سوال
اگر امام مسجد وقت کی پابندی نہ کرے اور اس سے نمازیوں میں اختلاف پیدا ہو جائے تو کیا ایسے امام کی امامت جائز ہے؟
جواب
کسی امام کی امامت کو محض وقت کی پابندی نہ کرنے کی بنا پر ناجائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس بات کی کوشش ضرور کی جانی چاہیے کہ امام اپنے مقررہ وقت کی پابندی کرے تاکہ نمازیوں کے درمیان نظم و ضبط برقرار رہے۔ وقت کا تعین کرنے میں اصل اختیار امام کا ہوتا ہے، اور مقتدیوں کو صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے۔ معمولی تاخیر، جیسے پانچ یا دس منٹ، کو بنیاد بنا کر اختلاف اور انتشار پیدا نہیں کرنا چاہیے۔
یقیناً، نماز کا اول وقت میں ادا کرنے کا اجر بہت زیادہ ہے، لیکن جماعت میں اتفاق و اتحاد کو برقرار رکھنا بھی بہت اہم ہے اور اس کا اجر بھی کسی سے کم نہیں۔
حوالہ: اہل حدیث سوہدرہ جلد نمبر ۳ شمارہ نمبر ۱۴