تابعین عظام رحمہ اللہ کی سنت سے محبت اور ان کے اصول وضوابط :
سنن دارمی میں جناب قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن سیرین رحمہ اللہ نے کسی آدمی سے حدیث رسول بیان کی تو کسی شخص نے کہا یہ کہ فلاں نے ایسا ایسا کہا ہے۔ اس پر ابن سیرین نے غصہ ہو کر کہا: کہ میں تم سے حدیث رسول بیان کر رہا ہوں اور تم کہہ رہے ہو فلاں فلاں نے ایسا کہا؟ تم سے کبھی بات نہ کروں گا۔
سنن دارمی: 97/1۔
تفقہ فی الدین اور تعلیم کتاب وسنت کا طریقہ تابعین نے بھی وہی اختیار کیا جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تھا، کیونکہ تابعین، صحابہ رضی اللہ عنہم کے شاگرد تھے، اور ان پر ان کا رنگ چڑھا ہوا تھا۔ چنانچہ ابو سہیل کہتے ہیں کہ میری بیوی نے مسجد حرام میں تین دن اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی۔ میں نے جناب عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ سے سوال کیا اور ساتھ میں امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ بھی تھے کہ اس کو اعتکاف کے ساتھ صوم بھی رکھنا ہے؟ زہری رحمہ اللہ نے کہا کہ بغیر صوم کے اعتکاف نہیں۔
اس پر جناب عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے پوچھا کہ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے؟ کہا کہ نہیں۔ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے پوچھا: کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے؟ کہا: کہ نہیں۔ کہا: سید نا عمر رضی اللہ عنہ سے؟ کہا: نہیں۔ کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے؟ کہا: نہیں۔ تو جناب عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے کہا: میری رائے یہ ہے کہ اس عورت کے لیے روزہ ضروری نہیں۔ وہاں سے نکلا تو طاؤس اور عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے ملاقات ہوئی۔ جناب طاؤس نے کہا: کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا فتویٰ یہ ہے کہ اگر اس نے صوم کی نذر اعتکاف کے ساتھ نہیں مانی ہے تو پھر اس پر صوم واجب نہیں۔ عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ نے فرمایا: کہ میری بھی یہی رائے ہے۔
سنن دارمی: 54/1 ۔
سید نا عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد آپ کے خلفا نے سنت پر ثابت قدم رہ کر بتلا دیا کہ اس کی پابندی در حقیقت قرآن مجید کی تصدیق، اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور دین متین کو تقویت پہنچانا ہے۔ جو اس پر عمل پیرا ہو، وہ راہ یاب ہے، جس نے اس سے مدد چاہی وہ فائز المرام ہے اور جو اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گیا، اس نے مومنین ، صالحین و کاملین سے بغاوت کی راہ اختیار کی ، اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو منہ کی کھلائے گا اور جہنم رسید کرے گا۔“
چنانچہ سنن ترمذی میں ہے:
«عن ابن عباس أن النبى صلى الله عليه وسلم قلد نعلين، وأشعر الهدي، ثم قال سمعت يوسف بن عيسى يقول: سمعت وكيعا يقول حين روى هذا الحديث فقال: لا تنظروا إلى قول أهل الر أى فى هذا، فإن الإشعار سنة، وقولهم بدعة وقال: سمعت أبا السائب يقول: كنا عند وكيع فقال لرجل عنده ممن ينظر فى الرأي: أشعر رسول الله صلى الله عليه وسلم ، ويقول أبو حنيفة: هو مثلة قال الرجل: فإنه قد روي عن إبراهيم النخمي أنه قال: الإشعار مثلة، قال: فرأيت وكيعا غضب غضبا شديدا ، وقال: أقول لك، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ، وتقول: قال إبراهيم، ما أحقك بأن تحبس ثم لا تخرج حتى تنزع عن قولك هذا»
سنن الترمذی، 218، 219، الفقيه والمتفقه، ص: 138.
