جان بوجھ کر روزہ توڑنے پر کفارہ لازم
تحریر: عمران ایوب لاہوری

جان بوجھ کر روزہ توڑنے پر کفارہ لازم
➊ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ :
نهي رسول الله عن الوصال
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال سے منع فرمایا ہے۔“
[بخاري: 1962 ، كتاب الصوم: باب الوصال ، مسلم: 1102 ، أبو داود: 2360 ، أحمد: 21/2]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود وصال کیا کرتے تھے لیکن وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص تھا جیسا کہ حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :
وأيكم مثلي؟ إني أبيت يطعمني رهي ويسقيني
”تم میں میرے جیسا کون ہے؟ میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا پروردگار مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔“
[بخارى: 1965 ، كتاب الصوم: باب التنكيل لمن أكثر الوصال ، مسلم: 1102 ، عبد الرزاق: 7753 ، أحمد: 231/2 ، بيهقي: 282/4]
ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال سے منع فرماتے ہوئے کہا: إنما يفعل ذلك النصارى يہ عمل تو صرف عیسائی کرتے ہیں۔“
[بخاري: 1961 ، كتاب الصوم: باب الوصال، ترمذي: 778 ، دارمي: 8/2 ، ابن خزيمة: 2069 ، أحمد: 170/3 ، بيهقي: 282/4 ، شرح السنة: 473/3]
واضح رہے کہ وصال سے مراد یہ ہے کہ آدمی ارادی طور پر دو یا اس سے زیادہ دن تک روزہ افطار نہ کرے اور مسلسل روزہ رکھے ، نہ رات کو کچھ کھائے اور نہ سحری کے وقت ۔
جیسا کہ ابھی حدیث گزری ہے کہ ایک شخص نے دوران روزہ اپنی بیوی سے مباشرت کر لی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس طرح کفارہ ادا کرنے کو کہا۔ ایک گردن آزاد کرو ، اگر اس کی طاقت نہیں تو دو ماہ کے پے در پے روزے رکھو اور اگر اس کی بھی طاقت نہیں تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلاؤ۔
[بخاري: 1936 – 1937 ، مسلم: 1111]
(ابن قدامهؒ) یہ ترتیب واجب ہے۔
[المغني: 380/4]
(عبد الرحمن مبارکپوریؒ) اسی کے قائل ہیں۔
[تحفة الأحوذى: 375/3]
(ابن قیمؒ) یہی موقف رکھتے ہیں۔
[تهذيب السنن: 269/3]
یہ کفارہ تب ہے کہ انسان مباشرت کر بیٹھے ۔ رہی بات کہ کیا ہر ذریعے سے روزہ توڑنے پر یہی کفارہ ہے؟ اس میں علماء کے درمیان اختلاف ہے۔
(جمہور) کفارہ صرف مباشرت و ہم بستری میں ہی ہے۔ (کیونکہ حدیث اسی کے متعلق ہے )۔
(مالکیہ ) مباشرت اور اس کے علاوہ ہر چیز سے روزہ توڑنے پر کفارہ ہے کیونکہ ایک روایت میں ہے کہ :
ان رجلا أفطر
”ایک آدمی نے روزہ توڑ دیا (تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ کفارہ بتلایا ) ۔“ جبکہ اس میں جماع کا ذکر نہیں ہے۔
[الأم: 128/2 ، المبسوط: 73/3 ، بداية المجتهد: 209/1 ، نيل الأوطار: 188/3]
(راجح) اگر یہ روایت که ان رجلا أفطر ”ایک آدمی نے روزہ توڑ دیا۔“ صحیح بھی ہو تو مجمل ہے جسے دیگر روایات نے واضح کر دیا ہے کہ اس نے مباشرت کے ساتھ روزہ توڑا تھا۔ ہر کھانے پینے کو مباشرت پر قیاس کرنا صحیح نہیں کیونکہ عبادات میں قیاس اصلا باطل ہے اور مباشرت و ہم بستری کے علاوہ کسی چیز کے ساتھ روزہ توڑنے والے پر وجوب کفارہ کے قائل حضرات کے پاس کوئی صحیح دلیل موجود نہیں۔ اور اصل عدم وجوب بھی ہے الا کہ کوئی دلیل مل جائے ۔ لہذا حق بات یہی ہے کہ کفارہ صرف اس شخص پر واجب ہے جو مباشرت و ہم بستری کے ذریعے روزہ توڑ بیٹھے جیسا کہ امام شافعیؒ اور بعض دیگر اہل علم بھی اسی کے قائل ہیں۔
(البانیؒ) یہی موقف رکھتے ہیں۔
[التعليقات الرضية على الروضة الندية: 19/2]
(ابن حزمؒ ) اسی کے قائل ہیں۔
[المحلى بالآثار: 313/4]
(محمد صبحی حسن حلاق) اسی کو ترجیح دیتے ہیں۔
[التعليقات الرضية على الروضة الندية: 545/1]

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

1