مضمون کے اہم نکات
ارکانِ خمسہ جن پر اسلام کی بنیاد ہے۔ ان میں سے ایک رکن حج بھی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے وسعت دی اور آمد ورفت کا خرچ اس کے پاس ہو اور گھروالوں کا خرچ بآسانی موجود ہو، بموجب فرمان الٰہی:
وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا (3/ آل عمران: 97)
’’اس پر اللہ تعالی کے گھر کی طرف سفر فرض ہے، کوشش ضروری ہے اور نتائج کا انحصار اللہ تعالی پر ہے۔”

ایک صاحبِ استطاعت کوشش کرتا ہے لیکن کامیاب نہیں ہوتا تو وہ موردِ عتاب نہیں، عتاب ان لوگوں پر ہے جن کو توفیق میسر ہے لیکن مال کے کم ہو جانے کا خیال ہے۔
صحتِ نیت
جانے سے پہلے نیت صحیح کر لینی چاہیے کہ فریضہ الٰہیہ کے لیے جا رہا ہوں، نہ ریا مقصود ہے، نہ حاجی صاحب کہلانے کا خیال محض رضائے الٰہی مطلوب ہے۔ اللہ تعالی ایسے لوگوں کی سعی قبول فرمائے۔ (آمین ثم آمین )
✔ یہ مضمون بھی ملاحظہ کریں: حج کا مسنون طریقہ مختصر اور تصاویر کی مدد سے سمجھیں
حج مبرور
صحیحین میں ہے:((عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سُنلَ رَسُولُ الله ﷺ ایى الأعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ إِيْمَانُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ قَیلَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ جِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَیلَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ حَج مَبْرُورٌ( وَفِي رَوَايَةِ الْبيَهقي وَالْحَاكِم مُخْتَصَرًا) قَالَ الْحَج الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءُ إِلَّا الْجَنَّةَ قَیلَ وَمَا برةَ قَالَ إِطْعَامُ الطَّعَامِ وَطِيِّبُ الْكَلَامِ)) (بخاری، کتاب الحج: 381/3، حدیث: 1519)
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں آنحضرتﷺ سے سوال کیا گیا کہ کون سے اعمال افضل و بہتر ہیں؟ آپ فرماتے ہیں سب سے افضل اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ سائل نے سوال کیا پھر کون سا آپ ﷺ فرماتے ہیں جہاد، سائل نے پھر پوچھا پھر کون سا عمل؟ آپ ﷺ فرماتے ہیں: حج مبرور۔ حج مبرور کی آپ خود ہی تفسیر فرماتے ہیں کہ وہ حج ہے جس میں مروت و احسان کیا جائے۔ لوگوں کو کھانا کھلایا جائے اور جھگڑا وغیرہ چھوڑ کر عمدہ کلام سے معاملات نپٹائے جائیں۔
حجاج کرام پر شیطانی حملے
حج میں خصوصاً شیطان اپنے لاؤ لشکر لے کر حاجی کو غیر شرعی باتوں پر اکساتا ہے کہیں بوٹی پر جھگڑا، کہیں روٹی پر کہیں پانی پر معمولی باتوں پر تحریص ورغبت دلاتا ہے۔ خدا تعالی نے اسی لیے خصوصا ارشاد فرمایا:
وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ ( 12 البقرة: 1197)
’’کہ حج میں جھگڑا، دنگا فساد سے اجتناب کرنا چاہیے ورنہ حج ’حج مبرور‘ نہ ہوگا،‘‘
(2) ابن ماجہ، ابن خزیمہ، ابن حبان میں منقول ہے:
( عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ مَعَ الْحُجَّاج وَالْعُمَّارُ وَفدُ اللَّهِ إِنْ دَعَوْهُ أَجَابَهُمْ وَإِنْ اسْتَغْفَرُوهُ غفَرَلَهُمْ)( ابن ماجه كتاب المناسك باب فضل دعاء الحجاج حدیث 2892، صحيح سنن ابن ماجه للألبانی 2/149 صحیح ابن حبان: 3684/6)
رسول اللہﷺ فرماتے ہیں حج اور عمرہ کرنے والے اللہ تعالی کی جماعت ہیں۔ ان کا امتیازی نشان یہ ہے کہ اگر اپنے مالک سے کسی قسم کی دعا کریں تو اسے شرف قبولیت حاصل ہوتا ہے، اگر مغفرت چاہیں تو انہیں معاف کر دیتا ہے۔
حج کی فضیلت
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جس نے حج کیا اور وہ تمام قسم کے جھگڑوں اور گناہ کے کاموں سے بچا رہا وہ اس طرح لوٹے گا جیسے اسے ابھی اس کی والدہ نے جنا ہے۔ یعنی گناہوں سے بالکل پاک و صاف۔ (بخاری کتاب الحج 382/3، حدیث 1521)
پاکیزہ مال کی ضرورت
(إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طيبا)
(صحيح مسلم، كتاب الزكوة، باب قبول الصدقة من الكسب الطيب وتربيتها، 2442، (101/7) مع شرح النووى)
اللہ تعالی خود طیب ہے، طیب کو ہی قبول کرتا ہے۔
طبرانی ؒ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ” جب آدمی پاکیزہ زاد سفر کے ساتھ حج کے لیے نکلتا ہے اور اپنا پاؤں سواری کے رکاب میں رکھ کر لبیک پکارتا ہے تو اس کو آسمان سے پکارنے والا جواب دیتا ہے، تیری لبیک قبول اور رحمت انہی تجھ پر نازل ہو، تیرا توشہ حلال اور تیری سواری حلال اور تیرا حج مقبول ہے اور تو گناہوں سے پاک ہے، اور جب آدمی حرام کمائی کے ساتھ حج کے لیے نکلتا ہے اور سواری کے رکاب میں پاؤں رکھ کر لبیک پکارتا ہے تو آسمان سے منادی کرنے والا جواب دیتا ہے، تیری لبیک قبول نہیں، نہ تجھ پراللہ کی رحمت ہو، تیرا زادِ سفر حرام، تیری کمائی حرام اور تیرا حج غیرمقبول ہے۔(أحكام الحج والعمرة، الشيخ ابن باز ص 43)
جانے سے پہلے عمدہ صاف مال لے کر اس سفر کو اختیار کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صالح عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
گھر سے نکلتے وقت
جب حاجی سفر کی تیاری میں اپنا رختِ سفر باندھے تو گھر سے نکلنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھے۔ اس سے سفری تکالیف سے اللہ تعالی محفوظ رکھے گا۔ بیہقی ابن عساکر اور دیلمی میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ آنحضورﷺ پر فرماتے ہیں۔ جب سفر حج میں جانے کا ارادہ کرے تو اپنے بھائیوں کے لیے جو مقیم ہیں الوداع کرتے وقت دعا کرے۔ اللہ تعالیٰ اس کی دعا میں برکت کرے گا اور حاجی مسافر کے لیے اس کے بھائی دعا کریں۔
مسنون دعا یہ ہے۔
(زوَّدَكَ اللهُ التَّقْوى وَعَفَرَلَكَ ذَنبكَ وَبَشَرَلَكَ الْخَيْرَ حَيْثُ مَا كُنتَ.)
(ترمذی، باب ما يقول، اذا اودع انساناً 2/ 180)
’’بھائی ! اللہ تعالی تقویٰ کو تیرا زاد راہ بنائے اور تیرے گناہ معاف کرے اور تمام بھلائی کی سہولتیں جہاں بھی آپ ہوں میسرو مہیا فرمائے ‘‘
اور خود حاجی صاحب اپنے مالک سے نہایت عجز و انکسار سے کہے:
(اللهم انتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلیفةُ فِي الأهلِ وَالْمَالِ اللَّهُمَّ اصْحَبُنَا فِي سَفَرِنَا هَذَا وَاخْلُفْنَا فِي أهْلِنَا اللهُم إلى أعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْتَاءِ السَّفَرِ وَكَابَةِ الْمُنقَلبِ وَمِنْ سُوءِ الْمُنظَرِ وفِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ)
(ترمذی، باب ماذا يقول إذا خرج مسافرا 1/218)
اے میرے مالک تو ہی میرے سفر میں میرا ساتھی ہے اور تو ہی میرے اہل و مال میں ( نگہبان ) خلیفہ ہے تو ہی سفر میں ہمارا ساتھ دے اور تو ہی ہمارے اہل میں ( نگہبان ) خلیفہ ہو، اے میرے مالک! میں سفر کی صعوبتوں سے تیری ذات کی پناہ چاہتا ہوں۔ نفع کے بعد نقصان سے پناہ چاہتا ہوں، اپنے اہل و مال میں برے منظر سے بھی پناہ چاہتا ہوں۔“
یہ دعا کرے ان شاء اللہ سفر اچھا گزرے گا۔ ناخوشگوار واقعہ بفضلہ تعالی پیش نہیں آئے گا۔
ایک اور بھی مختصر دعا منقول ہے۔
(اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا، وَاطْوِ عَنْا بُعْدَهُ).