”سید نا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کے جانور کا اشعار کیا، اور اس کی گردن میں کوئی چیز لٹکائی، امام ترمذی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے یوسف بن عیسی سے سنا: وہ کہتے تھے کہ میں نے وکیع سے سنا: جب آپ نے اس کی روایت کی تو کہا کہ: اس مسئلے میں اہل رائے کی بات نہ سنو، اشعار سنت رسول ہے اور ان کا قول بدعت ہے، ابو السائب کہتے ہیں کہ ہم وکیع رحمہ اللہ کے پاس بیٹھے تھے، ایک آدمی جو رائے اور قیاس کرتا تھا اس سے کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشعار کیا، ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ اشعار مثلہ ہے ، اس آدمی نے کہا کہ ان کی دلیل یہ ہے کہ ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ اشعار مثلہ ہے، ابو السائب کہتے کہ میں نے وکیع کو دیکھا کہ بہت سخت غصہ ہوئے اور کہا کہ میں تم سے کہہ رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا، اور تم کہتے ہو کہ ابراہیم نے کہا تم اس لائق ہو کہ تمہیں جیل میں بند کر دیا جائے اور جب تک اس سے توبہ نہ کر لو تمہیں جیل سے نہ نکالا جائے ۔“
امام عامر بن شرحبیل الشعبی (تابعی متوفی 104ھ) فرماتے ہیں:
«ما حدثوك هؤلاء عن رسول الله فخذ به، وما قالوه برأيهم فألقه فى الحش»
یہ لوگ تجھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو حدیث بتا ئیں اسے مضبوطی سے پکڑ لو اور جو بات وہ اپنی رائے سے خلاف کتاب وسنت کہیں اسے کوڑے کرکٹ پر پھینک دو۔
سنن الدارمی: 27/1 ، رقم: 206۔
امام حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«ليس أحد من الناس إلا وأنت آخذ من قوله أوتارك إلا التبي»
”لوگوں میں سے ہر آدمی کی بات آپ لے بھی سکتے ہیں اور رد بھی کر سکتے ہیں سوائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آپ کی ہر بات لینا فرض ہے۔ “
الاحكام لابن حزم: 293/6۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«وكذلك تابعوهم أيضا يرجعون إلى الكتاب والسنة، فإن لم يجدوا نظروا ما أجمع عليه الصحابة، فإن لم يجدوا اجتهدوا، واختار بعضهم قول صحاتي فرآه الأقوى فى دين الله تعالى»
”یہی تابعین کی حالت تھی وہ بھی فقہی مسائل میں کتاب وسنت کی طرف رجوع کیا کرتے تھے۔ اگر وہ کوئی مسئلہ کتاب وسنت میں نہ پاتے تو اس بات کو دیکھتے جس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع ہے۔ اگر اجماع بھی نہ پاتے تو اپنے طور پر اجتہاد کرتے ۔ بعض تابعین تو صحابی کے اس قول کو لے لیتے جسے وہ اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے قوی تر سمجھتے ۔ “
ائمہ کرام رحمہ اللہ کی سنت نبوی سے محبت اور ان کے اصول:
ائمہ کرام رحمہ اللہ کتاب و سنت سے بہت زیادہ محبت کیا کرتے تھے، ان ائمہ کی تفقہ فی الدین کی بنیاد ان اصولوں پر تھی:
1: کتاب الله عز وجل۔
2: سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔
3: اجماع صحابہ یا غیر صحابہ۔
4: آثار صحابہ ، خصوصاً خلفاء اربعہ۔
5: قیاس۔
امام ابوحنیفہ رحمہ الله (المتوفی: 150ھ):
اُصول فقہ:
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے امام یحیی بن معین اور خطیب بغدادی وغیرہ نے نقل کیا ہے کہ: یحیی بن الفریس کہتے ہیں کہ سفیان ثوری کے پاس ایک شخص نے آ کر کہا کہ ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے آپ ناراض کیوں ہیں؟ میں نے ان کو کہتے سنا ہے کہ میں کتاب اللہ سے مسئلہ لیتا ہوں، نہ ملے تو سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لیتا ہوں ، نہ ملے تو صحابہ کے اقوال سے لیتا ہوں ۔ ان کے اختلاف کی صورت میں جس کے قول کو زیادہ مناسب سمجھتا ہوں اسے لے لیتا ہوں اور جس کو چاہتا ہوں چھوڑ دیتا ہوں۔ لیکن صحابہ کے اقوال سے نہیں نکلتا ہوں ۔ البتہ جب معاملہ ابراہیم نخعی، شعبی ، ابن سیرین، حسن بصری، عطاء بن ابی رباح اور سعید ابن المسیب وغیرہ تابعین تک پہنچتا ہے تو جیسا انہوں نے اجتہاد کیا ہے میں بھی اجتہاد کرتا ہوں ان کے اقوال کی پابندی نہیں کرتا۔
تاریخ ابن معين برواية الدوری: 63/4 ، تاریخ بغداد: 368/13 اخبارابي حنيفة للصيمري، ص: 10.
حسن بن صالح رحمہ اللہ کہتے ہیں: امام ابوحنیفہ حدیث میں ناسخ اور منسوخ کو بڑی کدوکاوش سے تلاش کرتے۔ اگر ان کے نزدیک حدیث رسول یا آثار صحابہ صحیح ثابت ہو جاتے تو اس پر عمل کرتے۔ وہ اہل کوفہ کی حدیث اور فقہ کے عالم تھے کوفہ کے لوگوں کے عمل کی شدید اتباع کرتے۔ اہل کوفہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جو آخری فعل پہنچے ان کے حافظ تھے۔ کہا کرتے تھے کہ کتاب اللہ میں کچھ چیزیں منسوخ ہیں، اسی طرح حدیث میں بھی منسوخ ہیں۔
اخبار ابو حنيفة للصميري ص: 10 .
ابو حمزہ اسکری رحمہ اللہ کہتے ہیں: کہ میں نے ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے کہتے ہوئے سنا ہے کہ صحیح سند سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث ثابت ہو تو میں اسے لیتا ہوں ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مختلف اقوال میں کسی کو اختیار کر لیتا ہوں۔ تابعین کے اقوال کو چھوڑ کر میں انہیں کی طرح اجتہاد کرتا ہوں اور ان کے قول سے نہیں نکلتا ہوں۔
الإنتقاء لابن عبدالبں: 144 ، 145.
امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو کہتے سنا ہے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث مل جائے تو وہ سر آنکھوں پر صحابہ کے اقوال مل جائیں تو ان کے مختلف اقوال میں سے ہم کسی ایک کا اختیار کریں گے، تابعین کے اقوال سامنے آئیں تو ہم بھی انہی کی طرح اجتہاد کریں گے۔
اقوال:
1: «إذا صح الحديث فهو مذ ہبي»
حاشیه ابن عابدین: 63/1۔ حاشية على البحر الرائق: 293/2.
