مرزا غلام احمد قادیانی عقائد ، اخلاق اور زبان کے آئینے میں

تحریر: پروفیسر محمد جمن کنبھر، سکرنڈ

اس دنیا میں عزت، وقار ، اور عظمت کے جتنے بھی منصب اور عہدے ہیں ان سب میں ’’ نبوت و رسالت ‘‘ کا منصب و مقام سب سے اونچا، عظیم المرتبت اور شاندار ہے۔ یہ منصب علیا کسی کو اپنی ذاتی محنت، علم، عقل، صلاحیت، تجر بے ، دولت ، حسن اور نسب کی بنیاد پر نہیں ملتا بلکہ یہ خالصتاً اللہ تعالی کی مرضی اور پسند پر منحصر ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان مبارک ہے:
اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ ۗ الانعام: ۱۲۴
اللہ ہی جانتا ہے کہ کہاں وہ اپنی پیغمبری رکھے۔
اس آیت مبارک سے معلوم ہوا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو اپنے ذاتی اور لامحدود علم کی بنیاد پر پہلے سے ہی یہ معلوم ہے کہ جسمانی خصائل اور روحانی اوصاف کی بنیاد پر بندوں میں رسول، نبی بننے کی اہلیت اور صلاحیت کس میں موجود ہے۔ بھلاوہ شخص بھی کوتاہی کر سکتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ اپنی وحی نازل کرتا ہے۔
اللہ تعالی کا فرمان مبارک ہے:
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ ٱللَّهُ إِلَّا وَحۡيًا أَوۡ مِن وَرَآيِٕ حِجَابٍ أَوۡ يُرۡسِلَ رَسُولٗا فَيُوحِيَ بِإِذۡنِهِۦ مَا يَشَآءُۚ إِنَّهُۥ عَلِيٌّ حَكِيمٞ الشوریٰ: ۵۱
نا ممکن ہے کہ کسی انسان سے اللہ تعالیٰ کلام کرے مگر وحی کے ذریعہ سے یا پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتہ کو بھیجے پھر وہ اللہ کے حکم سے جو وہ چاہے وحی کرے بیشک وہ بہتر حکمت والا ہے۔
اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ایک ہی جگہ پر ۱۸ بر گزیدہ انبیاء علیہم السلام کا ذکر فرمایا ہے۔ ان سب کے متعلق بڑی تعظیم والے الفاظ فرمائے ہیں مثلاً،
كُلًّا هَدَيْنَا
( ہر ایک کو ہم نے ہدایت کی )
كُل من الصالحين
( سب نیک لوگوں میں سے تھے)
وَكُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ
( اور ہم نے ہر ایک کو تمام جہان والوں پر فضیلت دی)
وَاجْتَبَيْنَاهُمْ وَهَدَيْنَاهُمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(اور ہم نے ان کو مقبول بنایا اور ہم نے ان کو راہ راست کی ہدایت کی )
اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ الانعام: ۹۰-۸۷-۸۴
یہ لوگ ایسے تھے جن کو اللہ نے ہدایت کی تھی)
بیان کی گئی آیات مبارکہ سے معلوم ہوا کہ جس دور میں جو شخص بھی نبی اور رسول بن کر آیا تھاوہ اس وقت اپنی قوم، قبیلے اور علاقے میں اوصاف حمیدہ اور خصائل جمیلہ کے اعتبار سے نہایت ممتاز مقام کے مالک تھے وہ اپنی ظاہری اور باطنی زندگی کے جملہ امور مثلاً اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے، سونے جاگنے ، کلام کرنے، دوستی دشمنی، امانتداری، وعدہ وفائی، خوشی غمی، ہنسی مذاق، شادی بیاہ، تجارت، لین دین اور امور مرورہ میں سب لوگوں سے بڑھ کر بہترین خصوصیات اور منفرد طبیعت ومزاج کا مالک ہو تا تھا۔ جب دنیوی اعتبار سے ایک شخص میں اتنی خوبیاں اور خاصیتیں موجود تھیں تب بھی لوگوں کی اکثریت نے اسے نہ مانا، بلکہ طرح طرح کے الزامات سے انہیں نوازا، جب ایک شخص کا ماضی بھی داغدار ہو اور کتنے امور میں لوگوں کے سامنے معتوب ہو تو وہ شخص بھلا کیسے نبی بن سکتا ہے اور لوگ کیسے اس پر ایمان لاتے ؟
جملہ انبیاء علیہم السلام میں اللہ تعالی نے امام کائنات، خاتم النبین محمد رسول اللہ ﷺ کو ساری بشری خوبیاں اور رسالت کی سب خصوصیات ودیعت کی تھیں کیونکہ، آپ کو صرف ایک قوم، قبیلے علاقے یا محدود مدت کے لئے نہیں بھیجا گیا تھا بلکہ حکم ربی ہے کہ :
وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ سبا: ۲۸
اور ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبریاں سنانے والا اور (اللہ کے عذاب) سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے لیکن اکثر لوگ یہ باتیں نہیں جانتے۔
قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا الاعراف: ۱۵۸
آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں۔
وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ الانبياء: ۱۰۷
او ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا(45)وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا(46) الاحزاب: ۴۶ ۔۴۵
اے نبی! (ﷺ) یقیناً ہم نے آپ کو (بحیثیت رسول) گواہیاں دینے والا اور خوشخبریاں سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ ۔
وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۚ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ الحشر : ۷
اور تمہیں رسول جو کچھ دے وہ لے لو اور جس (چیز – کام) سے روکے رک جاؤ۔
لَقَدْ كانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ الاحزاب: ۲۱
یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ (ﷺ) کی بابرکت ذات میں عمدہ نمونہ ہے۔
بیان کی گئیں آیات مبارکہ سے بادی کا نات محمد رسول اللہ ﷺ کی چند خصوصیات ذکر کی گئیں تا کہ یہ بات آسانی سے سمجھ میں آسکے کہ جس عظیم المرتبت شخصیت کو خاتم النبیین بناکر بھیجا گیا ہے وہ کتنی صفات عالیہ کے مالک ہیں۔ نبی مکرم محمد مصطفی ﷺ کی پاکیزہ صفات میں سے صرف ایک صفت ’’اخلاق کاملہ ‘‘ کا مختصراً ذکر کرتے ہیں۔ اللہ تعالی کا فرمان مبارک ہے کہ :
قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةًؕ-قُلِ اللّٰهُ- شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ الانعام: ۱۹
(اے نبی ﷺ) آپ کہیے کہ سب سے بڑی چیز گواہی دینے کے لئے کون ہے ؟ آپ کہیے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے۔
اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اس کا ئنات میں سب سے بڑی اور سب سے سچی گواہی اللہ تعالی کی ہے۔ اللہ تعالی نے محمد مصطفی ﷺ کے متعلق ایک عظیم گواہی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ :
وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ القلم: ۴
اور بیشک آپ تو بہت بڑے اخلاق پر (فائز) ہیں۔
مشہور مفسر قرآن حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ اس آیت کے تفسیر میں رقمطراز ہیں:
ومعنى هذا انه عليه الصلاة والسلام صار امتثال القرآن امرا و نهيًا سجية له و خلقا تطبعه وترك طبعه الحيلى فمهما امره القرآن فعله و مهمانهاه عنه تركه، هذا مع جمله الله عليه من الخلق الغيم من الحيا ولكرم والشجاعة والصفاح والحلم وكل خلق جميل الدمشقی، حافظ عماد الدین بن ابو الفداء اسماعیل بن عمر بن کثیر، امام المفسرين، تفسیر القرآن العظيم طبع کویت، ۴/ ۵۱۷۔
اس کا مطلب یہ کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی جبلت اور پیدائش میں (اللہ تعالیٰ) نے پسندیدہ اخلاق، بہترین خصلتیں اور پاکیزہ عادتیں رکھیں تھیں تو اس طرح آپ ﷺ کا عمل قرآن پر ایسا تھا گویا کہ آپ قرآن کا مجسم عملی نمونہ ہیں۔ ہر حکم کو بجالانے اور نہی سے رک جانے میں آپ کی حالت یہ تھی کہ گویا قرآن میں جو کچھ ہے وہ آپ کی عادات اور کریمانہ اخلاق کا بیان ہی ہے۔
