تلبیہ کے احکام و فضائل: ائمہ کا اختلاف اور دلائل

 

تحریر: عمران ایوب لاہوری

تلبیہ کا حکم
اس میں فقہا نے اختلاف کیا ہے۔
(شافعیؒ ، احمدؒ ) یہ سنت ہے۔
(مالکیہ ) یہ واجب ہے اور اسے چھوڑنے والے پر ایک جانور ذبح کرنا لازم ہے۔
(ابو حنیفہؒ) تلبیہ احرام کی شرائط میں سے ہے۔ اس کے بغیر احرام صحیح نہیں ہوتا۔
[المغني: 100/5 ، نيل الأوطار: 330/3 ، الحاوى: 81/4 ، الأم: 230/2 ، المبسوط: 187/4 ، الهداية: 138/1 ، بداية المجتهد: 268/1]
تلبیہ کے الفاظ
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ان الفاظ میں تھا: لَبيْكَ اللَّهُمَّ لَبيْكَ ، لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ ”حاضر ہوں اے اللہ ! حاضر ہوں میں ، تیرا کوئی شریک نہیں حاضر ہوں ، تمام حمد و تعریف تیرے لیے ہی ہے اور تمام نعمتیں تیری طرف سے ہی ہیں۔ بادشاہی تیری ہی ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ۔“
[بخاري: 1549 ، كتاب الحج: باب التلبية ، مسلم: 1184 ، مؤطا: 331/1 ، ابو داود: 1812 ، ترمذي: 825 ، نسائي: 160/5 ، ابن ماجة: 2918 ، أحمد: 48/2 ، شافعي: 789 ، طيالسي: 1015 ، دارمي: 34/2 ، اين الجارود: 433 ، شرح معاني الآثار: 124/2 ، بيهقي: 44/5 ، حميدي: 660 ، طبراني صغير: 87/1 ، ابن خزيمة: 2621 ، ابن حبان: 3804 ، الحلية لأبي نعيم: 196/8]
مردوں کو اونچی آواز سے تلبیہ کہنا چاہیے
خلاد بن سائب اپنے والد (حضرت سائب رضی اللہ عنہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرئیل تشریف لائے :
فأمرني أن أمر أصحابي أن يرفعوا أصواتهم بالإ هلال
”اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے ساتھیوں کو بلند آواز سے تلبیہ کہنے کا حکم دوں ۔“
[صحيح: صحيح ابن ماجة: 2364 ، كتاب المناسك: باب رفع الصوت بالتلبية ، صحيح ابو داود: 1592 ، المشكلة: 2549 ، ابن ماجة: 2922 ، مؤطا: 334/1 ، ابو داود: 1814 ، نسائي: 162/5 ، ترمذي: 829 ، أحمد: 56/4 ، مسند شافعي: 894 ، دارمي: 34/2 ، حميدي: 853 ، ابن خزيمة: 2625 ، ابن حبان: 3791 ، حاكم: 450/1]
بلند آواز سے تلبیہ کہنا اجر میں اضافے کا باعث ہے
حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کون سا حج افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
العج والثج
”جس میں بلند آواز سے تلبیہ پکارا جائے اور قربانی دی جائے ۔“
[صحيح: صحيح ابن ماجة: 2366 ، الصحيحة: 1500 ، ترمذى: 827 ، كتاب الحج: باب ما جاء فى فضل التلبية والنحر ، ابن ماجة: 2924 ، دارمي: 31/2 ، ابن خزيمة: 2631 ، أبو يعلى: 117 ، حاكم: 451/1 ، بيهقي: 42/5]
تلبیہ کہنے کی فضیلت
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی تلبیہ کہنے والا تلبیہ کہتا ہے تو اس کے دائیں اور بائیں جانب زمین کے آخری کناروں تک تمام پتھر ، درخت اور کنکریاں سب لبیک پکارتے ہیں (جس کا اجر بھی تلبیہ کہنے والے کو ملتا ہے۔ )
[صحيح: صحيح ابن ماجة: 2363 ، كتاب المناسك: باب التلبية ، المشكاة: 2550 ، ابن ماجة: 2921]
تلبیہ کا اختتام
دورانِ حج جمرہ عقبی کو آخری کنکری مارنے کے بعد تلبیہ ختم ہو جائے گا جیسا کہ پیچھے ایک روایت میں بیان کیا جا چکا ہے کہ :
ثم قطع التلبية مع آخر حصاة
”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری کنکری کے ساتھ تلبیہ ختم کیا۔“
[ابن خزيمة بسند صحيح: 2887 ، وقال حديث صحيح]
عمرے میں تلبیہ کب ختم کیا جائے
دورانِ عمرہ طواف شروع کرنے سے پہلے تلبیہ ختم کر دیا جائے جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عمرے میں حجر اسود کا استلام کرتے ہی تلبیہ ختم کر دیتے ۔“
[ترمذي: 919 ، كتاب الحج: باب ما جاء متى تقطع التلبية فى العمرة ، ابن خزيمة: 2697 ، ابو داود: 1817 ، اس حديث كو شيخ البانيؒ نے مرفوعا ضعيف جبكه حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوفا صحيح كها هے ۔ ضعيف ترمذي: 158 ، إرواء الغليل: 1099 ، ضعيف ابو داود: 316]
اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد امام ترمذیؒ رقمطراز ہیں کہ
والعمل عليه عند أكثر أهل العلم
”اہل علم کی اکثریت کا اسی پر عمل ہے“
اور مزید فرماتے ہیں کہ امام سفیانؒ ، امام شافعیؒ ، امام احمدؒ اور امام اسحاقؒ بھی اسی کے قائل ہیں۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

1