”کہ میرامذہب صحیح حدیث ہے۔ “
2: «إِذَا رَأَيْتُمْ كَلَامَنَا يُخَالِفُ ظَاهِرَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ فَاضْرِبُوا بِكَلَامِنَا الْحَائِط»
میزان شعرانی۔
” جب دیکھو کہ ہمارے اقوال قرآن اور حدیث کے خلاف ہیں تو قرآن اور حدیث پر عمل کرو اور ہمارے اقوال کو زمین پر دے مارو “
3 : «قال الإمام أبو حنيفة لا تقلدني ولا تقلدن مالكا ولا غيره وخذ الأحكام من حيث أخذوا من الكتاب والسنة كذا فى الميزان وغيره»
حقيقت الفقه.
”حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا، میری تقلید نہ کرنا ، اور نہ مالک رحمہ اللہ کی ، اور نہ کسی اور کی تقلید کرنا اور احکام دین وہاں سے لینا، جہاں سے اُنہوں نے لیے ہیں یعنی کتاب وسنت سے۔ “
4: «حرام على من لم يعرف دليلى أن يفتي بكلامي»
میزان شعرانی۔
”میرے قول پر فتویٰ دینا حرام ہے، جب تک میری بات کی دلیل معلوم نہ ہو ۔“
5 : امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا:
«لا أقلد التابعى لأنهم رجال ونحن رجال ولا يصح تقليده»
نور الانوار ص: 219، طبع یوسفی.
”میں کسی تابعی کی تقلید نہیں کرتا اس لیے کہ وہ بھی ہماری طرح انسان ہیں ان کی تقلید جائز نہیں۔“
6 : حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم امام (ابو حنیفہ ) کے قول پر مقدم ہے۔
هدايه: 502/1۔
7 :«لا يحل لأحد أن نا خذ بقولنا ما لم يعلم من أين أخذناه.»
الانتقاء في فضائل الثلاثة الائمة الفقهاء ابن عبدالبر ص: 145 ۔ اعلام الموقعين ابن قيم: 309/1 ۔ حاشیه ابن عابدين علي البحر الرائق: 293/3 ۔ رسم المفتی ، ص: 29، 32۔ میزان شعرانی: 55/1 .
”کسی کے لیے یہ حلال ہی نہیں کہ وہ ہمارے قول کے مطابق عمل کرے جب تک کہ اسے یہ معلوم نہ ہو کہ ہمارے قول کا ماخذ کیا ہے۔ “
آپ سے ایک یہ قول بھی منقول ہے:
8 : آپ نے اپنے شاگرد رشید قاضی ابو یوسف کو ایک مرتبہ مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: افسوس ہے تجھ پر اے یعقوب ! ہر بات جو مجھ سے سنتے ہو، اسے نہ لکھا کرو، کیونکہ میں آج ایک رائے اختیار کرتا ہوں اور کل اسے چھوڑ دیتا ہوں اور کل ایک رائے اختیار کرتا ہوں اور اسے پرسوں ترک کر دیتا ہوں۔
آپ سے ایک یہ ارشاد بھی منقول ہے:
9 : «إذا قلت قولا يخالف كتاب الله تعالى وخبر الرسول فاتركوا قولي»
ایقاظ همم اولی الابصار ص : 50.
”جب میرا قول کتاب اللہ اور حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہو تو میرے قول کو ترک کردو“
10 : ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے ابو یوسف رحمہ اللہ سے کہا: ”تم اصول دین یعنی کلام کے بارے میں عام لوگوں سے گفتگو کرنے سے بچ کر رہنا، کیونکہ یہ لوگ تمہاری تقلید کریں گے، اور اسی میں پھنس جائیں گے ۔“
مناقب ابي حنيفة ، ص: 373.
امام مالک رحمہ اللہ (المتوفی 179ھ):
اُصول فقہ:
اسی طرح امام مالک رحمہ اللہ سے بھی آپ کے اصول وضوابط کو ثقات ائمہ نے نقل کیا ہے۔ مطرف بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام مالک رحمہ اللہ کو کہتے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنتیں جاری فرمائیں، اور آپ کے بعد علماء و حکام نے کچھ سنتیں جاری کیں ان سب پر تمسک کتاب اللہ کی اتباع ہے۔ اور اللہ کی اطاعت کی تکمیل ہے۔ نیز دین کے لیے باعث قوت ہے کہ کسی کو تغیر و تبدیل کا حق حاصل نہیں۔ نہ ہی ان کے خلاف کسی اور چیز کی طرف دیکھنا ہے۔ انہی سے ہدایت لینے والا ہدایت یاب ہے۔ جس نے ان سے مدد لی وہی غالب اور کامیاب ہے۔ جس نے ان سنتوں کو ترک کر دیا اس نے مومنوں کے راستے کے خلاف راستہ کی پیروی کی۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنے اختیار پر چھوڑ دے گا۔ اور جہنم کے برے ٹھکانے میں اسے داخل کر دے گا۔
الحلية: 324/6 ۔
اسحاق بن عیسی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ نے کہا: کہ جب بھی کوئی بحث و مباحثہ کرنے والا آئے تو کیا ہم جبریل علیہ السلام کے ذریعہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ دین کو چھوڑ دیں گے .
الحلية: 324/6.
لیث بن سعد رحمہ اللہ نے جو مکتوب امام مالک رحمہ اللہ کو بھیجا تھا، اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمین خصوصاً اہل مدینہ کے صحابہ کرام کے آثار کو کس سختی اور جد و جہد سے تلاش کرتے اور ان کی اتباع کرتے ۔
اعلام الموقعين : 170/3.