(صحيح مسلم، کتاب الحج، باب ما يقول إذا ركب إلى سفر الحج وغيره، برقم 3262، 115/9)
اے میرے مالک میں اس سفر مبارک میں نیکی اور تقویٰ کا سائل ہوں اور تیرے پسندیدہ اعمال کی توفیق تجھ سے مانگتا ہوں اے میرے مالک سفر کی تمام صعوبتوں کو مجھ پر آسان کر دے اور سفر کی دوری کو لپیٹ کر مختصر بنا دے۔”
یہ تمام دعائیں آنحضور ﷺ سے منقول ہیں۔ ان کے پڑھنے سے سفر با برکت ہوگا۔
جب سواری پر چڑھے خواہ ریل گاڑی ہو یا جہاز تو یہ دعا مسنون ہے
سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ(43/ الزخرف: 13)
بِسْمِ اللَّهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا ۚ إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ(11/ هود: 41)
اس دعا مسنون کے بعد ان شاء اللہ نقصان سے محفوظ رہے گا۔
رفقاء سے معاونت
جب سفر شروع ہو جائے تو اپنے رفقاء سے حسن سلوک اور اچھا برتاؤ کرے، رفیق کی گری پر نرمی اختیار کرے، غریب بوڑھے اور عورتوں کے ساتھ اچھے سلوک اور معاونت سے پیش آئے۔ جس طرح یہ جماعت الٰہی بیت اللہ کی طرف جارہی ہے اسی طرح العین ابدی اپنے چیلے ان کے ساتھ بھیجتا ہے جو آپس میں فتنہ و فساد شرکے لیے شدت سے کوشاں ہوتے ہیں۔ برائی کی طرف رغبت دیتے ہیں اور خیر کے کاموں میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ سعادت مند وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے اور اپنی کوشش جاری رکھے تا کہ فتنہ وفساد سے احتراز ہو۔
قصرِ صلوٰۃ
سفر میں نماز کو قصر کر کے پڑھنا زیادہ ثواب ہے۔ قصرِ صلوٰۃ کے متعلق آپ ﷺ نے فرمایا:
(صَدَقَةٌ مِنَ اللهِ فَاقْتِلُوا صَدَقَتَهُ) (مسند احمد 1/ 15)
اللہ کا آپ پر احسان عظیم ہے اس کے احسان کو قبول کرو محنت کم اجر زیادہ اللہ کی رضا، اطاعت پیغمبر میں ہے۔”
جس جگہ اقامت اختیار کی جائے تین دن سے زیادہ اقامت کا ارادہ ہوتو وہاں جاتے ہی پوری نماز پڑھنی چاہیے۔(موطأ امام مالک ص: 132)
قصرِ صلوٰۃ میں جہاں چار رکعت پڑھنی فرض ہیں وہاں دو رکعت پڑھے۔ مثلاً ظہر، عصر، عشاء، ہاں اگر امام کے پیچھے ہو تو امام کی اقتدا ضروری ہے۔ جتنی رکعتیں امام پڑھنے اتنی ہی رکعتیں اسے پڑھنی اطاعت امام کے تحت لازمی ہوں گی۔ سفر میں سننِ مؤکدہ معاف ہیں وتر اور صبح کی سنت آنحضورﷺ سفر و حضر میں ترک نہیں کرتے تھے۔
اقسامِ حج
حج تین طرح سے منقول ہے۔ قران،تمتع اور مفرد حج
قران
میقات سے گزرتے وقت حج اور عمرہ کا اکٹھا احرام باندھنا اور دسویں ذی الحجہ کو حلال ہوا اسے قران کہتے ہیں اور کرنے والے کو’’ قارن‘‘ کہتے ہیں۔
تمتع
میقات سے گزرتے وقت صرف عمرہ کا احرام باندھنا اور عمرہ کر کے حلال ہو جاتا اور آٹھ ذی الحجہ کو دوبارہ صرف حج کا احرام باندھنا اور دسویں ذی الحجہ کو منی کے مقام میں حلال ہو جانا اسے حج تمتع کہتے ہیں اور یہ عمل کرنے والا تمتع کہلاتا ہے۔
نوٹ۔ احرام میقات گزرنے سے پہلے باندھنا ضروری ہے۔
مفرد حج
میقات سے صرف حج کا احرام باندھنا اور دسویں ذی الحجہ مقام منی میں قربانی کے بعد احرام کھولنے کو محض حج کہتے ہیں اور کرنے والے کو مفرد بالحج یا حاجی کہتے ہیں۔ پاکستانی اور ہندوستانی ہی نہیں بلکہ کل دنیا کے لوگوں کو سہولت تمتع میں ہے کیونکہ احرام کے بعد عمرہ کر کے اس کے لیے سب حلال شدہ چیزیں جو احرام کی وجہ سے حرام تھیں حلال ہو جاتی ہیں۔ اور آدمی با سہولت خوشبو لگا سکتا، لباس زیب تن کر سکتا ہے ممانعت نہیں اور عموما محدثین کا خیال یہ ہے کہ تمتع، قران اور اکیلے حج سے افضل ہے۔ چونکہ
قربانی ساتھ لائے تو اس لئے ان کے لیے قارن رہنا بھی ضروری تھا ورنہ ممکن تھا کہ آپ بھی تمتع کرتے جس طرح کہ:
( لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِى مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدِيتُ )
(اگر مجھے پہلے معلوم ہو جاتا جو بعد میں معلوم ہوا تو میں قربانی ساتھ نہ لاتا) کا تقاضا ہے وَالْعِلْمُ عِندَ اللهِ (صحیح سنن ابی داؤد للألبانی 1/357، 1676)
طریقۂ احرام
ہمارے پاکستانی، ہندوستانی بھائیوں کے لیے میقات ’’یلملم ‘‘ پہاڑی ہے۔ میقات اسے کہتے ہیں جس سے آگے حاجی کو بغیر احرام کے نہیں جانا چاہیے۔ جہاز پر سفر کرنے والوں کو پہلے اطلاع دے دی جاتی ہے کہ فلاں وقت یلملم پہاڑی کے قریب جہاز گزرے گا۔ اس لئے انہیں ضروری ہے کہ قبل از وقت غسل کر لیں اور خوشبو لگا لیں اور دو چادریں، ایک تہ بند کی شکل میں اور دوسری چادر کندھوں پر اوڑھ لیں، سر ننگا رکھیں، جراب، دستانے، کرتہ، پاجامہ وغیرہ پہنے درست نہیں۔ ان سلی چادروں کی قید شرع محمدی میں کہیں نہیں ملتی۔ ہوائی جہاز پر سوار ہونے والے کراچی سے احرام باندھ لیں کیونکہ انہیں میقات کا علم مشکل ہے۔
✔ یہ مضمون بھی ملاحظہ کریں: عمرہ کا مکمل طریقہ قرآن و حدیث کی روشنی میں
عورت کا احرام
اچھے کپڑے اتار کر غسل کرے، پھر عام لباس، شلوار، کرتے اور اوڑھنی پہن لے اور کپڑے احرام والے ( مرد وعورت ) پہن کر، اگر وقت ہو تو کوئی فرض نماز ادا کریں اور پھر کہیں:
لبيك اللهم لبيكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ والنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِلهَ الحَقِّ لَبَّيْكَ.
(بخاری، کتاب الحج 408/3 حدیث 1549، مسلم 1/ 375 باب التلبية وصفتها)
اے میرے مالک! غلام حاضر ہے ( آپ کے گھر کی زیارت کے لیے ) اے میرے مالک غلام حاضر ہے اور اقرار کرتا ہے کہ تو اپنی مملکت میں ذات وصفات میں یکتا وحدہ لاشریک ہے۔ تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے ہی لئے ہیں۔ بادشاہی تیری، ملک تیرا، تیرا کوئی ثانی نہیں۔ غلام حاضر ہے اور اے میرے سچے معبود! غلام حاضر ہے۔ (اسے شرف قبولیت عطا فرما)جس خوش بخت کی نیت تمتع کی ہو وہ محض عمرہ کا احرام باندھے اور جب تلبیہ یعنی لبیک کہے تو پہلی دفعہ کہے:
(لبیك عُمْرَةٌ لبیكَ عُمْرَةً حَجا)
(مسند احمد (100/3)
جس طرح اوپر گزر چکا ہے اور جب بیت اللہ پہنچے گا تو تلبیہ ختم ہوگا۔ راستے میں کبھی اللہ اکبر کبھی لا الهَ إِلَّا اللہ پڑھے۔ کوئی مضائقہ نہیں۔ آنحضور ﷺ کی موجودگی میں اس طرح پڑ ھا جاتا تھا۔
ممنوعاتِ احرام
حالتِ احرام میں کرتہ قمیض، شلوار، کوٹ، ٹوپی وغیرہ جبکہ دستانے، جراب، خوشبو ممنوع ہیں۔ زعفرانی کپڑا زعفران اور کستوری لگانا ممنوعات میں شامل ہیں۔ نہ بال توڑے نہ جوں مارے ہاں زمین پر پھینک سکتا ہے، غسل کر سکتا ہے، لیکن بال نہ ٹوٹنے پائے تیل لگانے سے احتراز کرے، نہ بال منڈوائے، نہ کنگھی کرے۔ میاں بیوی ہوں تو جنسی تعلقات اور اس کے مقدمات سے احتراز کریں۔ عورتوں کے لیے حالتِ احرام میں چہرہ کھلا رکھنا جائز ہے۔ چہرہ کھلا رکھیں، جب معلوم ہو کہ غیر محرم آ رہے ہیں تو پردہ کریں۔
(بخاری، کتاب الحج 401/3، حدیث 1542، مسلم: 372/1، 373 باب ما پیاح للمحرم، ارواء الغليل: 212/3، حدیث: 1023، 1024)
عورت پر پردہ واجب ہے
یہ مسئلہ جو مشہور ہے کہ عورت سر پر کوئی ٹوکری وغیرہ یا پنکھی باندھ لے۔ جس سے منہ پر کپڑا نہ لگے کہیں ثابت نہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کو گئی تھیں فرماتی ہیں جب ہمیں معلوم ہوتا کہ غیر محرم آ رہے ہیں تو ہم اپنا چہرہ ڈھانپ لیتیں اور جب چلے جاتے تو چہرہ کھول لیتیں۔
(ارواء الغليل 212/3 حج 1023، 1024)
چہرے پر ہمیشہ کپڑا رکھنا اور اسے ڈھانپے رکھنا خلافِ سنت ہے۔ بے حجابی کسی جگہ بھی اللہ تعالی کو پسند نہیں۔ خصوصا ایسے سفر میں غیر شرعی کام نہیں چاہیے۔ عموما لوگوں میں مشہور ہے کہ حاجی بھائی بہن ہیں اس لئے پردہ کی ضرورت نہیں، یہ بھی غیر شرعی قول و فعل ہے اللہ تعالی محفوظ رکھے۔
موذی جانور کا قتل
محرم موذی جانور، مثلا، سانپ، بچھو، چوہا، کوا، چیل، باؤلا کتا، بھیڑ یا وغیرہ جو موذی ہوں، مار سکتا ہے۔ تا کہ اس کے شر سے لوگ محفوظ رہ سکیں۔ اسی طرح حملہ آور جانور یا آدمی اس کی مدافعت کر سکتا ہے۔ شرعاً جرم نہیں۔
(بخاری، کتاب جزء الصيد 35/4، حدیث 1829،30، مسلم 381/1، باب ما يندب للمحرم وغيره قتله ارواء الغليل 221/3، حدیث 1036. مناسك الحج شيخ الاسلام ابن تيميه)
مکہ کے حرم میں داخل ہوتے وقت کوئی دعا مسنون میری نظر سے نہیں گزری متداول کتب کی چھان بین سے یہی پتہ چلتا ہے۔
مکہ میں داخل ہونے سے پہلے جس جگہ سے آبادی شروع ہوتی ہے وہاں ایک کنواں ہے جسے ’’بئرِ ذی طویٰ ‘‘ کہا جاتا ہے آج کل زاہر کے نام سے مشہور ہے یہ جدہ سے آتے بائیں جانب ہے وہاں غسل کرنا مسنون امر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے غسل کیا تھا۔
(بخاری کتاب الحج 2/ 435 حدیث 1573، مسلم 410/1، باب استحباب المبيت بنی طوی)
پھر وہاں سے معلی کی جانب سے بیت الحرام کے دروازہ باب السلام سے داخل ہونا چاہیے اور سیدھے بیت اللہ المکرم کو آئے اور جب بیت اللہ شریف پر پہلی نظر پڑے تو یہ دعا پڑھے جیسا کہ :۔ ابن جریر نے نقل کیا ہے:
(كَانَ إِذْ راى الْبَيْتَ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ زِدْهَدًا البيت الشرِيقًا وَتَعْظِيمًا وَتَكْرِيمًا وَمَهَابَةٌ وَبِرًّا وَّرَدْ مَنْ شرقة وكَرَّمَهُ مِمَّنْ حَجَّهُ أَوِ اعْتَمَرَهُ تَشْرِيقًا وَتَعْظِيمًا.)