عصر حاضر کی مشہور علمی شخصیت اور مفسر قرآن فضیلۃ الشیخ حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ مذکورہ بالا آیت کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ :
’’خلق عظیم سے مراد اسلام، دین یا قرآن ہے۔ مطلب ہے کہ تو اس خلق پر ہے جس کا حکم اللہ نے تجھے قرآن میں یادین اسلام میں دیا ہے۔ یا اس سے مراد وہ تہذیب و شائستگی، نرمی اور شفقت‘ امانت و صداقت، حلم و کرم اور دیگر اخلاقی خوبیاں ہیں جس میں آپ نبوت سے پہلے بھی ممتاز تھے اور نبوت کے بعد ان میں مزید بلندی اور وسعت آئی۔
یوسف صلاح الدین، حافظ‘ القرآن الکریم مع اردو ترجمه و تفسیر، شاه فهد قرآن کریم پر نٹنگ کمپلیکس، مدینه المنورہ‘ ۱۴۱۷ هجری، ص: ۱۱۶۱
سعد بن هشام ابن عامر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا:
أنبيينِي عَنْ خُلُقٍ رَسُولِ اللهِ ﷺ . قَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْ أن قُلْتُ بَلَى قَالَتْ فَإِن خُلق بين الله كان القرآن النیشابوری، ابوالحسن مسلم بن الحجاج بن مسلم القشیری، امام، صحیح مسلم: ۱۷۳۹
ہمیں رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں خبر دیجئے ! فرمایا کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا ہے؟
ہم نے عرض کیا کہ جی ہاں، تو آپ نے کہا کہ اللہ کے نبی ﷺ کا خلق قرآن ہی ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
كان رسول الله ﷺ من احسن الناس خلقا ایضاً: ۶۰/۵
رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ خوش خلق تھے۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ سے روایت ہے کہ :
لم يَكُن رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ فاحِشًا ولا متفحِّشًا وَكانَ يقولُ : مِن خيارِكُم أحاسِنُكُم أخلاقًا البخاری، ابو عبد الله محمد بن اسماعیل ، امام، صحیح البخاری: ۶۰۳۵
رسول الله ﷺ بد زبان اور لڑنے جھگڑنے والے نہ تھے۔ آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سب سے زیادہ بہتر وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔
ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
ما من شيءٍ أثقلُ في ميزانِ المؤمنِ يومَ القيامةِ من خُلقٍ حسنٍ وإنَّ اللهَ يُبغضُ الفاحشَ البذيءَ الترمذی، ابو عیسیٰ محمد عیسیٰ ، امام، جامع الترمذی: ۲۰۰۲
قیامت والے دن میزان میں مومن بندے کے حسن اخلاق سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہ ہوگی اور یقیناً اللہ ہر بد زبان اور بے ہودہ گوئی کرنے والے کو نا پسند کرتا ہے
بیان کی گئیں قرآن کریم کی آیات مبارکہ اور صحیح احایث صادقہ سے معلوم ہوا کہ سب انبیاء علیہم السلام میں امام کائنات محمد رسول اللہ ﷺ مجسمہ اخلاق تھے۔ آپ کے بعد آپ کے متبعین اور محبین اخلاق حسنہ کے پیکر ہوتے ہیں۔ ایک مومن مسلمان کا اخلاق اس کے ذاتی کردار، زبان کی واور لب ولہجہ، تحریر و تقریر ، کھانے پینے ، اٹھنے، بیٹھنے‘ اوڑھنے پچھونے ، دوستی، دشمنی لین دین اور اپنے مخالفین سے برتاؤ وغیرہ سے معلوم کیا جاتا ہے، کسی نے کیا خوب کہا ہے:
يامن تقاعد من مکارم حلقه لیس التفاخر بالعلوم الفاخرة من لہ يهذب علمه اخلاقه لن ينتفاع بعلومه فی الآٰخرة
اس مختصر تمہید کے بعد اب آتے ہیں مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی کی طرف۔ انیسویں صدی کا یہ وہ شخص ہے جس نے فوقتاً مسیح، مہدی موعود‘ر سول اللہ کے بروز‘ رسول اور نبی ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔ بحمدہ تعالٰی اس وقت موجود علمائے حق نے اس کو آڑے ہاتھوں لیا اور نہ صرف اس کا خوب رد اور تعاقب کیا بلکہ اس کے جھوٹے متبعین کو بھی ہر محاذ پر شکست فاش دی۔