اقوال:
1: «إنما أنا بشر أخطئ وأصيب فانظروا فى رأى كلما وافق الكتاب والسنة فخذوه وكلما لم يوافي الكتاب والسنة فا تركوه.»
جامع بيان العلم 91/20، الاحكام لابن حزم: 145/6 .
”میں بشر ہوں! مجھ سے غلطی اور درستگی دونوں کا احتمال ہے، میری ہر بات کی تحقیق کیا کرو، جو کتاب وسنت کے موافق ہو اس پر عمل کر لیا کرو، جو مخالف ہوا سے رد کر دیا کرو ۔ “
2 : امام قعنبی رحمہ اللہ جو آپ کے خاص تلامذہ میں سے تھے انہوں نے امام محترم کی آنکھوں سے آنسو نکلتے دیکھے تو سبب پوچھا۔ امام محترم فرمانے لگے قعنبی ! میں نہ روؤں تو کون روئے۔ اے کاش! مجھے میرے ہر قیاسی فتوے کے بدلے میں ایک کوڑا مارا جاتا۔ یہی گریہ جاری تھا لب متحرک تھے کہ اس عالم میں جان جان آفرین کے سپر د کر دی۔ اور یوں 86 سال کی عمر پا کر 179ھ کو انتقال فرمایا۔
3 : امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس کی بات لی اور چھوڑی نہ جاسکتی ہو صرف اور صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ایسے ہیں جن کی ہر بات کا قبول کرنا فرض ہے۔
ارشاد السالك: 227/1 ۔
4 : امام ابن وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں امام مالک رحمہ اللہ کے پاس تھا کسی نے مسئلہ پوچھ لیا کہ وضو میں پاؤں کی، انگلیوں کے خلال کا کیا حکم ہے؟ امام مالک رحمہ اللہ فرمانے لگے کہ هذا ليس بشبي ”کہ یہ کوئی چیز نہیں “ یعنی اس بارے میں کوئی حدیث نہیں ہے۔ امام ابن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب لوگ چلے گئے اور امام مالک اکیلے رہ گئے تو میں ان کے پاس گیا، اور عرض کیا کہ استاد محترم! اس بارے میں ہمیں ایک حدیث اس سند کے ساتھ پہنچی ہے۔ حدثني ليث بن سعد وابن لهيعة وعمرو بن حارث ان تینوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے یزید بن عمرو سے، انہوں نے ابوعبد الرحمن الحبلی سے اور انہوں نے مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنی خنصر سے پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرتے تھے، تو امام مالک رحمہ اللہ فرمانے لگے : یہ حدیث حسن ہے۔ عبد اللہ بن وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد امام مالک رحمہ اللہ سے پھر کسی نے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا: ہاں انگلیوں کا خلال کرنا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
مقدمه جرح و تعدیل، ص: 31، 32۔ سنن الكبرى للبيهقي: 76/1، 77.
امام شافعی رحمہ اللہ (وفات 204ھ) :
اُصول فقہ:
امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنے اصول کو خود اپنی تالیفات میں واضح طور پر بیان فرمایا ہے۔ نیز ثقات نے بھی بہت کچھ سنہرے اصول آپ سے نقل کیے ہیں۔
آپ کے اقوال دیگر ائمہ سے اصول اتباع وسنت کے بارے میں زیادہ منقول اس لیے بھی ہیں کہ آپ کے زمانے میں مذاہب اور اقوال علماء پر تعصب مزید ہو چکا تھا۔ اسی طرح امام احمد بن حنبل کے زمانے میں بھی تعصبات میں شدت آچکی تھی اس لیے آپ سے بھی اس مسئلے
میں اقوال کثرت سے منقول ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں : اصل الأصول قرآن وسنت ہے، اگر دونوں میں مسائل کا حل نہ ملے تو انہیں دونوں پر قیاس کرنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سند سے حدیث ثابت ہو تو وہی سنت ہے۔ اجماع ، خبر یعنی حدیث و آثار صحابہ سے قوی ہے۔ حدیث کو اس کے ظاہر ہی پر محمول کرنا ہے۔ اگر کئی معانی کا اشتباہ ہو تو جو سب سے ظاہر معنی ہے اسی کولیا جائے گا۔ اگر کئی احادیث میں اختلاف ہو تو جو سب سے صحیح سند سے ہے وہی راجح ہے۔ جس حدیث کی سند میں انقطاع ہے سوائے سعید بن مسیب کی منقطع کے وہ ضعیف ہے۔
الفقيه والمتفقه : 23/1.
نیز فرمایا: کسی کو بغیر علم کے کسی چیز کے بارے میں حلال و حرام کا فتویٰ دینا جائز نہیں اور علم کے مصادر کتاب وسنت، اجماع اور قیاس ہیں۔
دوسرے مقام پر کہا کہ علم کے مصادر کتاب وسنت، اجماع، آثار اور بیان کردہ طریقے پر قیاس ہے۔
کے اجتہاد پر اس کے لیے عمل کرنا جائز نہیں۔
الرسالة، ص: 8583۔
پھر فرمایا کہ علم کے دو طریقے ہیں:
(1) اتباع
(2) استنباط
اتباع یہ ہے: کہ کتاب اللہ پر عمل کیا جائے ، اگر مسئلہ کتاب اللہ میں نہ ملے تو سنت رسول پر عمل ہو، اگر سنت رسول میں نہ ملے تو سلف کے اقوال پر عمل ہو ۔ ان سب کے نہ ہونے کی صورت میں اللہ کی کتاب کی دلیل پر قیاس ہو، نہیں تو سنت کی دلیل پر قیاس ہو، نہیں ہے تو عام سلف کے متفق علیہ قول پر قیاس کیا جائے۔ تمام ادلہ کے نہ ہونے کی صورت میں قیاس کے بغیر کہنا جائز نہیں۔
اور جن کے لیے قیاس کرنا جائز ہے، اگر ان میں قیاس و اجتہاد میں اختلاف ہو تو ہر ایک کو اپنے اجتہاد کے مطابق عمل کرنا ہے، دوسرے کے اجتہاد پر اس کے لیے عمل کرنا جائز نہیں۔
كتاب الأم: 153/1 .