(السنن الكبرى للبيهقي (73/5))
آنحضورﷺ جب بیت اللہ شریف کو دیکھتے وہ دونوں ہاتھ اٹھاتے اور یہ دعا پڑھتے۔ اے میرے مالک اس عظیم گھر کی شرافت کرامت، عظمت اور ہیبت میں زیادتی فرما اور جس خوش نصیب نے اس برکت والے گھر کی عظمت اور شرافت کو برقرار رکھتے ہوئے حج کیا یا عمرہ کیا اس کی شرافت و عظمت میں تو اضافہ فرما۔
بیت اللہ میں تحیۃ المسجد
بیت الحرام میں داخل ہوتے تحیۃ المسجد دو رکعت پڑھنی ثابت نہیں ہے۔ سب سے پہلا عمل طوافِ بیت اللہ ہے۔ سیدھا حجرِ اسود کی طرف پہنچے اور اگر بآسانی بوسہ دیا جا سکے تو بوسہ دے یا ہاتھ لگا یا جا سکے تو ہاتھ لگالے ( اور ہاتھ کو بوسہ دے دے)
ورنہ مزاحمت بھیڑ میں داخل ہو کر دھکا پیل کرنا گناہ ہے۔
قَالَ ابْنُ عَوْفٍ سَمِعْتُ رَجُلًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ الله و العمر يا أَبَا حَفْصٍ إِنَّ فِيْكَ فَضْلُ قُوَّةٍ فَلَا نُودِ الضَّعِيفَ إِذَا رَأَيْتَ الرُّكْنَ حَلْدًا فَاسْتَلِمُ وَإِلَّا كَبِرُ فَامُضِ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ لِرَجُلٍ لَا تُوْدِ الرَّجُلَ بِفَضْلٍ فونك
(موطأ امام مالک، مسند احمد، 351/2، مصنف این ابی شیبه 136/5 الروضة النديه 261/1)
رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرمایا اے ابو حفص ! اللہ تعالی نے تجھے قوت کی زیادتی سے مالا مال کیا ہے کمزور آدمی کو تکلیف مت پہنچانا۔ اگر حجرِ اسود کی موضع میں بھیڑ نہ ہو خالی ہو تو بوسہ وغیرہ دے دینا ورنہ اللہ اکبر کہ کر وہاں سے گزر جانا ( بعض جگہ اشارہ بھی آیا ہے ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح ایک قوی ھیکل شکل کو کہہ رہے تھے کہ اپنی قوت کے بل بوتے پر لوگوں کومت دھکیلو ( یہی ثواب ہے ) دھکم پیل کر کے حجرِ اسود کی طرف جانا کوئی کار خیر نہیں ہے۔
اضطباع
طواف کے وقت احرام کیسا ہو؟
اپنی احرام والی چادر جو کندھے پر ہے اسے اپنی ایک جانب بغل کے نیچے کر لینا اور دایاں کندھا ننگا رکھنا اور اس حصہ کی چادر کو بائیں جانب ڈالنا ’’اضطباع‘‘ کہلاتا ہے۔
( صحیح سنن ابی داؤد للألبانی 1/354، 1889)
یہ پہلے طواف میں مسنون ہے اس کے بعد جتنے طواف ہوں اس میں ایسا کرنا مسنون نہیں۔ جب حجرِ اسود کو بوسہ دے یا ہاتھ لگائے تو پڑھے:
بسم الله الله اكبر
اگر ساتھ اس دعا کا اضافہ کرے تو بہت ہی اچھا ہے:
اللهُمَّ إِيمَاناً بكَ وَتَصْدِيقًا بِكِتَابِكَ وَوَقَاهُ بِعَهْدِكَ وَالْبَاعًا لِسُنَّةِ نَبِيَّكَ مُحَمَّدٍ ﷺ
(أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط رقم 488)
اے میرے حقیقی مالک تیری ذات کے ساتھ یقین کرتے ہوئے اور تیری بھیجی ہوئی کتاب کی تصدیق اور تیرے عہد کو پورا کرتے ہوئے اور پیغمبر کی سنت کی اتباع میں سارا کام کر رہا ہوں۔ ( یعنی تو قبول فرما) اگر بوسہ دینا یا ہاتھ لگانا بھیڑ کی وجہ سے ممکن نہ ہو تو حجرِ اسود کے سامنے کھڑا ہو کر اشارہ کر کے بسم الله اللہ اکبر کہ لے اور آگے چلے۔
بیت اللہ بائیں رہے
بوسہ کے بعد حجرِ اسود سے دروازہ کی طرف پہلے تین چکر آہستہ آہستہ دوڑتے ہوئے بیت اللہ کا چکر لگائے اور باقی چار آہستہ چلتے ہوئے مکمل کرے اور رکنِ یمانی کو صرف اللہ اکبر کہہ کر ہی ہاتھ لگانا ہے۔
( صحیح سنن ابی داؤد للألبانی 1/354، 1876)
رکنِ یمانی کا بوسہ ثابت نہیں
رکنِ یمانی کو بوسہ دینا مسنون نہیں، یہ دعا کی قبولیت کی جگہ ہے رکنِ یمانی اور حجرِ اسود کے درمیان یہ دعا مسنون ہے۔
ربَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
(الروضة الندية (29)
یہ آہستہ دوڑ پہلے تین چکروں میں حجرِ اسود سے حجرِ اسود تک مسنون ہے۔ باقی چار چکروں میں مسنون نہیں سات چکر لگانے سے ایک طواف پورا ہوتا ہے۔
عورت نہ دوڑے
طواف اور سعی بین الصفاء العروۃ میں عورتوں کے لیے دوڑنا درست نہیں، اس لئے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عورتوں کے لیے بیت اللہ کے گرد اور صفا و مروہ کے چکروں میں دوڑ نا درست نہیں، ایسی ہی روایت حضرت عائشہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ (السنن الکبری لمبیعی 13/5 )
طواف کے درمیان اور کوئی دعا سنت سے ثابت نہیں محض معلمین نے ایک مہارنی بنائی ہے جسے مسنون ہونے کا دور کا بھی تعلق نہیں۔ درمیانی وقفہ میں دوران طواف تسبیح و تہلیل یا اور اذکار بھی کر سکتا ہے۔ ہاں ایک حاکم کی روایت ہے اس میں ایک دعا منقول ہے:
اللهم قبعنِي بِمَا رَزَقْتَنِي وَبَارِكْ لِي فِيهِ وَاخْلُفْ على كل غائبة بخير. (الروضة الندية (29)
(اے میرے معبود تو نے مجھے عطا کیا ہے اس پر قناعت کرنے کی توفیق عطا فرما اور اسی میں میرے لئے برکت کے دروازے کھول دے اور تو ہی میرا صحیح خلیفہ بن۔)
مصنف ابن ابی شیبہ بحوالہ الروضۃ الندیہ میں لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلَّ شَيءٍ قدير بھی دوران طواف پڑھنا ثابت ہے۔ اگر تلاوت قرآن مجید اور تسبیح و تہلیل کرے تو بھی درست ہو گا۔( الروضة الندية 261/1 مصنف ابن ابی هیمیه 51/5)
طواف باوضو ہوکر کیا جائے
طوافِ بیت اللہ کا بلا وضو درست نہیں، یا وضو کرے۔ اگر عورت حائضہ ہو، ولادت کا خون جسے’’ نفاس‘‘ کہتے ہیں اس میں مبتلا ہو تو بیت اللہ میں داخل نہیں ہو سکتی اور اپنا طواف عمرہ مؤخر کر لے جب فارغ ہو جائے تب کر لے۔
( بخاری، کتاب الحج 3/ 496، حدیث 1931 مسلم 385/1، باب استحباب الرمل، ارواء الغلیل 3/291، حدیث 1093)
اگر احرام کے وقت حائضہ ہو تو احرام باندھ لے اور فرض نماز کا وقت ہو تو ادا نہ کرے، باقی اذکار لبیک وغیرہ کہتی رہے اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔
طواف کے بعد کیا کہے
جب سات چکر بیت اللہ کے ختم ہو جا ئیں تو مقامِ ابراہیم پر دو رکعت ادا کرے مسنون امر یہی ہے اگر ازدحام ہو تو کچھ وقفہ کے بعد وقت مل جاتا ہے۔
( بخاری، کتاب الحج 487/3، حدیث 1627 ارواء الغلیل 203/3)
دو رکعت نفل سے فارغ ہو کر دعا میں مشغول ہو، کیونکہ یہ قبولیت دعا کا مقام ہے اور ان دو رکعت میں فاتحہ کے بعد پہلی رکعت میں سورۃ الکافرون اور دوسری رکعت میں سورۃ الاخلاص مسنون ہے۔ (مسند بزار، اسنن الکبری للمتقی 11/5)
بحوالہ مناسک محمد بن اسماعیل صاحب، دورکعت سے فارغ ہو کر حجرِ اسود کی طرف رجوع کر کے اگر یوں ممکن ہو یا ہاتھ لگا سکتا ہو یا چھٹری وغیرہ سے چھو سکتا تو کرے اور ہاتھ یا چھٹی کو بوسہ دے ور نہ صرف تکبیر یا اشارہ کافی ہوگا۔
صفا و مروۃ کی سعی
پھر باب الصفا سے باہر نکلے سامنے صفا پہاڑی ہے لیکن آج کل پہاڑی صفا مروہ دونوں صاف کر دی گئی ہیں اور ان دونوں کے درمیان سعی کا رستہ بنا دیا گیا ہے اور آخر میں پہاڑی کا معمولی نشان موجود ہے۔ کوشش کرے کہ صفا کے اوپر چڑھ کر جہاں سے بیت اللہ نظر آئے وہاں کھڑا ہو کر مندرجہ ذیل دعا پڑھے، پھر جو کوئی دعا بھی کرنا چاہے کرے پھر یہی مذکورہ دعا ئیں دہرائے بعدازاں حسب منشا دعا کرے۔ تیسری مرتبہ پھر دعائیں دہرائے اور پھر آخر میں دعا کرے۔ یہ دعا ئیں دہرانے کا عمل تین مرتبہ ہونا چاہیے۔
( صحیح سنن ابی داؤد للألبانی 1/357، 1872)
لا إله إلا الله الله اكبرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ. لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ أَنْجَرَ وَعَدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الأحزاب وحده. (سنن ابی داؤد للألبانی 1/357، 1905)
یہ کلمات تین دفعہ کہے پھر جو چاہے دعا کرے، مقام قبولیت ہے۔
عن نافع انَّهُ سَمِعَ عَبْدَاللَّهِ ابْنِ عُمَرَ وَهُوَ عَلَى الصَّفَا يَدْعُو يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ قُلْتَ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ وَإِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ، وَإِلَى اسْتَلْكَ كَمَا هَدَيْتَنِي الإسلام الا تنزعَهُ مِنِى حَتَّى تَتَوَفَّانِي وَأَنَا مُسْلِمٌ.
(موطأ امام مالک ص 391)
(عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ اعَةِ كَانَ إِذْ وَقَفَ عَلَى الصَّفَا يكبر ثلاثا وَيَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ. فَمُلْكُ ولهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، يَصْنَعُ ذَلِكَ ثلاث مَرَّاتٍ وَيَدْعُو وَيَصْنَعُ عَلَى الْمَرْوَةِ مِثْلَ ذَالِكَ).
( سنن النسائي، مناسك الحج، باب التكبير، على الصفا 2972، 265/5)
حضرت نافع ؒ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو صفا پہاڑی پر چڑھتے ہوئے یہ دعا کرتے سنا:
اے میرے اللہ ! آپ نے فرمایا ہے کہ تم دعا کرو میں قبول کروں گا۔ آپ کے تمام وعدے درست ہیں، آپ وعدہ خلافی، نہیں کرتے، آپ سے سوال کرتا ہوں کہ جب آپ نے مجھے اسلام کی نعمت سے نوازا ہے موت تک اسی حالت میں رکھنا، اسلام پر ہی وفات ہو۔”
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب صفا پر ٹھرتے تو تین دفعہ اللہ اکبر کہتے اور لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلَّ شَيْءٍ قَدِيرٌ پڑھتے یہ تین مرتبہ کرتے اور دعائیں مانگتے اور اسی طرح مروہ پر دعائیں پڑھتے۔ (موطأ امام مالک، باب البدء بالصفافي السعي ص 391)
نیز سعی میں باوضو ہونا شرط نہیں افضل ہے۔
سبز نشانات کے درمیان دوڑنا
پھر وہاں سے اتر کر چلے دونوں پہاڑیوں، صفا و مروہ کے درمیان سبز رنگ کے نشانات لگے ہوئے ہیں ان نشانات کے در میان متوسط درجہ کا دوڑنا مسنون امر ہے یہ دونوں نشان صفا و مروہ کی حدود میں شامل ہیں ان کے درمیان ہی تمام کو دوڑنا چاہیے۔ (صحیح سنن ابی داؤد للألبانی 1/357 – 1676)
حضرت ہاجرہرضی اللہ عنہ کی سنت ہے اگر استطاعت نہ ہو تو اپنے معمول کے مطابق چل سکتا ہے مروہ پہاڑی پر چڑھ کر رو بقبلہ ہو کر تکبیر وتحلیل پڑھے اور جس طرح صفا پہاڑی پر دعائیں کی ہیں اسی طرح مروہ پر کرے، یہ ایک چکر مکمل ہو گیا، پھر مروہ سے صفا کی طرف جانا اور سبز رنگ کے میلوں ( نشانات ) کے درمیان متوسط درجہ کا دوڑنا اور میل ( نشان ) کے آگے چل کر صفا پر اس طرح چڑھنا اور دعائیں کرنی ہیں یہ دو چکر ہو گئے۔
