مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

دوسری جماعت کروانے کا شرعی حکم اور اس کی حدود

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی علمیہ، جلد1، كتاب الصلاة، صفحہ 259

سوال:

ہمارے مولوی صاحب کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص پانچوں نمازیں باجماعت پڑھتا ہو اور کسی مجبوری کی وجہ سے جماعت سے رہ جائے تو وہ دوسری جماعت کروا سکتا ہے، لیکن ہر لیٹ آنے والا دوسری جماعت نہیں کروا سکتا۔ جب ہم ان سے حوالہ مانگتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ کسی عالم سے پوچھو۔ برائے کرم وضاحت فرمائیں کہ دوسری جماعت کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟

الجواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دوسری جماعت کے جواز کی شرطیں:

◄ اگر کوئی شخص کسی شرعی عذر کی وجہ سے پہلی جماعت میں شامل نہ ہو سکے، تو وہ دوسری جماعت کروا سکتا ہے۔
◄ لیکن اگر کسی شرعی عذر کے بغیر محض فتنہ، فساد یا اختلاف کی نیت سے دوسری جماعت کی جائے تو یہ جائز نہیں۔

مسجد میں دوسری جماعت کرانے کا غلط طریقہ:

◄ اگر کسی صحیح العقیدہ امام یا مسجد انتظامیہ سے دشمنی کی وجہ سے لوگ الگ جماعت بناتے ہیں، تو ایسا کرنا درست نہیں۔
◄ ایسے افراد کو چاہیے کہ وہ فوراً صلح اور اتفاق کی کوشش کریں، نہ کہ مسجد میں اختلاف پیدا کریں۔

نتیجہ:

◄ شرعی عذر کے بغیر، محض تاخیر یا اختلاف کی بنیاد پر دوسری جماعت کروانا درست نہیں۔
◄ اگر کوئی واقعی کسی مجبوری کی وجہ سے جماعت سے رہ گیا ہو، تو وہ دوسری جماعت کر سکتا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

(شہادت، اگست 2000ء)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