مزید فرمایا: حجت کتاب وسنت میں اور آثار صحابہ میں ہے۔ مسلمانوں کے قول یعنی اجماع میں ہے۔ اور نہیں تو مذکورہ حجتوں پر قیاس بھی حجت ہے۔
كتاب الأم:31/2.
نیز فرمایا : بات وہی قبول کی جائے گی جو کتاب و سنت یا صحابہ کرام سے ثابت شدہ آثار یا اجماع سے ہو۔
كتاب الأم: 343/2.
نیز فرمایا : جو احکام کتاب وسنت میں ہوں ان کی اتباع نہ کرنے میں کوئی عذر نہیں۔ بہر حال ان کی اتباع واجب ہے۔
اگر کتاب وسنت میں نہیں تو صحابہ کے اجماعی اقوال کو لیں گے۔ اگر اجماع نہیں ہے تو ابوبکر و عمر وعثمان رضی اللہ عنہم کی تقلید ہمارے لیے سب سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
كتاب الأم: 265/7.
مزید کہا: ائمہ کا طریقہ ہم نے یہ پایا کہ کوئی بات کہنی ہو تو لوگوں سے کتاب وسنت کا علم پوچھتے تھے۔ ان کی اپنی رائے کے خلاف اگر کسی مسئلہ کی خبر ملی تو کتاب وسنت کی خبر کو قبول کر لیتے ۔ اپنے تقویٰ کی بنا پر کتاب وسنت کی طرف رجوع کر لیتے انکار نہ کرتے۔ اگر ہمیں ائمہ کی تحقیق نہ ملے تو صحابہ کرام کے اونچے مقام کی بنا پر ان کے قول کو لیں گے۔ ان کے بعد کے لوگوں کی پیروی کی بجائے صحابہ کی پیروی افضل ہے۔ اور علم کے کئی درجات ہیں:
پہلا درجہ :
کتاب وسنت صحیحہ کا ہے۔
دوسرا درجہ :
اجماع کا ہے جہاں کتاب وسنت نہ ملے۔
تیسرا درجہ :
کسی صحابی کے قول کا ہے اگر ان کا کوئی مخالف نہیں۔
چوتھا درجہ :
صحابہ کے مختلف اقوال و آراء کا ہے۔
پانچوں درجہ :
قیاس کا ہے بشرطیکہ ان مذکورہ درجات پر قیاس کیا گیا ہو۔
لیکن یاد رہے کہ کتاب وسنت کے ہوتے ہوئے کسی اور دلیل کو لینا جائز نہیں۔ اس کے با وجود امام شافعی رحمہ اللہ قیاس کو مجبوری اور اضطراری حالات میں استعمال فرماتے۔ آپ نے فرمایا کہ ہم اجماع سے فیصلہ کریں گے اس کے بعد قیاس سے۔ اجماع کی یہ نسبت قیاس بہت ہی ضعیف دلیل ہے مگر اضطراری حالات کے لیے ہے۔ خبر (حدیث ) کی موجودگی میں قیاس کرنا حلال نہیں بعینہ تیمم کی طرح کہ پانی کے ہوتے ہوئے تیمم جائز نہیں ۔ اسی طرح سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کی دلیلیں اس وقت حجت ہوگی جبکہ سنت نہ پائی جائے۔
الرسالة ، ص: 559، 560۔ دیکھیں : آداب الشافعي ومناقبة لابن ابی حاتم۔ مناقب الشافعی للبیھقی۔ معرفة السنن والآثار للبيهقى الفقيه والمتفقه للخطيب.
اقوال:
1 : امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا جب میں کوئی بات کہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان میری بات کے خلاف ہو تو یا درکھو کہ جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سند صحیح ثابت ہو وہی لائق اتباع ہے لہذا میری تقلید نہ کرنا ۔
کتاب الامتاع از امام بیهقی
2 : «قال الشافعي : إذا قلت قولا وكان النبى قال خلاف قولي فما يصح من حديث النبى أولى فلا تقلدوني »
عقد الجيد.
” امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا : جب میں کوئی مسئلہ بتاؤں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے قول کے خلاف فرمایا ہو تو جو مسئلہ حدیث سے ثابت ہو وہی افضل ہے۔ پس میری تقلید مت کرو۔“
3 :«إنه كان يقول إذا صح الحديث فهو مذبسبي إذا رأيتم كلامي يخالف الحديث فاعملوا بالحديث واضربوا بكلامي الحائط»
عقد الجيد.
” امام شافعی رحمہ اللہ فرما یا کرتے ، جب صحیح حدیث مل جائے پس جان لو کہ میرا مذہب وہی ہے ( اور ) جب میری بات کو حدیث کے مخالف دیکھو تو ( خبر دار ) حدیث پر عمل کرو اور میری بات کو دیوار پر دے مارو “
امام شافعی رحمہ اللہ نے امام احمد کی خدمت میں عرض کیا:
4 : «أنتم أعلم بالحديث والرجال مني ، فإذا كان الحديث الصحيح فا علموني به أى شيء يكون كوفيا أو بصريا أو شاميا حتى أذهب إليه»
آداب الشافعی، ابن ابی حاتم ص: 94، 95 ۔ حلية الأولياء ابونعیم 106/9۔ الاحتجاج بالشافعی، خطيب، ص: 8.
” آپ کو میری نسبت حدیث اور رجال کا زیادہ علم ہے۔ لہذا آپ کی تحقیق کے مطابق جب کوئی حدیث صحیح ہو تو مجھے بھی بتا دیا کریں خواہ وہ کوفی ہو یا بصری ہو یا شامی تاکہ حدیث کے صحیح ہونے کی صورت میں میں بھی اس کے مطابق عمل کروں ۔“
آپ تو یہاں تک فرمایا کرتے تھے :
5 : «إذا رأيتموني أقول قولا وقد صح عن النبى خلافه، فاعلموا أن عقلي قد ذهب»
آداب الشافعی ابن ابی حاتم ص : 39ـ حلية الأولياء: 106/9 ۔ ابن عساکر : 10/15.
”جب تم یہ دیکھو کہ میں ایک بات کہہ رہا ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے خلاف ثابت ہے تو جان لو کہ میری عقل جواب دے گئی ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے:
6 : «كل ما قلت فكان عن النبى خلاف قولي مما يصم فحديث النبى أولى فلا تقلدوني»
ابن عساکر : 9/1۔
” میری ہر وہ بات جس کے خلاف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان صحیح سند سے ثابت ہو، تو میری تقلید نہ کرو بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر عمل کرو ۔ “
امام شافعی فرماتے ہیں:
7 :«أجمع المسلمون على أن من استبان له سنة عن رسول الله لم يحل له أن تدعها لقول احد»
اعلام الموقعين : 361/2 ایقاظه ص: 68.
” مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت واضح ہو جائے تو اس کے لیے یہ حلال نہیں کہ کسی کے قول کی وجہ سے سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دے۔“
8 : كل العلوم سوى القرآن مشغلة
إلا الحديث وإلا الفقه فى الدين
العلم ما كان فيه قال حدثنا
وسوى ذاك من وسواس الشياطين
مواهب الوفي في مناقب الشافعي
” قرآن وحدیث اور تفقہ فی الدین کے علاوہ تمام علوم مشغلہ ومصروفیت ہیں ۔ علم وہی ہے جس میں یہ ہو کہ فلاں نے یہ حدیث بیان کی وگر نہ صرف شیطانی وساوس ہی ہیں ۔ “
9 : امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا:
”ہر شخص سے سنت رسول کبھی مخفی رہ سکتی ہے، لہذا جب میں کوئی بات کہوں یا کوئی اصول بیان کروں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے خلاف ہو تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو تسلیم کرو، وہی میرا قول ہے۔ “
ایقاظهمم أولى الأبصار ص : 100 ۔ اعلام الموقعين: 363/2.
10 : امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«ففرض الله على الناس اتباع وحبه وسنن رسوله »
الرسالة، ص: 76 ، رقم: 244
”اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر اپنی وحی اور اپنے رسول کی سنن کی اتباع فرض کی ہے۔ “
11 : امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«كل ما قلت وكان عن النبى صلى الله عليه وسلم خلاف قولىٰ مما يصح فحديث النبى صلى الله عليه وسلم أولى، ولا تقلدوني»
آداب الشافعي و مناقبه لا بن ابی حاتم، ص: 15.
”میری ہر بات جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث کے خلاف ہو، اُسے چھوڑ دو، پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سب سے زیادہ لائق اتباع ہے، لہذا میری تقلید نہ کرو۔ “
12 :امام مزنی رحمہ اللہ نے فرمایا:
«اختصرت هذا الكتاب من علم محمد بن إدرئيس الشافعي رحمه الله ومن معنى قوله لأقربه على من أراده مع اعلامية نهيه عن تقليده وتقليد غيره، لينظر فيه لحديثه ويحتاط فيه لنفسه»
الام مختصر المزني ص: 1.