صفا مروہ کا چکر کب مکمل ہوتا ہے
اسی طرح سات چکر لگانے سے بھی مکمل ہو گئی۔ آخر چکر مروہ پر ہوگا اور اب طواف وسعی مکمل ہونے کے بعد عمرہ پورا ہو گیا۔
مروہ پر قینچی والوں سے بچیں
صفا مروہ کی سعی مکمل ہونے پر اکثر دیکھا جاتا ہے کہ لوگ قینچیاں لے کر کھڑے ہوتے ہیں اور حجاج کرام لاعلمی اور اپنی سہولت کی خاطر ان سے قینچی لے کر سر کے آگے سے، اطراف اور گدی کے پاس سے تھوڑے سے بال کاٹ کر حلال ہو جاتے ہیں۔ یہ طریقہ درست نہیں ہے۔ مسنون یہ ہے کہ پورے سر سے ایسے بال کاٹے (قصر کرے) کہ کوئی ایسا حصہ نہ ہو جہاں سے بال نہ کاٹے جائیں۔ پھر حج پر سر منڈائے۔ البتہ صرف عمرے والے کے لیے افضل ہے کہ حلق (سرمنڈانا) کرائے۔
یہی مسنون طریقہ ہے بعض حج تمتع کرنے والے بھی عمرے پر سر منڈوا لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ افضل ہے جبکہ ان کے حق میں یہ افضل نہیں ہے۔ بلکہ مذکورہ طریقہ ہی افضل ہے۔ عورت سر کی چونٹی سے تھوڑے سے بال کاٹ کر حلال ہوسکتی ہے ۔(ارواء الغليل 4/ 283 حدیث (1083)
چکر سات یا چوده
دیکھنے میں آتا ہے کہ بعض لوگ صفا سے شروع کر کے مروہ اور وہاں سے واپس صفا آکر ایک چکر شمار کرتے ہیں جبکہ حقیقت میں یہ دو چکر ہیں بعض اہل علم بھی غلطی سے سات کی بجائے چودہ چکر لگا لیتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ صفا سے مروہ تک ایک، پھر مروہ سے صفا تک دو، اور اسی طرح سات چکر ( شوط ) شمار کئے جائیں، آخری چکر مروہ پرختم ہو گا۔
بال کیسے کاٹے
اب تمتع کرنے والا حجامت بنوالے اور کپڑے پہن لے عورت بالوں کا کچھ حصہ آخر سے کاٹ لے، اسی پر عمرہ مکمل ہو گیا۔ متمتع کی تمام اشیاء جو احرام کی وجہ سے ناجائز تھیں۔ اب اجازت ہے خوشبو استعمال کرنی جائز ہے اور قارن بس نے حج اور عمرہ کا اکٹھا احرام باندھا ہے عمرہ اس کا پورا ہو گیا لیکن وہ محرم ہی رہے گا اس کے لیے حلال ہونے کا دن دس ذی الحجہ قربانی کے بعد ہوگا اور صرف حج کرنے والے کے لیے یہ طواف قدوم ہو گا اس کی روانگی کا دن بھی دس ذی الحجہ بعد قربانی ہوگا۔
حج اور طریق حج
آٹھ ذی الحجہ حسب سابق غسل کر کے دورکعت نماز ادا کریں اس کے لیے حرم میں آنے کی ضرورت نہیں۔ جس گھر میں مقیم ہو وہاں سے احرام کی دو چادر میں زیب تن کر کے حج کے لیے منی کو روانہ ہوں منی مکہ مکرمہ سے مشرقی جانب تین میل پر ایک مقام ہے۔ آنحضورﷺ کے عہد مبارک میں جنگل ہی تھا آبادی نہیں تھی۔
اسی لئے فرمایا تھا:
مِلَى مُنَاعٌ مَنْ سَبَقَ
منی میں جو پہلے جا کر جس جگہ کا تعین کرلے اس کی ٹھرنے کی جگہ ہوئی کسی کو وہاں سے ہٹانے کا حق نہیں اور احرام باندھ کر یہ کلمات کہے:
لبیك بالحج لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الحمد والنعمة لك والْمُلْكَ لا شريك لك.(صحیح بخاری، کتاب الحج، باب التلبية 408/2 رقم 1549)
لبیک پانچ صرف ایک ہی دفعہ کہنا کافی ہوگا باقی تلبیہ آہستہ آواز سے چلتے پھرتے نمازوں کے بعد پڑھیں ان الفاظ کے علاوہ ذائد لفظ بھی ہیں۔ لَبيْكَ وَسَعْدَیكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ بِيَدَيْكَ وَالْرَغْبَاءُ وَالْعَمَلُ إِلَيْكَ لَيْكَ اللَّهُم ليك الله اكبر (صحيح مسلم، کتاب الحج، باب التلبية وصفتها و وقتها 228/8، رقم (2802) کبھی یہ پڑھ لیں۔
اور کبھی لا إله إلا الله يا سبحان اللہ پڑھہ لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
منی سے کب چلے؟
منی میں پانچوں نمازیں پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے اگر کچھ تاخیر مجبوری کے تحت ہو جائے تو کچھ حرج نہیں۔
9 ذی الحجہ کو طلوعِ شمس کے بعد عرفات جانا چاہیے۔ میدان عرفات کے قریب ایک مسجد بنی ہوئی ہے جو عباسی خاندان نے بنوائی تھی۔ آنحضرتﷺ نے پہلے غسل کیا اور پھر اس جگہ آنحظورﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا تھا جو اخلاق و اعمال کا ایک مجسمہ تھا۔ اس کے بعد موذن نے اذان کہی اور ظہر و عصر دونوں نمازیں اکٹھی اول وقت قصر پڑھا ئیں اور تمام نے آپ کے پیچھے قصر ہی پڑھی۔ خواہ مکہ کے رہنے والے ہوں یا باہر سے آنے والے دوران حج منی مزدلفہ عرفات میں نماز قصر ہی کر کے پڑھنی چاہیے۔ یہی آنحضورﷺ کا طریق تھا اور یہی خالفا، رضوان اللہ کا طرز عمل۔ (بخاری، کتاب الحج، 509/3، حدیث 57، 1655)
بعض لوگ کہتے ہیں کہ آنحضورﷺ نے مکہ مکرمہ میں جب نماز پڑھائی تھی تو لوگوں کو حکم فرمایا تھا کہ تم اپنی نماز پوری کر لو ہم تو مسافر ہیں اس لئے قصر کر رہے ہیں۔
اول تو یہ واقعہ فتح مکہ کا ہے، جب حج کو آئے تو آپﷺ نے یہ ارشاد نہیں فرمایا تھا، جیسا کہ کتب حدیث میں واضح ہے۔
(سنن ابی داود، باب متى يتم المسافر، 475/1، رقم 1225، مع عون المعبود)
دوئم: اگر حج کے موقعہ کا واقعہ مان بھی لیا جائے تو بھی اس سے نفی قصر منی عرفات میں نہیں آتی کیونکہ مکی مکہ مکرمہ میں مقیم تھے اس لئے
فرمایا تھا اور جب منی عرفات میں گئے تھے حالانکہ قرب جوار کے بدوی اصحاب بھی جمع تھے تو یہ موقعہ زیادہ اہم تھا کہ فرما دیتے ہم مسافر ہیں۔ تم پوری نماز ادا کرو تو آپ ﷺ نے کسی موقع پر نہیں فرمایا بلکہ تمام صحابه قصر نماز ہی کرتے رہے۔ کسی نے روک ٹوک ! نہیں کی۔ حضرت عثمان ﷺ سے مروی ہے کہ وہ تاویلاا پوری نماز ادا کرتے تھے وہ فضیات کے قائل نہ تھے جواز کے قائل تھے یہی طریق قصرِ صلوٰۃ والا بہتر و افضل ہے اور اسی میں ثواب ہے۔ یہ مسجد ’’ابراہیم‘‘ اور ’’مسجد نمرہ‘‘ دو نام سے پکاری جاتی ہے۔ یہ ایک بہت خوبصورت مسجد ہے، جس کا تقریباً ایک تہائی حصہ ( محراب والا ) وادی نمرہ اور وادی عرنہ میں ہے۔ جبکہ باقی دو تہائی حصہ عرفات میں ہے۔
عرفات میں کب داخل ہو؟
نماز کے فورا بعد میدان عرفات میں داخل ہو جانا چاہیے۔
اس کا حج نہیں ہوا
اگر کسی شخص نے لاعلمی کی وجہ سے اس مسجد میں ہی قیام کر لیا اور میدان عرفات میں نہیں گیا تو اس کا حج نہیں ہو گا۔ یہ قابل غور معاملہ ہے۔ آنحضور ﷺ فرماتے ہیں:
الْحَج عَرَفَةُ الْحَج غرفة (اخرجه النسائي، كتاب المناسك الحج باب فرض الوقوف بعرفة 282/5، 3016)
حج عرفات میں کھڑے ہونے کا ہی نام ہے۔ عموماً حجاج اپنے خیمہ جات میں ڈٹے رہتے ہیں اور مسجد میں نماز پڑھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ان سے خیر کثیر فوت ہو گئی شام تک دعاؤں میں مشغول رہنا چاہیے اور ابتہال تضرع عاجزی سے اپنے مالک سے اپنے جرائم سابقہ پر خط تنسیخ کروانی چاہیے۔ اس دن شیطان بہت ہی حقیر اور ذلیل ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے اور مالک حقیقی اپنے بندوں کے بڑے بڑے جرائم معاف کر دیتا ہے۔ جس طرح آج ہی ماں کے شکم سے پیدا ہوا ہو اور کوئی گناہ نہیں ہے، ایسی ہی ذلت اس لعین کو بدر کے مقام پر ہوئی تھی۔ عرفہ میں بھی انتہائی ذلت ہوتی ہے۔ بے بسی کے عالم میں سر پر خاک ڈالتا ہے اور تاسف کے کلمات الاپتا ہے۔
عرفات: منی مزدلفہ میں حیض والی عورت جا سکتی ہے دعائیں کر سکتی ہے۔ تمام احکام حاجیوں کے ساتھ کرے لیکن نماز نہ پڑھے اور نہ بیت اللہ میں داخل ہو جب پاک ہو جائے تو نماز بھی ادا کرے اور بیت اللہ اور تمام مساجد میں داخل ہو سکتی ہے۔ (بخاری، کتاب الحج، 405/3، حدیث 51، 1650 . مسلم 1/ 386 باب بيان وجوه الاحرام)
آنحضور ﷺ نے جبل رحمت کے پاس پتھروں پر کھڑے ہو کر رو بقبلہ ہو کر عاجزی تفرع سے دعا شروع کی۔ آپ نے اپنے ہاتھ سینے تک اٹھائے ہوئے تھے جیسے کوئی مسکین کھانا مانگ رہا ہے اور یہ کہہ رہے تھے :
اللهم لَكَ الْحَمْدُ كَالَّذِي تَقُولُ وَخَيْرًا مِمَّا يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي وَإِلَيْكَ مَانِي وَلَكَ رَنِي ترَانِي اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَسْوَسَةِ القير وسوسة الصَّدْرِ وَشَعَاتِ الْأَمْرِ اللَّهُمَّ إِنِى أَعُوذُ بِكَ من شر ما تحبى بِهِ الرِّيَاحُ اللَّهُمَّ أَنتَ تَسْمَعُ كَلَامِي وَتَرَى مَكَانِى وَتَعْلَمُ سِرَى وَعَلانیتي لَا يَخْفَى عَلَيْكَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِى وَأَنَا الْبَائِسَ الْفَقِيرُ الْخَائِفُ الْمُسْتَجِيرُ الرجل المنينُ الْمُعْتَرِف بِذَنِي اسْتَلْكَ مَسْتَلَة الْمِسْكِينِ وَابْتَهِلْ إِلَيْكَ إِنْتِهَالَ الْمُذَيبِ الدَّلِيلِ وَادْعُوكَ دعاء الخالفِ الضرِيرِ مَنْ خَضَعَتْ لَكَ رَقَبَلُهُ وَفَاضَتْ لكَ عَيْنَاهُ وَذَلَّ لَكَ جَسَدُهُ وَرَغِمَ لَكَ أنقَهُ اللهم لا تَجْعَلْنِي بِدُعَاءِ كَ شَقِيًّا وَكُنْ بِي رَوفًا رَّحِيمًا يَا خَيْرَ الْمَسْولِينَ يَا خَيْرَ المُعْطِينَاللهم لَكَ الْحَمْدُ كَالَّذِي تَقُولُ وَخَيْرًا مِمَّا يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي وَإِلَيْكَ مَانِي وَلَكَ رَنِي نُرَانِي اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَسْوَسَةِ القير وسوسة الصَّدْرِ وَشَعَاتِ الْأَمْرِ اللَّهُمَّ إِنِى أَعُوذُ بِكَ من شر ما تجى بِهِ الرِّيَاحُ اللَّهُمَّ أَنتَ تَسْمَعُ كَلَامِي وَتَرَى مَكَانِى وَتَعْلَمُ سِرَى وَعَلانِيَّنِي لَا يَخْفَى عَلَيْكَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِى وَأَنَا الْبَائِسَ الْفَقِيرُ الْخَائِفُ الْمُسْتَجِيرُ الرجل المنينُ الْمُعْتَرِف بِذَنِي اسْتَلْكَ مَسْتَلَة الْمِسْكِينِ وَابْتَهِلْ إِلَيْكَ إِنْتِهَالَ الْمُذَيبِ الدَّلِيلِ وَادْعُوكَ دعاء الخالفِ الطَّرِيرِ مَنْ خَضَعَتْ لَكَ رَقَبَلُهُ وَفَاضَتْ لكَ عَيْنَاهُ وَذَلَّ لَكَ جَسَدُهُ وَرَغِمَ لَكَ أنقَهُ اللهم لا تَجْعَلْنِي بِدُعَاءِ كَ شَقِيًّا وَكُنْ بِي رَوفًا رَّحِيمًا يَا خَيْرَالْمَسْولِينَ يَا خَيْرَ المُعْطِينَ