الحمد للہ علی ذالک۔
یہاں ہم اس بد بخت اور مفتری شخص کی زبانی گفتگو جو کہ تحریری صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے کو موضوع سخن بناتے ہیں۔ سچ ہے کہ :
تامرد سخن نگفته باشد عیب و ہنرش نہفتہ باشد
مرزا غلام احمد قادیانی نے اللہ سبحانہ و تعالیٰ،انبیاء علیہم السلام،علماء حق اور عام مسلمانوں کے متعلق جس اخلاق اور طرز فکر کا اظہار کیا ہے اگر اس کو ہی سامنے رکھ کر عدل سے فیصلہ کیا جائے تو یہ شخص نبی اور صحابی بننے کے لئے تو ہر گز لائق نظر نہ آئیگا بلکہ ایک عام سا مسلمان بھی بننے کے اہل نہ تھا کیونکہ جس طرح اس نے اپنے رذیل خیالات، فاسد نظریات، سفلہ پن اور کمینگی کا اظہار کیا ہے کون غیر تمند موحد اور متبع سنت مسلمان اس کو مسلمان مانے گا۔ اگر یہ الفاظ کسی شخص کو کڑوے معلوم ہوں تو اس جھوٹے کی اپنی اور اس کے گھر کی گواہیاں ذکر کرتے ہیں تاکہ اس شخص کا ظاہر اور باطن سمجھنے میں کوئی وقت محسوس نہ ہو:
لطف پر لطف ہے املا میں میرے یار کے یار
حاء حطی سے گدھا لکھتا ہے ھا ھوز سے ہمار

اللہ تعالی کے متعلق مرزا غلام احمد قادیانی کے خیالات و عقائد

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ئنات کا خالق و مالک ہے۔ اس نے اپنا تعارف قرآن مجید میں ان الفاظ مقدسہ میں بیان فرمایا ہے :
بسم الله الرحمن الرحيم
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ (1) اللَّهُ الصَّمَدُ (2) لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ (3) وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ (4) الاخلاص: ۴ ۔۱
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ایک ہی ہے۔ اللہ بے پروا ہے۔ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ ہی کوئی اس کا ہمسر ہے۔
هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ(3) الحديد: ۳
وہی پہلا ہے اور وہی آخر ہے اور وہی ظاہر ہے اور وہی باطن ہے اور وہی ہر چیز کو بخوبی جاننے والا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کے پاس آئیں اور آپ سے خادمہ عطا کرنے کی درخواست کی۔ آپ نے انہیں ایک دعا سکھائی جس میں یہ الفاظ ہیں کہ :
اللهُمَّ أَنْتَ الأَوَّلُ فَلَيْسَ أَبْلَكَ شَيْءٌ وَأَنتَ الأخرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَئ ء القزوینی، ابو عبد الله محمد بن یزید بن ماجہ، امام، سنن ابن ماجه : ۳۸۳۱، صحیح مسلم : ۶۸۸۹
اے اللہ ! تو اول ہے تجھ سے پہلے کچھ نہیں تھا۔ اور تو آخر ہے تیرے بعد کچھ نہیں اور تو ظاہر ہے تجھ سے اوپر کچھ نہیں اور تو باطن ہے تجھ سے پوشیدہ تر کچھ نہیں۔
اللہ تعالٰی کا فرمان مبارک ہے کہ :
لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌۚ-وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ الشوریٰ: ۱۱
اس جیسی کوئی چیز نہیں وہ سننے اور دیکھنے والا ہے۔
قرآن مجید میں ایک اور مقام پر اللہ تعالی کا فرمان مبارک ہے کہ :
فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (74) الخحل: ۷۴