”میں نے یہ کتاب (امام) محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ کے علم سے مختصر کی ہے تا کہ جو شخص اسے سمجھنا چاہے آسانی سے سمجھ لے، اس کے ساتھ میرا یہ اعلان ہے کہ امام شافعی نے اپنی تقلید اور دوسروں کی تقلید سے منع فرما دیا ہے تا کہ شخص اپنے دین کو پیش نظر رکھے اور اپنے لیے احتیاط کرے۔ “
امام احمد بن حنبل والله (وفات 241 ھ) :
أصول فقه:
اسی طرح ائمہ ثقات نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے بھی آپ کے اصول نقل کئے اور وہ ان پر عمل کرتے رہے۔ اثرم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ احمد بن حنبل کے منجملہ اور مسائل کے جنہیں ہم نے ان سے سنا ہے، انہیں دیکھا بھی ہے کہ اگر کسی مسئلے میں کوئی حدیث ہوتی تو وہ کسی صحابی یا تابعی وغیرہ کی بات اس کے خلاف نہ لیتے ۔ اور اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مختلف اقوال انہیں ملتے تو ان میں سے کسی ایک کو ترجیح دے کر قبول کرتے۔ اسی طرح اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نہ ملتی نہ ہی صحابہ کے اقوال ملتے تو تابعین کے اقوال میں سے کسی کا قول اختیار کرتے ۔ عمرو بن شعیب اور ابراہیم ھجری کی حدیث کی طرح اگر حدیث میں کچھ ضعف بھی ہوتا تو اسے لے لیتے اگر اس سے قوی کوئی حدیث نہ ملتی۔ اسی طرح مرسل حدیث کے خلاف بھی کوئی حدیث نہ ملتی تو اسے قبول کرتے۔
الفقيه والمتفقه : 321/1۔
ابو محمد رزق اللہ تمیمی نے امام احمد کے اصول کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ کا یہ کہنا تھا کہ احکام شرعیہ اور ان مسائل میں جن میں ظاہری علوم کا دخل نہیں دلیلوں کے پانچ اصول ہیں :
پہلا اصل:
اللہ کی کتاب ہے۔ اور یہ آیت پڑھتے تھے:
مَّا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِن شَيْءٍ
(6-الأنعام:38)
”ہم نے کتاب میں کوئی چیز بیان کئے بغیر نہیں چھوڑی۔ “
دوسرا اصل :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ استدلالاً یہ آیت پڑھتے :
فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ
(4-النساء:59)
”اگر کسی چیز میں اختلاف ہو تو اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو ۔ “
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آپ کی وفات کے بعد لوٹانے کا معنی یہ ہے کہ آپ کی سنت کی طرف لوٹایا جائے۔ عليكم بسنتي کی حدیث کی روایت بھی کرتے ، اور یہ آیت پڑھتے:
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا
(59-الحشر:7)
”جو کچھ رسول تمھیں دیں اسے لے لو اور جس سے منع کریں اس سے باز آجاؤ۔“
تیسرا اصل :
کسی زمانہ کے علماء کا اجماع ہے اگر وہ آپس میں اختلاف نہ کریں۔ اگر ان میں سے ایک عالم نے بھی اختلاف کر دیا تو اجماع ثابت نہ ہوگا۔ اجماع کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ بعض علماء سے کوئی قول مشہور ہو دوسرے لوگوں کو اس کا علم ہولیکن کسی نے اس کا انکار نہ کیا ہو۔
پہلا درجہ اجماع صحابہ رضی اللہ عنہم کا ہے بعد کے لوگوں کو اس کے تابع رہنا ہے۔
چوتھا اصل :
کسی ایک صحابی کا قول ہے جولوگوں میں مشہور ہو۔ کسی صحابی نے اس پر نکیر نہ کی ہو۔
پانچواں اصل :
یہ قیاس ہے۔
قیاس کی تعریف یہ ہے: کہ کسی مسئلے کا شرعی حکم ثابت ہو تو اسی جیسے دوسرے مسئلے پر بھی مشترک سبب کی بنا پر حکم لگانا اور اگر دونوں مسئلوں میں کوئی مشترک سبب نہ ہو تو قیاس جائز نہیں۔
امام رحمہ اللہ ایسے ہی قیاس کو جائز سمجھتے تھے پھر بھی قیاس کو دلیلوں کے درمیان مجبوری میں مردہ کا گوشت کھانے اور پانی نہ ہونے کی صورت میں مٹی سے تیمم کی طرح جانتے تھے۔
اصول مذهب الامام احمد و مشربه المطبوع باخر طبقات الحنابله لابن ابن یعلی : 283/2، 285.
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ امام احمد رحمہ اللہ کے اصول کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ کے فتاوی کی بنیاد پانچ اصول و قواعد پر تھی :
پہلا قاعدہ :
نصوص ہیں ۔ نصوص کے مطابق فتوی دیتے اس کے خلاف کسی چیز کی طرف توجہ نہ دیتے۔ صحیح حدیث پر کسی کے قول عمل، رائے ، قیاس ، صحابی کے قول اور نہ اس اجماع کے دعوی کو ترجیح دیتے جسے بہت سے علماء صحیح حدیث پر ترجیح دیتے ہیں، بلکہ اس قسم کے اجماع کا دعوی کرنے والے کو امام احمد جھٹلاتے تھے۔ اسے حدیث پر ترجیح دینے کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔
دوسرا قاعدہ :
صحابہ کے فتاوی ہیں اگر کسی صحابی کا فتویٰ جس کا صحابہ میں سے کوئی مخالف نہ ہوتا تو اس فتوی کو نہ چھوڑتے ۔ آپ تو رّع میں اس قسم کے قول کو اجماع نہ کہتے بلکہ اس طرح کہتے کہ مجھے اس فتوی کے مخالف فتویٰ کا علم نہیں ہے۔
تیسرا قاعدہ :