’’یعنی اے میرے مولا حقیقی تیری حمد جس طرح تو کہتا ہے اور جو ہم حمد کرتے ہیں اس سے بہتر حمد تیرے لئے ؛اے میرے مولا میری نماز عبادت زندگی موت سب تیرے ہی لئے ہے۔ میرا مرجع ومعاد بھی تو ہی ہے اے میرے مالک میں عذاب قبر اور سینے کے وسواس سے تیری ذات کی امداد سے پناہ چاہتا ہوں۔ میرے مالک تو میری باتیں سنتا ہے اور تمام اسرار اور اعلانیہ سے خبر دار ہے میری کوئی بات آپ سے مخفی نہیں میں محتاج غریب ڈرنےاور کا نپنے والا اپنے گناہ کا معترف ہوں۔ میں مسکینوں کی طرح تجھ سے سوال کرتا ہوں۔ میرا تمام جسم میری گردن سب تیرے لئے عاجز ہیں، میری آنکھیں اشکبار ہیں، میرا ناک خاک آلود ہے۔ اے میرے مالک حقیقی ! مجھے میری دعاؤں سے شقی نہ کرنا اور میرے ساتھ اپنی شفقت اور مہربانی سے پیش آنا تمام عطا کرنے والوں سے سے بہتر ہی دینے والا ہے‘‘۔
” ایک اور دعا جسے امام بہیقی نے نقل کیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں۔
میری اور میرے سے پہلے انبیاء کی دعا عرفات کے میدان میں یہ ہے۔
لا إله إلَّا اللهُ وَحْدَةَ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نورًا وَفِي سَبمعي نُورًا وَفِي بَصْرِى نُورًا اللَّهُمَّ اشْرَحْ لِي صَدْرِى وَيَسسرلى أمرِى أَعُوذُبِكَ مِنْ وَسْوَاسِ الصَّدْرِ وَشَتَاتِ الأمْرِ وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِنْ شَرِّ مَا ينج فِي اللَّيْلِ وَشَرِّ مَا يَلِجُ فِي النَّهَارِ وَمِنْ شَرِّ مَا تَهُبُّ الرِّيَاحُ وَمِنْ شَرِّ بَوَانِقِ الدَّهْرِ. (السنن الكبرى للبيهقى. باب افضل الدعا يوم عرفة 117/5)
یعنی اللہ وحدہ لاشریک ہے اسی کی بادشاہی ہے اور تمام حمد اس کے لیے۔ وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے اے اللہ تعالی میرا دل منور کر دے میری آنکھوں اور کانوں کو نور سے بھر دے۔ میرے مالک میرا سینہ کھول دے اور میرے کاموں میں سہولت پیدا کر دے۔ میرے مالک تیری ذات کی امداد سے سینے کے وسواس سے پناہ مانگتا ہوں اور معاملات کی پریشانی سے پناہ چاہتا ہوں اے اللہ قبر کے فتنہ سے بھی پناہ مانگتا ہوں۔ اے باری تعالی اپنی ذات کی معیت سے رات اور دن میں تمام شرارتوں سے مجھے محفوظ رکھنا اور ہواؤں اور حوادث زمانہ کی تمام برائیوں سے مجھے بچانا۔
اور مختلف دعا ئیں جو دل میں آئیں اپنے خالق و مالک سے مانگ لے۔ یہاں رحمت الٰہی کے جوش کا وقت ہوتا ہے مانگے اور لے۔ سورج کے غروب ہونے تک یہاں ٹھرنا ہے۔
عرفات سے کب چلے؟
غروب کے بعد یہاں سے چلنا مسنون ہے لیکن مغرب کی نماز یہاں پڑھنے کا حکم نہیں۔ دونوں نمازیں مغرب وعشاء مزدلفہ میں پڑھنی ہیں۔ یہی حکم ہے، مقام عرفات سے مزدلفہ تقریبا 6۔7 کلو میٹر ہے۔ مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عشاء بالقصر پڑھنی چاہئیں، دونوں نمازیں پڑھ کر آرام کرے۔ (بخاری، کتاب الحج 519/3، حدیث 1998، مسلم 416/1 باب الأفاضة من عرفات)
لیکن عورتیں، بچے، بیمار، ناتواں صبح پہلے منی میں پہنچ کر کنکریاں مار لیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اجازت دی ہے۔ (بخاری، کتاب الحج 529/3، حدیث 1972، مسلم باب استحباب تقدیم الضعفة )
مزدلفہ میں وتر
صبح کی سنتیں اور وتر آنحضرت ﷺ سے سفر وحضر میں کہیں بھی چھوڑنا ثابت نہیں۔ البتہ مزدلفہ کی رات آپ ﷺ سے وتر پڑھنا ثابت نہیں بلکہ آپ کے حجتہ الوداع کے بارے میں مذکور ہے کہ آپ ﷺ نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک اذان اور الگ الگ اقامت کے ساتھ ادا کیں ان کے درمیان کچھ نہ پڑھا۔ پھر سو گئے جب فجر طلوع ہوئی تو اٹھے اور صبح کی نماز ادا کی (بخاری، کتاب الحج، 524/3، 525، حدیث 01675 مرواء الغليل 207/3)
اول وقت فجر کی نماز پڑھ کر مشعر الحرام پہاڑی پر ہمو جب فرمان الٰہی:
فَاذْكُرُوا اللهَ عِندَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ (2/ البقرة: 198)
ذکر اذکار کرنا چاہیے آج کل پہاڑی صاف ہو چکی ہے اب صرف نشان باقی ہے۔ چاردیواری میں ایک مینار سا ہے وہاں جا کر اجتبال عاجزی سے دعائیں کرنی چاہئیں۔ عموما حجاج کو علم نہیں ہے۔
اس لئے وہاں خال خال آدمی نظر آتا ہے حالانکہ پیغمبرﷺ نے وہاں دعائیں کیں۔ (صحيح مسلم، كتاب الحج، باب حجة النبي ﷺ، رقم 1218، 417/8 مع شرح النووى)
مزدلفہ سے کب چلے
طلوعِ شمس کے قریب وہاں سے چل پڑے اور منی پہنچنے۔ (بخاري كتاب الحج 531/3، حدیث 1684، ارواء الغليل 2074)
پہلے دن کس جمرہ کو کنکریاں مارے
عموما حجاج اس جگہ سے کنکریاں جمروں کے لیے چن لیتے ہیں۔ اس کا کسی جگہ سے بھی ثبوت نہیں ملتا۔، وہ کنکریاں منئی سے لے سکتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
قَالَ رَسُولُ اللهِ ما غدَاةَ الْمُعَقِّبَةِ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْقِطْ لِى حَصى فَلَقَطْتُ لَهُ سَبْعَ حَصَيَاتٍ مِنْ حَصى الْخَذْفِ فَجَعَلَ يَقْبِضُهُنَّ فِي كَلِّهِ وَيَقُولُ أَمْثَالَ هَؤُلَاءِ فَارُمُوا ثُمَّ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِيَّاكُمْ وَالْعُلُو فِي الدِّينِ فَإِنَّمَا أهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الْعُلُو فِي الدِّينِ، رَوَاهُ ابْنُ مَاجَةَ وَكَانَ ذالك بمنى (المغنی 3/425)
آنحضور ﷺ10 ذی الحجہ اپنی اونٹنی پر سوار تھے مجھے فرمانے لگے میرے لیے کنکریاں لاؤ۔ میں نے منی سے آپﷺ کے لیے چھوٹی چھوٹی سات کنکریاں ( خذف کی مانند یعنی جنہیں دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر مارا جا سکتا ہے ) جمع کر کے آپ کے ہاتھ میں دیں۔ آپ اپنے ہاتھ میں پکڑ کر فرماتے تھے۔ ایسی کنکریوں کے ساتھ رمی کرو۔ پھر فرمانے لگے: لوگو! غلو ( زیادتی ) سے بچو، اس غلو نے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا (یعنی آپ ﷺ کا مقصد یہ تھا کہ اس سے بڑی کنکری سے مارنا غلو ہے )
دس ذوالحجہ کو کرنے والے کام
اب منی میں پہنچ کر جمرہ عقبہ جس کو عموماً لوگ بڑا شیطان کہتے ہیں جو مکہ مکرمہ سے آتے ہوئے پہلے آتا ہے۔ نیچے والی جانب سے بیت اللہ بائیں جانب ہے، سات کنکریاں ایک ایک کر کے جمرہ کو مارے اور اللہ اکبر کہے، اب تلبیہ ختم ہو گیا، کنکریاں چھوٹی ہونی چاہئیں۔ بڑی کی ضرورت نہیں۔ عورتوں، کمزوروں، بوڑھوں اور بچوں کو مرقومہ وقت سے پہلے جا کر رمی جمرات کرنے کی اجازت آنحضور ﷺ نے دی ہے تا کہ ازدحام سے بچ سکیں۔ جمرۃ کے بعد متمتع اور قارن پر قربانی فرض ہے۔ قربانی مسنون اس کے علاوہ ہوتی ہے البتہ حج مفرد کرنے والے پر کوئی قربانی نہیں۔
قربانی کے بعد حجامت بنوا لے، احرام والے کپڑے اتار دے اور اپنا معمول کے مطابق لباس پہن لے۔ خوشبو استعمال کر سکتا ہے۔ لیکن ازدواجی تعلقات کی اجازت طواف زیارت کے بعد ہے۔
لَا حَرَجَ، لَا حَرَج
دس ذوالحجہ کو مسنون یہ ہے کہ منی پہنچتے ہی جمرہ کبری کو کنکریاں مارے پھر قربانی کرے، پھر سر منڈائے، لیکن اگر ان کاموں میں تقدیم و تاخیر ہو جائے تو کوئی حرج نہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے آپ صلی ﷺ سے قربانی، سر منڈانے اور کنکریاں مارنے میں تقدیم و تاخیر کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں (بخاری کتاب الحج 568/3، حدیث 731، 735، ارواء الغليل (3/ 208)
مریض یا عاجز کی طرف سے کنکریاں مارنا
جو آدمی کنکریاں مارنے کی استطاعت نہیں رکھتا تو اس کی طرف سے کوئی دوسرا آدمی کنکریاں مار سکتا ہے۔
جیسا کہ حضرت جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں:
حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَمَعَنَا النساء والصبيانُ فَلَبيْنَا عَنِ العِبَانِ وَرَمَيْنَا عنهم (ابن ماجه كتاب المناسك، باب الرمي عن الصبيان)
کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کیا، ہمارے ساتھ خواتین اور بچے بھی تھے، ہم نے بچوں کی طرف سے تلبیہ بھی کیا اور کنکریاں بھی ماریں۔ جب معلوم ہو کہ اب وہاں نائب پہنچ گیا ہوگا تو حاجی اپنے خیمہ میں اللہ اکبر وغیرہ کہے اور اگر مریض انہی ایام میں صحیح ہو جائے تو اسے کنکریاں مار لینی چاہئیں۔ (موطأ امام مالک ص 435)
اب قربانی کے بعد طواف افاضہ کے لیے بیت اللہ کی طرف رجوع کرے اسے’’طواف زیات” اور " طواف صدر‘‘ بھی کہتے ہیں۔
(فتح الباري، كتاب الحج 3/ 567، باب الزيارة يوم النحر )
بیت اللہ کے طواف کے بعد سعی بین صفا والمروہ اگر پہلے طواف میں نہیں کی تو ضروری ہے کہ طواف افاضہ کے بعد بھی بین الصفا والمروہ کر لے۔ جیسا کہ مختلف آثار سے ثابت ہے۔ آنحضرت ﷺ طواف کے بعد زم زم پر تشریف لائے، فرمانے لگے۔
کیا آب زمزم کھڑے ہو کر پینا چاہیے؟
لَوْ كَانَ أَنْ يَغْلِبكُمُ النَّاسُ نَزَلْتُ فَسَقَيْتُ مَعَكُمْ(صحيح مسلم، کتاب الحج، باب حجة النبي ﷺ، رقم 1218، 471/8)
’’ اگر یہ خطرہ در پیش نہ ہو کہ لوگ مسنون سمجھ کر ڈول نکالنے کی کوشش کریں گے اور تمہیں نکالنے نہیں دیں گے۔ تو یقینا میں آپ کے ساتھ ڈول نکال کر پانی پلاتا۔‘‘
اس کے بعد آپ نے ڈول پکڑ کر منہ لگا کر کھڑے ہونے کی حالت میں پانی پیا۔ علامہ سبکی لکھتے ہیں :’’ کہ اس بات پر مطلع کرنے کے لیے کھڑے ہو کر پینے کی نہیں اب منسوخ ہے۔‘‘
بیت اللہ کے اندر داخل ہونا ارکان حج سے نہیں ہے۔ آپ ﷺ سے حج یا عمرہ کے موقع پر بیت اللہ کے اندر داخل ہونا ثابت نہیں ہے۔ ہاں فتح مکہ کے موقع پر اندر داخل ہوئے تھے۔
(بخاری کتاب الحج 3/ 467، حدیث 1600، مسلم 428/1 باب استحباب دخول الكعبة)
طواف کے بعد منئی واپس لوٹنا چاہیے۔ آنحضور ﷺ ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر واپس منی لوٹے تھے۔ منی [12011 130 ]ذی الحجہ تک ٹھہر نا چاہیے۔
(فتح البارى، كتاب الحج، 579/3، 1743، مسلم 423/1، باب وجوب المبيت بمبی)
اگر 13 کی بجائے 12 کوبھی لوٹے تو بھی کوئی مضائقہ نہیں۔
11 ذی الحجہ کو بعد زوال پہلا جمرہ جو مسجد خیف کے قریب ہے جسے جمرہ اولی یا دنیا کہتے ہیں۔ سات کنکریاں مارے اور کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہے فارغ ہو کر ایک جانب دعا میں مشغول ہو جائے۔ دعا سے فارغ ہو کر جمرۃ وسطی پر سات کنکریاں مارے۔ فارغ ہو کر ایک جانب دعا میں مشغول ہو۔ جمرہ وسطی سے فارغ ہو کہ جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں مارے لیکن اب یہاں دعا مسنون نہیں پہلے روز ( یعنی 10 ذی الحجہ کو ) جمرہ عقبہ پر دعا مسنون ہے۔ (بخاری، کتاب الحج / 584، حدیث 53، 1752 روضة النديه)