شیخ العرب والعجم علامہ سید بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ مذکورہ آیات مبارکہ اور حدیث مبارکہ کی روشنی میں فرماتے ہیں کہ ’’ الاول‘‘ کا معنیٰ ہے کہ وہ سب سے پہلے ہے۔ اس کی کوئی ابتدا یا شروعات نہیں ہے۔ سب اشیاء اس کے بعد (اس کے حکم سے) پیدا ہوئی ہیں۔ اللہ تعالی بے مثل ہے کوئی چیز اس جیسی نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی چیز جیسا ہے۔ ثابت ہوا کہ اللہ کے علاوہ جو بھی چیز کتنی ۔ قدیم اور پرانی کیوں نہ ہو مگر وہ حادث اور نئی تصور کی جائیگی کیونکہ اس کے پیدا ہونے اور وجود میں آنے کا کوئی نہ کوئی وقت ہے۔ جب اللہ نے چاہاتب کوئی نہ کوئی چیز پیدا فرمائی اور اللہ کا وجود ازلی اوراصل سے ہے۔ دوسری ہر موجود چیز کی مثال ہو سکتا ہے۔ خالق اور مخلوق دونوں کے وجود میں فرق کو ظاہر کرنا اور دوسری چیزوں کی صورت اور صفت اور ہئسیت کو بیان کیا جا سکتا ہے مگر اللہ بے مثل ہے۔ اس ذات با برکت کے متعلق کچھ بھی بیان نہیں کیا جا سکتا صرف اس کی قدرت کی نشانیاں دیکھ کر اس پر ایمان لانا اور اس کی بندگی کرنی ہے۔
الراشدی، سید بدیع الدین شاه، علامه، توحید ربانی (سندھی) المکتبہ الراشدیہ ، نیو سعید آباد، طبع دوم ۸۹,۲۰۰۸
روح القدس جبرئیل امین علیہ السلام کا آسمان سے وحی الی لے کر آنے کا سلسلہ ھادی کائنات ، خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد ختم ہو گیا ہے لیکن ابلیس لعین کی طرف سے یہ دروازہ کھلا ہوا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان مبارک ہے کہ :
وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓـٕهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْۚ الانعام: ۱۲۱
اور یقیناً شیاطین اپنے دوستوں کی طرف وحی کرتے رہتے ہیں تا کہ وہ تم سے جھگڑا کرتے رہیں۔
اس آیت کی روشنی میں اب ہم مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف ابلیس ملعون کی توسط سے پہنچنے والے ان وساوس کا ذکر کرتے ہیں جو اس کی اور اس کے متبعین کی کتابوں میں موجود ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی بزرگی اور کبریائی میں اس مفتری اور کذاب نے جس ڈھٹائی سے اپنے مذموم خیالات کا اظہار کیا ہے اس کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں :
مرزا بشیر الدین بن مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے کہ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ غالباً یہ ۱۸۸۴ء کی بات ہے کہ میں نے مرزا غلام احمد کو عرض کیا کہ حضور یہ آپ پر سُرخی کہاں سے گری ہے؟ حضور نے بہت بے توجہی سے فرمایا کہ آموں کار سا ہو گا اور مجھے ٹال دیا۔ میں نے دوبارہ عرض کیا کہ حضور یہ آموں کار سا نہیں یہ تو سرخی ہے۔ اس پر آپ نے سر مبارک کو تھوڑی سے حرکت دے کر فرمایا ’’ کتھے ہے ‘‘ یعنی کہاں ہے ؟ میں نے کرتہ پر وہ نشان دکھا کر کہا کہ یہ ہے۔ اس پر حضور نے کرتے کو سامنے کی طرف کھینچ کر اور اپنے سر کو ادھر پھیر کر اس قطرہ کو دیکھا ( اور مجھ سے کہا) جس وقت تم حجرہ میں ہمارے پاؤں دبارہے تھے میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک نہایت وسیع اور مصفٰے مکان ہے۔ اس میں ایک پلنگ بچھا ہوا ہے اور اس پر ایک شخص حاکم کی صورت میں بیٹھا ہے۔ میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ احکم الحٰکمین یعنی رب العلمین ہیں اور میں اپنے آپ کو ایسا سمجھتا ہوں جیسے حاکم کا کوئی رشتہ دار ہوتا ہے۔ میں نے کچھ احکام قضاو قدر کے متعلق لکھتے ہیں اور ان پر دستخط کرانے کی غرض سے ان کے پاس لے چلا ہوں۔ جب میں پاس گیا تو انہوں نے مجھے نہایت شفقت سے اپنے پاس پلنگ پر بٹھالیا۔ اس وقت میری ایسی حالت ہو گئی کہ جیسے ایک بیٹا اپنے باپ سے چھڑا ہوا سالہا سال کے بعد ملتا ہے اور قدر تا اس کے دل میں اس وقت یہ بھی خیال آیا کہ یہ احکم الحٰکمین یا فرمایا رب العالمین ہیں اور کس محبت اور شفقت سے انہوں نے مجھے اپنے پاس بٹھا لیا ہے۔ اس کے بعد میں وہ احکام جو لکھے تھے دستخط کرانے کی غرض سے پیش کیے۔ انہوں نے قلم سرخی کی دوات میں جو پاس پڑی تھی ڈبو یا اور میری طرف جھاڑ کر دستخط کر دیے۔ میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں کہ حضرت صاحب نے قلم کے جھاڑنے اور دستخط کرنے کی حرکتوں کو خود اپنے ہاتھ کی حرکت سے بتایا تھا کہ یوں کیا تھا پھر حضرت صاحب نے فرمایا یہ وہ سرخی ہے جو اس قلم سے نکلی ہے۔ پھر فرمایا:
دیکھو کوئی قطرہ تمہارے اوپر بھی گرا؟ میں نے اپنے کرتے کو اد ہر ادھر سے دیکھ کر عرض کیا کہ حضور میرے پر تو کوئی نہیں گرا۔ فرمایا کہ تم اپنی ٹوپی پر دیکھو۔ ان دنوں میں عمل کی سفید ٹوپی میرے سر پر ہوتی تھی۔ میں نے وہ ٹوپی اتار کر دیکھی تو ایک قطرہ اس پر بھی تھا۔۔۔ قادیانی، مرزا بشیر احمد ، سیرت المہدی، احمد یہ کتاب گھر قادیان ۸۲/۱
میاں عبداللہ صاحب نے یہ بیان بھی کیا کہ ایک دفعہ میں کھانا چھوڑنے گیا تو حضور نے فرمایا مجھے خدا اس طرح مخاطب کرتا ہے اور مجھ سے اس طرح کی باتیں کرتا ہے کہ اگر میں ان میں سے کچھ تھوڑا سا بھی ظاہر کروں تو یہ جتنے معتقد نظر آتے ہیں سب پھر جاویں۔ اور بعض اوقات دیر دیر تک خدا تعالیٰ مجھ سے باتیں کرتا رہتا ہے اگر ان کو لکھا جاوے تو کئی ورق ہو جاویں۔
ایضاً: ۷۰۷۲/۱
اللہ تعالی کو دیکھنے کے حوالے سے مرزا غلام احمد ایک جگہ پر لکھتا ہے کہ :
میں نے بھی اپنے والد صاحب کی شکل پر اللہ تعالی کو دیکھا ان کی شکل بڑی بارعب تھی انہوں نے ریاست کا زمانہ دیکھا ہوا تھا اس لئے بڑے بلند ہمت اور عالی حوصلہ تھے۔ غرض میں نے دیکھا کہ وہ ایک عظیم الشان تخت پر بیٹھے ہیں اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ خدا تعالیٰ ہے۔ اس میں سر یہ ہوتا ہے کہ باپ چونکہ شفقت اور رحمت میں بہت بڑا ہوتا ہے اور قرب اور تعلق شدید رکھتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالی کا باپ کی شکل میں نظر آنا اس کی عنایت تعلق اور شدت محبت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس لئے قرآن شریف میں بھی آیا ہے کذکرکم آباءکم اور میرے الہامات میں یہ بھی ہے ’’ ان منی بمنزلة اولادی‘‘ تم مجھے میری اولاد کی طرح ہو۔ یہ قرآن شریف کی اسی آیت کے مفہوم اور مصداق پر ہے۔ قادیانی، غلام احمد ، مرزا، ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام (روحانی خزائن (۲) الناشر الشركة الاسلامیہ لمیٹیڈ (ربوہ ۲۶۸/۳/۱۹۰۲)
مرزا غلام احمد قادیانی ایک جگہ پر اللہ تعالی کے متعلق نسبت کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ مجھے خدانے کہا:
انت من ماء نا وهم من فشل قادیانی، غلام احمد ، مرزا، مکتوب عربی بنام علماء‘ ۱۹۲۲ء طبع دوم‘ ۵۵
تو ہمارے پانی سے ہے اور وہ لوگ بزدلی سے۔
ایک اور جگہ پر مرزا لکھتا ہے کہ :
خاصبنی الله بقوله اسمع ياولدی قادیانی، غلام احمد ، البشریٰ اسلامیہ، سٹیم پریس لاھور ، ۴۹/۱۰/۱۹۱۳
اللہ نے مجھے یہ کہہ کر خطاب کیا کہ اے میرے بیٹے ! سن۔
مرزا غلام احمد کا ایک خاص معتقد قاضی یار محمد قادیانی لکھتا ہے کہ :
حضرت مسیح موعود (مرزاغلام احمد) نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ نے رجولیت کا اظہار فرمایا یار محمد ، قاضی ، اسلامی قربانی، ۳۴
ایک جگہ پر مرزا غلام احمد لکھتا ہے کہ :
