مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

دو سال تک بچے کو دودھ پلانا جائز ہے ضروری نہیں

فونٹ سائز:
تحریر: عمران ایوب لاہوری

دو سال تک بچے کو دودھ پلانا جائز ہے ضروری نہیں
جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ :
حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ۖ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ ۚ [البقرة: 233]
”مكمل دو سال کی مدت اس کے لیے ہے جو رضاعت کو پورا کرنے کا ارادہ کرے۔“
(قرطبیؒ) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دو سال تک دودھ پلانا ضروری نہیں ہے کیونکہ دو سال سے پہلے دودھ چھڑانا بھی
جائز ہے۔
[تفسير قرطبي: 107/3]
کسی اور سے دودھ پلوانا بھی جائز ہے
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ :
وَإِنْ أَرَدتُّمْ أَن تَسْتَرْضِعُوا أَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِذَا سَلَّمْتُم مَّا آتَيْتُم بِالْمَعْرُوفِ [البقرة: 233]
”اور اگر تمہارا ارادہ اپنی اولاد کو دودھ پلوانے کا ہو تو بھی تم پر کوئی گناہ نہیں جبکہ تم ان کو دستور کے مطابق جو دینا ہو (یعنی دودھ پلانے کا معاوضہ ) وہ ان کے حوالے کر دو ۔“

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