مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

حمل ساقط کر نے والی عورت کے روزہ کا حکم

فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے خواتین سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ حافظ عبداللہ سلیم نے کیا ہے۔

سوال :

بعض عورتیں حمل ساقط کر دیتی ہیں ان کی دو حالتیں ہوتی ہیں ، یا تو خلقت ظاہر ہونے سے پہلے جنین کو ساقط کرویں یا خلقت ظاہر ہونے اور انسانی ساخت تیار ہو جانے کے بعد ساقط کریں، پس وہ دن جس میں وہ حمل ساقط کریں اور جن ایام میں ان کو خون جاری ہو ان ایام کے روزوں کاکیا حکم ہے ؟

جواب :

جب جنین کی تخلیق نہ ہوئی ہو تو عورت کا خون خون نفاس نہیں ہے اور اس بنا پر وہ روزے رکھے گی اور نماز ادا کرے گی اور اس کا روزہ صحیح ہوگا ۔ اور جب جنین کی تخلیق ہوچکی ہو تو بلاشبہ یہ خون نفاس کا خون ہوگا ، عورت کے لیے ان ایام میں نماز روزہ جائز نہیں ۔ اس مسئلہ میں قاعدہ یا ضابطہ یہ ہے کہ اگر جنین کی تخلیق ہو چکی ہو تو خون ، خون نفاس ہے ، اور اگر جنین کی خلقت ظاہر نہیں ہوئی تو یہ خون ، خوان نفاس نہیں ہے ، اور جب خون نفاس کا ہو تو عورت پر وہ تمام چیزیں حرام ہوں گی جو نفاس والی عورت پر حرام ہوتی ہیں ، اور جب خون نفاس کا نہ ہو تو اس پر وہ چیز یں حرام نہ ہوں گی ۔
(محمد بن صالح العثمین رحمہ اللہ )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