12 ذی الحجہ کو یہی عمل کرے، 13 ذی الحجہ کو پھر یہی عمل ہے۔ اگر 12 کو واپس لوٹنے کا ارادہ ہو تو امام مالک کے مذہب کے مطابق صرف 13 تاریخ ہی کی کنکریاں مارنی کافی ہیں۔
اب مکہ شریف واپس آجائیں، حج مکمل ہو گیا۔ جب واپس وطن آنے کا ارادہ ہو تو آخری مرتبہ بیت اللہ کا طواف کرے اور اسے ’’طواف وداع‘‘ کہتے ہیں، یہ طواف ضروری ہے، ہاں اگر عورت حائضہ ہو یا نفاس والی ہو اور اس نے دسویں ذی الحجہ کو طواف افاضہ کر لیا ہوتو وہ اپنے گروپ کے ساتھ جاسکتی ہے۔ (بخاری، کتاب الحج 586/3، حدیث 1755، مسلم 1/ 427 باب الوجوب طواف الوداع)
اس کے سوا کسی کو طواف وداع چھوڑنے کی اجازت نہیں۔ طواف کے بعد حجرِ اسود اور بیت اللہ کے دروازہ کے درمیان جگہ ہے اسے "ملتزم‘‘ کہتے ہیں، وہاں اپنا بدن لگا کر عاجزی سے اللہ تعالی کے حضور دعا کرے۔ اسی جگہ یعنی ملتزم پر ہر وقت دعا کر سکتا ہے۔ اپنا بدن لگا کر مالک حقیقی سے دعا مانگے ایک ہاتھ دے اور دوسرے ہاتھ لینے والا مسئلہ ہے۔ لیکن اعتقاد یقین کی شرط ہے حج اور عمرہ کے احکام بحمد اللہ مکمل ہو گئے۔
طوافِ بیت اللہ
طواف صرف بیت اللہ کاہی ہو سکتا ہے کسی مسجد یا قبر کا طواف درست نہیں، حجاج کو کثرت سے طوافِ بیت اللہ کرنا چاہیے۔ ابن عباسرضی اللہ عنہ کی ایک روایت ہے ترمذی نے نقل کیا ہے: قال رَسُولُ اللهِ ﷺ مَنْ طَاف بِالْبَيْتِ خَمْسِينَ مَرَّةٌ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمٍ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ (تحفة الاحوذى 603/3)
” جس خوش نصیب نے بیت اللہ کا پچاس مرتبہ طواف کیا گناہوں سے اس طرح پاک و صاف ہو جاتا ہے جس طرح آج والدہ کے شکم سے پیدا ہو اور اس نے کوئی گناہ نہیں کیا۔”
بیت اللہ میں ممنوعہ اوقات میں نماز
طواف کی کسی وقت بھی ممانعت نہیں ہے ہر طواف کے بعد مقامِ ابراہیم پر دو رکعت پڑھنی ضروری ہیں۔ اکٹھے کئی طواف کر کے پھر ہر طواف کی دو دورکعت اکٹھی پڑھنی خلافِ سنت ہے۔ بیت اللہ شریف میں کوئی وقت ممنوع نہیں ہے خواہ صبح کی نماز کے بعد ہو یا عصر کی نماز کے بعد۔ آنحضورﷺ نے بنی عبد مناف کو جن کے پاس بیت اللہ شریف کی چابیاں تھیں فرمایا:
يا بني عبد منافٍ لَا تَمْنَعُوا أَحَدًا أَنْ يُصَلِّي فِي أَي سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ ليل أو نهار (تحفة الاحوذى 605/3، ابو داؤد، كتاب المناسك 449/2 حدیث 1894)
اے بنی عبد مناف کسی شخص کو جب وہ چاہے نماز پڑھے، پڑھنے دینا رو کنا نہیں۔ یہ حدیث صاف اپنے معنوں کے لیے دلالت کرتی ہے کہ بیت اللہ شریف میں کوئی وقت ممنوع نہیں ہے۔
خانہ کعبہ کے اندر داخل ہونا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں۔ آنحضور ﷺ بیت اللہ شریف کے اندر داخل ہوئے اور بعد اس کے فرمان لگے:
وَدِدْتُ أني لم أكُنُ فَعَلْتُ إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَكُونَ الْعَبْتُ أُمَّنِي مِنْ بَعْدِى (تحفة الأحوذى 611/3، ابو داؤد، کتاب المناسك 562/2، حدیث: 2029)
اگر میں اندر داخل نہ ہوتا تو کیا ہی اچھا ہوتا، میں نے اپنی امت کو تھکان میں ڈال دیا، حالانکہ حطیم میں اور بیت اللہ شریف میں ایک ہی درجہ ہے لوگ مسنون سمجھ کر اندر جانے کی کوشش کریں گے ہاں اگر کسی خوش نصیب کو اندر جانے کا موقع میسر آجائے تو سامنے دروازہ کے دو رکعت پڑھنی مسنون امر ہے۔ جب آنحضورﷺ داخل ہوئے تھے تو حضرت بلالرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھی تھی اور دعائیں جو دل میں خیال آئے کرے یہ بیت اللہ ہے اور دعا قبول ہونے کی جگہ ہے۔
رمضان المبارک میں عمرہ کرنا
آنحضور ﷺ کے چار عمرے ثابت ہیں ایک صلح حدیبیہ والا، دوسرا عمره قضا، تیسرا عمرہ جعرانہ، چوتھا مع حجتہ الوداع۔ یہ تمام عمرے آپ نے غیر رمضان میں کیے ہیں۔
عن انسرضی اللہ عنہ انَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ كَحَجَةٍ مَعِى (بخاری، کتاب الحج 2/ 103 حدیث:1782، مسلم 409/1 با فضل العمرة في رمضان)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے آنحضورﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے رمضان شریف میں عمرہ کرنا ایسا ہے جیسا کہ میرے ساتھ حج کرنا بہترین ثواب کا حامل ہے۔ اسی طرح رمضان شریف میں عمرہ کرنا خیر کثیر کا موجب ہے۔
اللَّهُمَّ وَقُفْنَا لِمَرْضِیاتِكَ
اللہ تعالیٰ ہر ایک کو توفیق عطا فرمائے تو اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے
عمرہ تنعیم
اکثر معلمین حجاج کو تنعیم پر عمرہ کروانے کے لیے جاتے ہیں اور لوگ شوق سے تنعیم پر جا کر احرام باندھ کر عمرہ کرنے کو کار خیر سمجھتے ہیں اس عمرہ کا ثبوت اس حد تک ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ جب آنحضور ﷺ کے ساتھ حج کے لیے آئیں تو اتفاقا 4 ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے تو وہ حالت حیض میں تھیں۔ بیت اللہ میں نہیں جاسکتیں تھیں۔ ابھی پاک نہیں ہوئی تھیں کہ 8 ذی الحجہ آگئی۔ آپ صلی ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ اب حج کا احرام باندھ لو۔ جب حج سے فارغ ہو چکیں تو آپ نے واپسی کا ارادہ کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ: يُرجع النَّاسُ بحَج وَعُمرة وارجع بحج لوگ تو حج و عمرہ سے فارغ ہو کر جائیں گے اور میراصرف حج ہی ہوا عمرہ تو نہ ہوا۔ اس وقت آپ ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے بھائی عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کو کہا کہ اپنی بہن کو تنعیم سے عمرہ کروا لاؤ۔ (بخاری، کتاب الحج 696/3، حديث : 874، اروة، ارون الغليل 294)
کیونکہ تنعیم خارج الحرم ہے اور یہ سمت باقی سمتوں سے قریب تر ہے۔ نہ تو آنحضور ﷺ گئے اور نہ باقی صحابہ نے عمرہ کیا۔ یہ محض حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے جبر خاطر کے لیے کیا گیا تھا ایسی صورت میں یہ عمرہ ممکن ہے ورنہ غیر مسنون ہے۔ حافظ ابن حجر نے فتح الباری شرح بخاری جلد 3 صفحہ 606 میں لکھا ہے:
وَلَمْ يَعْتَمِرُ قَط خَارِجًا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْحِلُ ثُمَّ يَدْخُلُ مَكَةَ بِعُمْرَةٍ كَمَا يَفْعَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَلَاثبتَ مِنْ أَحَدٍ مِّنَ الصَّحَابَةِ اللَّهُ فَعَلَ فِي حِيَاتِهِ إِلَّاعَائِشَةُ وَحْدَهَا
کہ آنحضور کبھی بھی مکہ سے باہر سے نکل کر ( تنعمیم یا جعرانہ ) سے احرام باندھ کر مکہ میں عمرہ کے لیے داخل نہیں ہوئے جس طرح آج کل لوگ ( حجاج) کرتے ہیں اور یہ فعل صحابہ میں سے ایک فرد کا بھی ثابت نہیں۔ سوائے حضرت عائشہرضی اللہ عنہ کی خوشی کے لیے کیا گیا جیسا کہ گزر چکا ہے۔
حافظ ابن تیمیه ؒ جو مجدد کی حیثیت رکھتے ہیں وہ فتوی الاختيارات الفقہية صفحہ 211 ( اور یہ مسئلہ متفق علیہ ہے ) لکھتے ہیں:
وكذا يكره الخروجُ مَكَّةَ لِعُمْرَةِ تَطَوُّع و ذلك بِدْعَةٌ لَمْ يَفْعَلُهُ النَّبِيُّ ﷺ وَلَا أَصحَابَهُ عَلَى عَهْدِهِ لَا فِي رَمْضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ وَلَمْ يَأْمُرُ عَائِشَةَ بِهَا، بَلْ أَذِنَ لَهَا بَعْدَ المُراجعة تطيبيبا لِقَلْبِهَا وَ طَوَافَةَ بِالْبَيْتِ أَفْضَلُ مِنَ الْخُرُوحِ الْفَاقًا… الخ
کہ مکہ مکرمہ سے عمرہ نفلی کے لیے خارج عن الحرم جا کر احرام باندھ کر عمرہ کرنا بدعت ہے۔ نہ تو آنحضورﷺ نے کیا نہ صحابہرضی اللہ عنہ نے کیا نہ رمضان میں اور نہ ہی غیر رمضان میں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو محض ان کا دل خوش کرنے کے لیے اجازت فرمادی گئی تھی۔ بیت اللہ شریف کا طواف کرنا ایسا عمرہ کرنے سے بہتر ہے، اور یہ مسئلہ متفق علیہ ہے۔
حج کے مہینے
شوال، ذوالقعدہ، از والحجہ تک ہیں۔
(تفسیر طبری: 257/2)
متمتع یا قارن صرف ایک ہی عمرہ کرے۔ حج کے بعد اگر خارج عن الحرم جانے کا اتفاق ہواور واپسی کا خیال ہو تو پھر متعدد عمرے ہو سکتے ہیں۔ مثلا مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ واپس جانے کا ارادہ ہو تو ذی الحجہ سے جسے آج کل ’’آبار علی‘‘ کہتے ہیں۔ یہ مدینہ منورہ سے صرف چھ میل کی مسافت پر ہے وہاں سے احرام باندھے یہ اہل مدینہ کا میقات اور جو بھی حج یا عمرہ کی نیت سے اسی راستہ سے گزرے اس کے لیے یہی میقات ہے۔
زم زم
رسول اللہ ﷺ کثرت سے ماء زم زم پیتے تھے اور فرماتے منافق مائ زم مزم کو سیرابی سے استعمال نہیں کرتا۔
(سنن ابن ماجه، کتاب المناسب، باب الشرب من زم زم، 489/2، 3062)
حضور ﷺ نے فرمایا: مَاءُ زَم زَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ (ابن ماجه حدیث : 3062 ارواء الغليل: 320/4 حدیث: 1123)
زم زم کا پانی جس نیت سے استعمال کیا جائے اللہ تعالی اس نیت کو پورا کر دیتا ہے۔ تجربہ شاہد ہے آنحضور ﷺ تحفہ ماء زمزم مدینہ منورہ لے گئے تھے اصل میں تحفہ یہی ہے۔
(اخرجه الترمذي وقال هذا حديث حسن غریب و انظر نيل الأوطار 93/5 مسند رزین)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ ماء زمزم اٹھا کر لے جایا کرتی تھیں اور فرماتی تھیں نبی ﷺ اٹھا کر لے جایا کرتے تھے۔ (مجمع الفوائد )
قبولیت دعا کے مواقع
مقامِ ابراہیم، حجرِ اسود، رکنِ یمانی ملتزم حطیم (زم زم)
حطیم وہ حصہ ہے جو شمالی جانب چار دیواری ہے، بیت اللہ ہی کا حصہ ہے اس جگہ نوافل ادا کرنا اور بیت اللہ کے اندر جا کر ادا کرنا ایک ہی حیثیت رکھتا ہے۔ کفار مکہ نے جب بیت اللہ کی تعمیر کی تھی اس وقت یہ حصہ بوجہ رقم حلال و طیب نہ ہونے کے انہوں نے چھوڑ دیا تھا، اب تک اسی حالت میں چلا آ رہا ہے اور یہی حصہ حطیم ہے۔ یعنی چھوڑا ہوا حصہ۔
