نماز میں آیات کا جواب دینا

تحریر: الشیخ مبشر احمد ربانی حفظ اللہ

سوال : ہمارے ہاں نماز میں امام جب سورۃ الاعلیٰ پڑھتا ہے تو مقتدی اس کا جواب دیتے ہیں کیا ایسا کرنا سنت رسول سے ثابت ہے ؟
جواب : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے :
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ” كَانَ إِذَا قَرَأَ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى سورة الأعلى آية 1، قَالَ : سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى [أبوداؤد، كتاب الصلاة : باب الدعاء فى الصلاة 883 ]
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ پڑھتے تو کہتے سُبْحَانَ رَبِّيَ الْاَعْلٰي۔
یہ روایت ضعیف ہے۔ اس کی سند میں ابواسحاق سبیعی ہے جو مدلس ہے اور صیغہ عن سے روایت کرتا ہے اور یہاں تصریح بالسماع نہیں ہے۔ علاوہ ازیں ثقات رواۃ نے اسے موقوفاً بیان کیا ہے۔ علاوہ ازیں ترمذی شریف میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہما پر سورہ رحمٰن پڑھی اور صحابہ خاموش رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لَقَدْ قَرَأْتُهَا عَلَي الْجِنِّ لَيْلَةَ الْجِنِّ فَكَانُوْا اَحْسَنَ مَرْدُوْدًا مِّنْكُمْ
”میں نے یہ سورت ایک رات جنوں پر پڑھی تو وہ تم سے اچھا جواب دیتے تھے۔ “
جب ہر بار میں اس آیت پر پہنچتا تھا : ﴿فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ﴾ تو وہ جواب میں کہتے : لا بشيء من نعمك ربنا نكذب فلك الحمد ” اے ہمارے رب ! تیری نعمتوں میں سے ہم کسی چیز کو نہیں جھٹلاتے، پس تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں۔“ [ترمذي، كتاب تفسير القرآن : باب ومن سورة الرحمٰن 3291، تفسير ابن كثير 289/4، ابن عدي 1074/3، حاكم 473/2 ]
یہ روایت اپنے شواہد کی بنا پر حسن درجہ کی ہے مگر اس میں نماز کا ذکر نہیں ہے۔ یہ عام حالات میں تلاوت کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور حسن حدیث میں آتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بعض نماز میں اَللّٰهُمَّ حَاسِبْنِيْ حِسَابًا يَّسِيْرًا
”اے اللہ ! میرا حساب آسان فرما“ کہتے۔
امام حاکم رحمہ اللہ نے اس حدیث کو مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے اور امام ذہبی رحمہ اللہ نے تلخیص میں ان کی موافقت کی ہے۔ [ حاكم 501۔ 200، احمد 6/ 48، ابن خزيمة 849 ]
ان احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جو آدمی قرأت کرے وہ جواب دے یا عام حالات میں جب تلاوتِ قرآن ہو تو سامع بھی جواب دے سکتا ہے لیکن مقتدی کا قرآن سن کر جواب دینا مجھے کسی حدیث سے نہیں ملا۔ والله اعلم

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
لنکڈان
ٹیلی گرام
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
پرنٹ کریں
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں: