 866 ، نسائي: 134/4]
➎ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں یہ لفظ ہیں: صوموا لرؤيته ”اسے (یعنی ہلال رمضان ) کو دیکھ کر روزے رکھو۔“
[بخاري: 1909 ، كتاب الصوم: باب قول النبى إذا رأيتم الهلال فصوموا ، مسلم: 1081 ، نسائي: 133/4 ، أحمد: 415/2 ، دارمي: 3/2 ، بيهقي: 205/4]
➏ ماہ رمضان کے روزوں کی فرضیت پر اجماع ہے۔
[المغنى: 324/4 ، الفقه الإسلامي وأدلته: 1629/3 ، المجموع: 273/6 ، كشاف القناع: 349/2 ، بداية المجتهد: 274/1]