بیت اللہ شریف ہی ایک مرجع خلائق ہے۔( فیدایت بینت ) (آل عمران 97 ) باقی مسجد بلال مسجد فلاں، فلاں کا گھر، یہ زیارت گاہیں نہیں ہیں اور نہ ہی ان میں ثواب ہے، جتنا وقت ادھر ادھر خرچ کرنا ہو بیت اللہ کے طواف میں صرف کیجئے یہ نعمت کسی جگہ نہیں ملتی اللہ تعالیٰ اپنی مرضیات کی توفیق دے۔
حج بدل کا بیان
حج بدل وہ کر سکتا ہے جس نے پہلے خود فرضی حج کیا ہو ورنہ حج بدل درست نہیں۔ آنحضور ﷺ کے عہد میں ایک شخص احرام باندھ کر کہہ رہا تھا لبيك عَنْ شبرَمَة اے رب العالمین شبرمہ کی طرف سے حاضری کے لیے آیا ہوں آپ فرمانے لگے۔ احججت عَنْ نَفْسِكَ؟ کیا تو نے اپنا حج کیا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ میں نے اپنا حج نہیں کیا۔ فرمانے لگے حج عن نفسك پہلے اپنا حج کرو پھر شبرمہ کی طرف سے کرنا یہی صحیح مسلک ہے۔ (ابوداود: 403/2، حدیث 1811، ارواء الغليل 171/4، حدیث : 994)
بچے کا حج
بچہ نا بالغ ساتھ جائے گا تو حج اس کا ہو گا لیکن ثواب والدین کو ملے گا۔ بلوغت کے بعد دوبارہ حج کرے۔ یہ فرضی حج نہیں ہوا۔ زیارت بیت اللہ کے ضروری احکام ذکر کر دیئے گئے۔
فوت شدگان کی طرف سے حج
جس پر حج فرض ہو چکا ہو اور وہ حج کئے بغیر فوت ہو جائے تو چاہیے کہ اس کی طرف سے اس کا وارث یا کوئی اور حج کرے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے میری والدہ نے نذر مانی کہ وہ حج کرے گی مگر وہ حج کرنے سے قبل ہی فوت ہو گئی کیا میں اس کی طرف سے حج کروں؟ آپﷺ نے فرمایا: اگر اس پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تو نے اسے ادا کرنا تھا؟ اس نے کہا جی بالکل ! تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا قرض اس سے بھی بڑھ کر ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔ نیلبۃ حج کرنے والے کے لیے شرط ہے کہ پہلے اس نے اپنا حج کر رکھا ہو۔ (بخاری، کتاب جزاء الصيد: 064/4 حدیث: 1852 – ارواء الغليل 4/ 170، حدیث: 993، 994)
مسجد نبوی کی طرف
اب دیار حبیب ﷺ اور مسجد نبوی کی زیارت کے لیے اگر موقع میسر ہو اور زاد راہ ہو تو یہ بہت ہی بہتر سفر ہے تشریف لے چلئے۔ مسجد نبوی ﷺ میں ایک نماز ادا کرنی باقی تمام مساجد میں نماز ادا کرنے سے ایک ہزار نماز کا زائد ثواب ملتا ہے۔ یہی حدیث مسجد نبوی میں لکھی ہوئی ہے:
صَلوةٌ فِي مَسْجِدِى هَذَا خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ صَلوةِ فِيمَا سوَاهُ إِلا الْمَسْجِدِ الْحَرَام(بخاری: 1/ 299، ارواء الغليل: 143/4 حديث: 971)
یہ وہی مسجد ہے جہاں وحی کا نزول ہوتا تھا یہ وہی مسجد ہے جس کی بنیاد ییغمبرﷺ نے خود رکھی تھی اور لَمَسْجِدٌ أسس على التقویٰ جس کو کہا جاتا ہے۔آنحضور ﷺ فرماتے حضرت ابراہیم ؑ نے مکہ مکرمہ کے لیے دعا فرمائی تھی۔ اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے اور میں دگنی برکات کا اللہ تعالی سے سوال کرتا ہوں۔ زیارت مدینہ سے طمانیت اور سکون حاصل ہو گا اچھا لباس زیت تن کر کے داخل ہوں۔ پھر دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کریں۔
ریاض الجنه
روضة من رياض الجنة جسے آ لحضورﷺ نے جنت کے قطعہ سے ارشاد فرمایا ہے آج کل ستونوں پر نیچے والے حصہ میں سفید سنگ مرمر لگا ہوا ہے جس سے روضة من رياض الجنة پہچانا جاتا ہے۔ کوشش کرے کہ وہاں نفل یا فرض نماز ادا کی جائے۔ دعا کی جائے مسجد نبوی میں محبت و خلوص سے حضور ﷺ پر کثرت سے درود شریف پڑھے، اللہ تعالی آپﷺ کو پہنچا دیتے ہیں۔ روضہ اطہر پر جانا ممکن نہیں۔ تین دیواریں ہیں وہاں جا کر آپﷺ کو پکارنا غیر مشروع ہے۔ کہیں اس آیت کا مصداق نہ بن جائیں۔
إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِن وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ (491/ الحجرات : 4)
’’ یعنی وہ لوگ جو آپ کو حجرات سے باہر پکارتے ہیں وہ سمجھدار نہیں۔‘‘
آپﷺ کی تکریم زندگی میں جیسے تھی ویسے ہی آپﷺ کی وفات کے بعد ہے۔
إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَسُولِ اللَّهِ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَىٰ ۚ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ (4945/ الحجرات: 3)
’’ خدا تعالی فرماتے ہیں جو لوگ اپنی آوازیں ہمارے رسولﷺ کے پاس پست کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کا امتحان ہو چکا ہے کہ وہ نبی ﷺ کی محبت سے سرشار ہیں اور تکریما اپنی آوازیں پست کرتے ہیں ان کے لیے بخشش بھی ہے . اور اجر عظیم بھی۔”
اللہ تعالی آپ کے صلوٰۃ وسلام کو رسول اللہﷺ تک پہنچا دیں گے، مسجد نبوی جو عہد نبی ﷺ میں تھی اس میں تغیر و تبدل ہوتا رہا۔ پہلی تبدیلی و زیادتی حضرت عمررضی اللہ عنہ کے دور میں ہوئی پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں ستون مرمر وغیرہ کے بنائے گئے۔ غرضیکہ 18 دفعہ ردو بدل ہوا۔ آج کل سعودی حکومت نے نئی ایجاد اور نئی طرز سے تعمیر کر کے مسجد نبوی کو بقعہ نور بنا دیا ہے۔ ظاہری اور باطنی خصوصیات اور عمدگی کی حامل ہے۔ مسجد نبوی کی زیارت کی نیت سے رختِ سفر باندھئے۔
بموجب حدیث نبوی:
لا تُشَدُّ الرَّجَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَثَةِ مَسَاجِدَ، مَسْجِدٍ الحَرَامِ وَمَسْجِدِ الرَّسُولِ وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى (بخاری: 13/3، حدیث: 1189، مسلم حدیث 1397)
یہ کار ثواب ہے وہاں آپ کو کئی دلکش تاریخی مناظر سامنے آئیں گے وہ مقدس سرزمین جہاں پیغمبرؑ چلا پھرا کرتے تھ وہ مشاہد جہاں آپ تشریف لے جایا کرتے تھے۔ آپ کی آرام گاہ نظر آئے گی۔ جہاں دنیا کا دریکتا مجسمہ انوار آرام فرما رہا ہے۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدِ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ غرض یہ کہ اس شہر میں طمانیت و سکون حاصل ہوتا ہے اور بقول شاعر:
وَمَا حُبُّ الدَّبَارِ شَعَفْنَ قَلْبِي
وَلَكِنْ حُبُّ مَنْ سَكَنَ الدُّيَارا
یعنی مکانوں کی محبت نے میرے دل میں محبت نہیں بسائی۔ لیکن اصل میں محبت کا سبب صاحب مسکن ہے۔ اللَّهُمَّ رِدْفَرِدُ
جالی چومنا درست عمل نہیں
مسجد نبوی جو عہد پیغمبرﷺ میں تھی اس پر سنہرا نشان موٹے موٹے خطوں کی طرح ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ اتنا حصہ آنحضور ﷺ کے زمانہ میں تھا اب کافی اضافہ ہو چکا ہے، اس لیے تمام حصص پر مسجد نبوی کا حکم ہوگا اور ثواب میں کسی قسم کی کمی نہیں ہوگی۔ اسی طرح بیت الحرام کا صحن نبی ﷺ کے زمانہ میں بہت تھوڑا تھا اب کافی وسیع ہو چکا ہے تمام پر مسجد الحرام کا ہی حکم ہوگا۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب مسجد نبوی میں توسیع کی گئی تو آپ نے یہی فرمایا تھا۔ ( فایم )
روضہ اطہر پر دعا
دعا کے وقت روضہ اطہر کی طرف منہ کر کے دعا کرنا یا آپ ﷺ کا وسیلہ یا طفیل کسی دلیل سے ثابت نہیں ہے بلکہ ائمہ کرام خصوصاً امام ابو حنیفہ صلوۃ و سلام کے وقت تو روضہ رسول کی طرف منہ کر لیتے تھے لیکن جب دعا کا وقت ہوتا تو روبقبلہ ہو کر دعا کرتے ( خواہ روضہ اطہر کو پشت ہو جائے۔ کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے تھے ) نہ رسول اللہ ﷺ کسی کی حاجت روائی کر سکتے ہیں، نہ آپ ﷺ سے مانگنا درست ہے۔ یہ سب جاہلیت کی باتیں ہیں، جسے اسلام نے جائز نہیں رکھا ہاں مسجد نبوی میں ” روضتہ من ریاض الجنہ‘‘ میں رو قبلہ ہو کر اپنے مالک حقیقی سے مانگیں، دعا سے پہلے آنحضور ﷺ پر درود شریف پڑھیں اور پھر دعا کریں ان شاء اللہ دعا قبول ہوگی۔
البقيع
یہ صحابہ کا مدفن ہے جس میں تقریبا دس ہزار صحابہ مدفون ہیں۔ ازواج مطہرات، حضرت فاطمتہ الزہرارضی اللہ عنہ وہاں مدفون ہیں اللہ ان پر ہزاروں رحمتیں اور سلام بھیجے امام دارالہجرت جو ائمہ ثلاثہ کے استاذ بھی ہیں یعنی مالک بن انس ان کے استاذ حضرت نافع رضی اللہ عنہ ان کے استاذ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ان کی اکٹھی قبریں ہیں آپ کو ان کی آرام گا ہیں دیکھ کر فورا ما لک عن نافع عن ابن عمر یاد آئے گا، سامنے روضہ اطہر ہے یہ وہی مدینہ منورہ ہے جس کے متعلق رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوتُ بالمدينة قليمتُ بِهَا فَإِنِّي اشْفَعُ لِمَنْ يَمُوتُ بها – مدينہ میں فوت ہونے والوں کا قیامت کے دن میں شفیع ہوں گا۔ ( ترمذی 3917 باب فضل المديد )
کیا جنت البقیع کہنا درست ہے؟
اکثر لوگ مدینہ کے قبرستان کو جنت البقیع کہتے ہیں حالانکہ یہ نام کسی بھی حدیث سے ثابت نہیں کہ آپ نے اسے جنت قرار دیا ہو۔ لہذا اسے بقیع الغرقد کہنا چاہیے جو کہ احادیث سے ثابت ہے۔
اللهُمَّ ارْزُقْنَا شَهَادَةٌ فِي سَبِيْلِكَ وَاجْعَلُ مَوْتَنَا فِي بلد رسولك
اگر مجھے یا آپ کو اللہ تعالی یہ موقع عنایت فرمائے تو ممکن ہے کہ غیر کے ساتھ مل کر شاید بقول سعد” گلے خوشبوئے دار ’’ الخ ‘‘والا معاملہ نظر آئے وہ زبان حال سے کہہ رہی تھی۔
بگفت من گل ناچیز بودم
ولیکن مدتے باگل نشستم
جمال ھم نشین درمن اثر کرد
وگرنہ من ھمہ خاکم کہ ھستم
مسجد قبا
مدینہ منورہ کے جنوب مغرب میں 32 میل ملکی سی مسافت ہے اس کے محل وقوع کو پرانا مدینہ کہتے ہیں۔ آنحضور ﷺ ہجرت کے بعد سب سے اول یہاں تشریف لائے تھے اور اسی مسجد کی بنیاد ڈالی۔ اس مسجد کو لمسجد أسس على التقوى "کہتے ہیں ایک روایت مسلم کی ہے کہ جو وضو کر کے مسجد قباٗ میں داخل ہو اور دو رکعت نماز ادا کرے اسے ایک عمرہ کا ثواب ملتا ہے۔ (مسلم:448/1 فضائل المدينة صفحه 543)
نسائی کی ایک روایت میں غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے، نیتوں پر انحصار ہو گا کسی کو عمرہ کا ثواب اور کسی کو آزادی غلام کو ثواب ہوگا۔ آنحضورﷺ عموما اس مسجد میں تشریف لے جایا کرتے تھے۔
جبل احد
مدینہ منورہ سے شمالی جانب میں احد پہاڑ ہے۔ آپ فرمایا کرتے یہ پہاڑ ہمیں دوست رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ ایک معرکۃ الآراء جنگ بھی یہاں ہوئی تھی۔
(بخاری : 125/8 حدیث 4422 صحیح مسلم، حدیث 1392 فضائل المدينه 559).