یہ ہے کہ صحابہ کے اختلافی مسائل میں جو کتاب وسنت سے زیادہ قریب ہوتا اسی کو اختیار کرتے لیکن صحابہ کے اقوال سے باہر نہ جاتے ۔ اگر کسی قول کی ترجیح آپ کے نزدیک ظاہر نہ ہوتی تو بغیر ایک کے اختیار کئے تمام اقوال کا ذکر کرنے پر اکتفا کرتے۔
امام احمد رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ کسی بستی میں آدمی سے ایسا مسئلہ پوچھا جائے جس میں لوگوں کا اختلاف ہے تو کیا کرے؟ آپ نے کہا: کہ کتاب وسنت کی موافقت میں فتوی دے اور جو کتاب وسنت کے موافق نہ ہو اس کا فتوی نہ دے۔ کہا گیا کہ اس صورت میں اس پر کوئی خوف نہیں؟ کہا نہیں۔
چوتھا قاعدہ :
مرسل اور ضعیف حدیث سے استدلال لینا ہے۔ جبکہ اس موضوع میں کوئی دوسری حدیث اسے دفع نہ کرتی ہو۔ آپ نے اسی حدیث کو قیاس پر ترجیح دیا ہے۔ البتہ ضعیف سے مراد باطل اور منکر حدیث نہیں ہے۔ اور نہ ایسی حدیث مراد ہے جس کی سند میں کوئی متہم بالکذب راوی ہو، جس سے مسئلہ لینا جائز نہ ہو، بلکہ ضعیف حدیث سے مراد حسن درجہ کی حدیث ہے۔ اگر کسی مسئلہ میں کوئی قول صحابی یا اجماع اس کے خلاف نہ ہو آپ کے نزدیک ایسی ضعیف حدیث پر عمل قیاس پر عمل سے افضل ہے۔
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ : تمام ائمہ کرام اس رائے میں امام احمد کے موافق ہیں۔ اس کے بعد ابن قیم رحمہ اللہ نے امام ابو حنیفہ ،شافعی اور مالک رحمہ اللہ سے کئی ایسے مسائل ذکر کئے ہیں جن میں انہوں نے ضعیف حدیث سے استدلال کیا ہے۔
پانچواں قاعدہ :
اگر امام کے پاس کسی مسئلہ میں کتاب وسنت کا نص نہ ہو، نہ قول صحابہ یا قول صحابی اور نہ ہی مرسل اور ضعیف حدیث تو قیاس کو مجبوری کی صورت میں استعمال فرماتے ۔ ابو الحارث کی روایت میں امام نے کہا کہ رائے اور قیاس کی ضرورت نہیں، حدیث میں سب کچھ ہے۔ میمونی کی روایت میں آپ نے فرمایا: کہ فقہ سے متعلق بولنے والا جمل اور قیاس سے دوری ہے۔
یہ پانچ اصول و قواعد آپ کے فتاوی کے مدار اور بنیاد تھے۔ کبھی آپ فتوکی سے توقف فرماتے ۔ جب دلیلیں متعارض ہو تیں یا صحابہ کا اختلاف ہوتا یا مسئلے میں صحابی یا تابعی کا فتوئی نہ پاتے یا جس مسئلے میں سلف کا کوئی اثر نہ پاتے تو اس میں فتویٰ کو سخت مکر وہ جانتے اور فتوی دینے سے سختی سے منع فرماتے۔ جیسا کہ آپ نے بعض شاگردوں سے فرمایا : جس مسئلے میں تم سے پہلے کسی امام نے فتوی نہ دیا ہو تو اس میں ہرگز نہ بولنا۔
اعلام الموقعين : 33، 29/1۔
اقوال:
1 : «لا تقلدني ولا تقلد مالكا ولا الشافعي ولا الأوزاعي ولا التورئ وخذ من حيث أخذوا من الكتاب والسنة»
عقد الجيد.
”ہرگز میری تقلید نہ کرنا اور نہ امام مالک رحمہ اللہ کی اور نہ امام شافعی رحمہ اللہ کی اور نہ امام اوزاعی رحمہ اللہ کی اور نہ امام ثوری رحمہ اللہ کی اور نہ ان کے سوا کسی اور کی تقلید کرنا ، کتاب وسنت سے احکام لو جہاں سے انہوں نے لیے ہیں ۔ “
2 : امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے :
« عجبت لقوم عرفوا الإسناد وصحته يذهبون إلى ر أى سفيان والله يقول: ﴿فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾
(24-النور:63) اتدرى ما الفتنة؟ الفتنة الشرك، لعله إذا رد بعض قوله أن تقع فى قلبه شيئ من الزيغ فيهلك»
مجھے ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے، جو اسناد کو بھی جانتے ہیں اور اس کی صحت کو بھی، اس کے باوجود سفیان رحمہ اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں، باوجود اس بات کے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(24-النور:63)
”سنو جو لوگ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آ پڑے یا انہیں درد ناک عذاب (نہ) پہنچے۔ “
3 : امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا:
«من رد حديث رسول الله فهو على شفا هلكة »
المناقب لابن الجوزي ص: 182.
” جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو رد کر دے، وہ تباہی و ہلاکت کے کنارے پر ہے۔ “
5 : امام ابو داود السجستانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
میں نے امام احمد سے پوچھا: کیا امام اوزاعی، امام مالک سے زیادہ متبع سنت ہیں؟ انہوں نے فرمایا:
«لا تقلد دينك أحدا من هؤلاء الخ»
”اپنے دین میں، ان میں سے کسی ایک کی بھی تقلید نہ کر ۔ الخ “
مسائل ابی داود، ص: 277 ۔
6 : امام احمد فرماتے ہیں:
«ليس لأحد مع الله ورسوله كلام»
عقد الجيد: 81.
”اللہ اور اس کے رسول کے مقابلے میں کسی کا کلام کوئی حقیقت نہیں رکھتا ۔ “
7 : اوزاعی مالک اور ابوحنیفہ کی آراء، آراء ہی ہیں میرے نزدیک ان کا درجہ دلیل و حجت نہ ہونے میں یکساں ہے اور دلیل و حجت تو صرف احادیث اور آثار ہیں ۔
جامع بيان العلم لابن عبد البر : 149/2.