مسجد ذی قبلتین
جبل احد سے غربی جانب سے پہلے مسجد ذی قبلتین کھیتوں میں واقع تھی اب کافی حد تک آبادی ہو چکی ہے۔ یہ وہ مسجد ہے عصر کی نماز بیت المقدس کی طرف رخ کر کے پڑھی جارہی تھی امام شمالی،جانب آگے تھا۔ تمام صفوں کا رخ اسی طرف تھا، ایک صحابی آنحضور ﷺ کے پیچھے ظہر کی نماز بیت اللہ شریف کی طرف پڑھ کر آیا۔ ابھی تک ان لوگوں کو تحویل قبلہ کی خبر نہ تھی وہ آکر دروازہ پر لوگوں کو بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے دیکھ کر بلند آواز سے پکارتا ہے۔
الا إِنَّ القِبْلَةَ قَدْ حُوِّلت
لوگو! مطلع ہو جاؤ قبلہ تبدیل ہو گیا ہے۔ (ابن کثیر : 1/ 182)
لوگوں کے کانوں میں آواز پڑی یہ اطاعت کا جذبہ تھا کہ امام فورا شمالی جانب سے ہٹ کر جنوبی جانب آگے آگیا اور لوگوں نے بھی اپنے رخ اس طرف پھیر لیے، اس لیے اس مسجد کو زی قبلتین کہتے ہیں۔ الٰہی ہمیں بھی اس جذ بہ اطات سے سرشار فرما۔ ( آمین )
خندق
خندق جنوب مغرب کی جانب ہے جہاں صحابہ نے کفار کی آمد پر خندق کھودی تھی۔ صحابہ آپ ﷺ معیت میں مٹی اٹھا رہے تھے، کوئی اپنے کرتے میں کوئی کس طرح جس طرح میسر ہو سکا مٹی اٹھار ہے تھے اور کہتے تھے:
نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدَا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدَا
ہم وہ خوش بخت لوگ ہیں جنہوں نے حضرت محمد ﷺ سے بیعت کی ہے کہ جب تک ہماری جان میں جان ہے آپ ﷺ کی حکم کے تحت اسلامی جنگ جہاد میں رہیں گے آپ ﷺ جوابا فرماتے: اللَّهُمَّ لَا عَيشَ إِلَّا عَيْشَ الْآخِرَةَ فَاغْفِرُ لِلأَنْصَارِ والمهاجرة
"اے اللہ زندگی تو صرف آخرت کی ہی زندگی ہے اے اللہ ! انصار اور مہاجرین کو معاف فرمادے۔‘‘
جبل سلع
اس کے متصل ہی ہے جس کا تذکرہ عموما حدیث کی کتابوں میں آتا ہے
مسجد نبوی ﷺ میں چالیس نمازوں کا مسئلہ
حجاج کرام اور معتمرین مسجد نبوی میں چالیس نمازیں پوری کرنا مسنون سمجھتے ہیں۔ مسجد نبوی میں جتنی بھی نمازیں پڑھی جائیں کم ہیں مگر جن احادیث میں ایسا کرنے والوں کے لیے جہنم سے رہائی عذاب سے نجات اور نفاق سے براءت کا تذکرہ ہے وہ تمام احادیث ضعیف ہیں۔ (سلسلة الأحاديث الضعيفة 366/1 حديث : 364)
جبکہ حدیث عام ہے کہ جس نے کسی بھی مقام پر چالیس دن تک (نہ کہ چالیس نمازیں ) تکبیر اولی کے ساتھ نمازیں پڑھیں اس کے لیے مذکورہ اجر ہے اسے مسجد نبوی کے ساتھ مختص کرنا درست نہیں۔ (سلسلة الاحاديث الصحيحة:628/4، حدیث 1979)
مدینہ منورہ جانا موجب ثواب اور موجب تسکین ہے لیکن احکام حج میں اس کا کوئی دخل نہیں۔ حج مکہ مکرمہ میں ہو گیا بعض،لوگ جو ذ کر کرتے ہیں
مَنْ حَجَّ وَلَمْ يَزُرْنِي فَقَدْ جَفَانِي
یعنی جس شخص نے حج کیا اور میری قبر کی زیارت نہیں کی اس نے مجھ پر ظلم کیا۔’’درست نہیں۔‘‘(سلسلة الأحاديث الضعيفة 61/1 حديث 65 فضائل :المدينة 588 حديث 314)
وَمَنْ وَارَ قَبْرِي حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَنِي
” جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لیے میری شفاعت ضروری ہوگی۔” (ارواء الغليل 335/4 حدیث 1128 فضائل المدينة 584، حدیث 311)
ایسی تمام روایات موضوع میں ان کا کوئی اصل ثبوت کتب احادیث میں کہیں نہیں پایا گیا۔ فضائل کے لیے وہ روایات جو صحیح ہیں کافی وافی ہیں۔ موضوعات بیان کرنا موجب گناہ ہے۔ ثواب کا ورد زرہ بھی نہیں ملے گا۔ اللہ تعالی ہم سب کو نیک اعمال کی توفیق دے۔
مدینہ منورہ سے واپسی
مدینہ منورہ سے واپسی پر آخری بار منبر اور روضہ اطہر کے درمیان جسے روضه من ریاض الجنہ کہتے ہیں۔ اللہ تعالی سے اپنی مغفرت کے لیے دعا کرنا اور مسنون صلوۃ و سلام کہنا چاہیے۔ جس میں تکریم و عظمت ہو۔ اللہ تعالی ہم کو تو فیق صالح عنایت کرے۔ اگر خیال ہو کر جدہ میں پہنچ کر2،3 دن ٹھرنا پڑے گا تو ذی الحلیفہ سے عمرہ کا احرام باندھ لیں اگر وہاں پوری معلومات بہم نہ پہنچ سکی ہوں اور جدہ آکر علم ہو کہ یہاں اقامت چند روز ہو گی تو جدہ سے عمرہ کا احرام باندھئے اور مکہ مکرمہ روانہ ہو جائے۔ ٹیکسی پر 35،30 ریال صرف ہوں گے۔ اگر زیادہ بھی ہو جائیں تو عمرہ کا موقع بیت اللہ کی زیارت مقامات مقدسہ کا دیکھنا کب میسر ہوتا ہے اسے نعمت غیر مترقبہ سمجھئے۔ جدہ میں نماز پڑھنا اور اپنے گھر میں نماز پڑھنا ایک ہی حکم رکھتا ہے۔ بیت اللہ شریف میں ایک نماز کی ادائیگی سے ایک لاکھ کا ثواب احکم الحاکمین دے گا۔ طواف کیجئے۔ مائ زمزم شکم سیر ہو کر پیجئے۔ ان انعامات الٰہیہ کی کیا قیمت اور کیا قدر۔ واپسی پر پھر کسی سے دنگا فساد نہ کیجئے۔ اپنے شہر گاؤں آنے سے پہلے ان کو اطلاع دیجئے تا کہ وہ ملاقات سے مسرور ہوں ایک روایت ہے جسے امام احمد نے ذکر کیا ہے۔
حجاج کا استقبال
قال ﷺ إِذَا لَقِيتَ الْحَاجَّ فَسَلَّمْ عَلَيْهِ وَصَافِحة ومره أن يَسْتَغْفِرْلَكَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بَيْنَهُ فَإِنَّهُ مَغْفُورٌ. (مسند احمد (128/2)
آپ صلی ﷺ نے فرمایا جب تم حاجی سے ملو تو اس سے مصافحہ کرو اور گھر میں داخل ہونے سے پہلے دعا مغفرت کے لیے کہو۔ کیونکہ وہ بخشا ہوا ہے (امید ہے اس کی دعا قبول ہو گی ) ایک روایت جسے صاحب سبل السلام نے مناسک الحج میں ذکر کیا ہے کہ جب شہر میں پہنچے تو آنحضور ﷺ نے فرمایا:
أنْ يَأْتِيَ الْمَسْجِدَ فَيُصَلِّي فِيهِ رَكَعَتَيْنِ
’’کہ پہلے مسجد میں آئے دو رکعت نفل ادا کر کے گھر میں داخل ہو اور ان سے ملاقات کرے۔“
اللہ کا شکر ادا کے۔ ایک اور روایت صاحب سبل السلام نے مناسک الحج میں نقل کی ہے:
لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ نَحْرَ جَزُورًا أَوْ بَقَرَةٌ
جب آ لحضور ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو اونٹ یا گائے بطور شکر یہ اللہ تعالی کے ذبح کر کے لوگوں کو کھلایا۔ حاجی صاحب جب گھر پہنچے تو دعوت بطور شکریہ کرے۔
اب حج سے فارغ ہو کر گھر پہنچ گئے۔ اب گزشتہ گناہ اللہ تعالی نے معاف فرما دیئے۔ آئندہ احتیاط کرے اور اپنے حج کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرے۔ جھگڑا فساد، شرک، بدعت، دھوکہ،فریب سے احتراز کرے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نیکی کی توفیق دے۔
وآخر دعوانا أن الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ وَالصَّلوة وَالسَّلَامُ عَلَى خَيْرِ الْمُرْسَلِينَ إِلَى يَوْمِ الدِّيْنِ