میں نے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خدا ہوں اور یقین کر لیا کہ وہی ہوں۔۔۔ اور اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہوئی۔ میری اپنی عمارت گر گئی اور رب العالمین کی عمارت نظر آنے لگی اور الوہیت بڑے زور کے ساتھ مجھ پر غالب ہوئی۔ اور اس حالت میں، میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی۔ پھر میں نے منشاہ حق کے موافق اس کی ترتیب و تفریق کی اور میں دیکھا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا:
اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ
پھر میں نے کہا اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے اور میری زباں پر جاری ہوا۔
اردت ان استخلف فخلقت آدم انا خلقنا الانسان فی احسن تقویم
یہ الہامات ہیں جو اللہ تعالی کی طرف سے میری نسبت میرے پر ظاہر ہوئے۔قادیانی، غلام احمد، مرزا، آئینہ کمالات اسلام (واقع الوساس) مطبع قادیان، ماه فروری، ۱۸۹۳ – ۵۶۴
اللہ تعالی کے بے مثل وجود کے متعلق مرزا غلام احمد ایک جگہ پر لکھتا ہے کہ :
’’ہم تخیلی طور پر فرض کر سکتے ہیں کہ قیوم العالمین ایسا وجو د اعظم ہے جس کے بے شمار ہاتھ ، بے شمار پیر اور ہر ایک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور لاانتہا عرض و طول رکھتا ہے تیندوے کی طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں جو صفحہ ہستی کے تمام کناروں تک پھیل رہی ہیں اور کشش کا کام دے رہی ہیں۔قادیانی، غلام احمد ، مرزا، توضیح المرام، مطبع ریاض ہند پریسں امر تسر‘ ۱۸۹۷، ۷۵
ایک جگہ پر لکھتا ہے کہ :
خدا نے مجھے الہام کیا کہ :
انا نبشرك بغلٰم حليم مظهر الحق والعلا كأن الله نزل من السماء مصنفہ مرزا، مکتوب عربی بنام علماء ۶۲
ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جو حق اور بلندی کا مظہر ہو گا گو یا خدا آسمان سے اترا :
ایک جگہ لکھا ہے:
بابوالیٰ بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یاکسی پلیدی (کو) اور ناپاکی پر اطلاع پائے مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھائے گا جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے ، ایسا جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے ۔ قادیانی، غلام احمد، مرزا، تمتہ حقیقۃ الوحی، الناشر الشركة الاسلامیہ ، لمیٹڈ، ربوہ، ۱۵، مئی ۱۹۰۷ ۔۱۴۳
مرزا ایک جگہ پر لکھتا ہے:
انا أنزلناه قريباً من القاديان وبالحق أنزلناه قادیانی، غلام احمد، مرزا، انجام آتھم، مطبع کریکی ،لاہور ،۱۹۲۲ء، ۵۴
معزز قارئین کی خدمت میں ’’مشتے نمونہ از خروارے‘‘ کے طور پر چندہی باتیں نقل کی ہیں ورنہ اس حوالہ سے اور بھی بہت مواد کتب قادیان میں موجود ہے۔ ایک شخص ایک طرف کائنات کے عظیم منصب جلیلہ پر فائز ہونے کی ناکام کوشش کرتا ہے اور دوسری طرف اللہ سبحانہ و تعالٰی کی عظیم ذات با برکات کے متعلق اپنی بے لغام اور بے حجاب زبان کے ذریعے کیسی گندی، غلیظ اور واہیات بکواس کرتا ہے۔ ایک نبی‘ رسول تو اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا اور ادب بجالانے والا ہوتا ہے۔ قارئین کرام خود محسوس کریں کہ یہ شخص نبی بنے کے معیار پر پورا اترتا ہے ؟ ہر گز نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے پیغمبر محمد ﷺ کو جسمانی لحاظ سے معراج کرائی اور اپنی قدرت کی نشانیاں دکھائیں۔ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس جبرئیل علیہ السلام کے توسط سے وحی کے ذریعے گفتگو فرمائی۔ اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھو کہ ایک کذاب اور مفتری شخص سے ارض وسماء کارب زمین پر ملاقات اور آمنے سامنے بیٹھ کر گفتگو کرتا ہے۔ کبھی پلنگ پر بیٹھے اس سے ملتا ہے، ایسے ملتا ہے‘ جیسے باپ اپنے بچھڑے ہوئے بیٹے سے ملتا ہے اور رقت آمیز مناظر ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ اس شخص کے لکھے ہوئے کاغذات پر خود اپنی دستخط کرتا ہے۔ کوئی کاغذ ایسا نہیں چھوڑا جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنی دستخط (signature) نہ کی ہو ، مزے کی بات ہے کہ خالق کا ئنات کا قلم ، دنیا کے قلم کی طرح خشک ہو جاتا ہے۔ اور مجبوراً اسے جھاڑا جاتا ہے۔ اس قلم کی نوک سے سرخی کے چھینٹے مرزا کے کرتہ اور اس کے مرید خاص عبد اللہ سنوری کی ململ کی ٹوپی پر پڑے۔ کبھی خود خدابنتا ہے، کبھی اس کا بیٹا خدابنتا ہے کبھی اللہ تعالیٰ کے پانی سے پیدا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔
کبھی اللہ تعالٰی اسکو بیٹا کہہ کر پکارتا ہے کبھی عورت بنتا ہے اور حق تعالیٰ اس سے رجولیت کا اظہار فرماتا ہے، کبھی خدا ہو کر قادیان میں اترتا ہے، کبھی کہتا ہے کہ ’’ دو برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشوو نما پاتارہا۔ پھر جب اس پر دو برس گزر گئے تو جیسا کہ براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ ۴۹۶ میں درج ہے مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ بعد جو دس مہینہ سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم ص: ۵۵۶ میں درج ہے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔ قادیانی، غلام احمد مرزا، کشتی نوح، مطبع ضیاء الاسلام قادیان، بار هفتم‘ ۱۹۳۳، ۴۷ ۔۴۶ کبھی اللہ تعالیٰ کو اپنے اس باپ کی شکل میں دیکھتا ہے جو سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے تلوے تک بے دین اور بے عمل تھا۔ واقعہ ملاحظہ کریں:
’’ایک دفعہ قادیان میں ایک بغدادی مولوی آیا، دادا صاحب نے اس کی بڑی خاطر و مدارت کی۔ اس مولوی نے دادا صاحب سے کہا:
مرزا صاحب آپ نماز نہیں پڑھتے ؟ د اد ا صاحب نے اپنی کمزوری کا اعتراف کیا اور کہا کہ ہاں بیٹا میری غلطی ہے۔ مولوی صاحب نے پھر بار بار اصرار کے ساتھ کہا اور ہر دفعہ دادا صاحب ہی کہتے گئے کہ میرا قصور ہے۔ آخر مولوی صاحب نے کہا آپ نماز نہیں پڑھتے؟ اللہ آپ کو دوزخ میں ڈال دیگا۔ اس پر دادا صاحب کو جوش آگیا۔ اور کہا ’’ تمہیں کیا معلوم ہے کہ وہ مجھے کہاں ڈالے گا۔ میں اللہ تعالیٰ پر ایسا بد ظن نہیں ہوں، میری امید وسیع ہے۔ خدا فرماتا ہے:
’’ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ‘‘
تم مایوس ہو گئے میں مایوس نہیں ہوں ، اتنی بے اعتقادی میں تو نہیں کرتا۔ پھر کہا اس وقت میری عمر ۷۵ کی ہے آج تک خدا نے میری پیٹھ نہیں لگنے دی۔ سیرت المہدی ۲۳۱/۱
کبھی اس کو حیض نہیں بچہ ہوتا ہے، کبھی خود مریم بنتا ہے اور اس میں عیسیٰ کی روح ڈالی جاتی ہے جس کی وجہ سے حاملہ بن جاتا ہے اور دس مہینے تک حمل کی حالت میں رہتا ہے، کبھی ابن مریم بن جاتا ہے، کبھی ہندوں کا ’’اوتار‘‘ کرشن تمتہ حقیقتہ الوحی‘ ۸۵ اور کبھی ’’رد کو پال‘‘ بن جاتا ہے ایضاً: ۸۵ کبھی دل کے کہنے پر بیت اللہ بنتا ہے قادیانی، غلام احمد ، مرزا، حاشیہ اربعین، ص۱۶ اور کبھی حجراسود بھی بنتا ہے ایضاً: ص ۱۶
کبھی طاقت اور غلبہ میں آکر زمین اور آسمان بنارہا ہے اور اس میں سورج ، چاند اور ستارے لگارہا ہے ۔ جب اس گراں کام سے فارغ ہوتا ہے تو پھر مٹی سے انسان بناتا ہے۔ کبھی دعویٰ کرتا ہے کہ حق تعالیٰ کی طرف سے مجھے ایسے بیٹے کی بشارت دی گئی ہے گویا کہ خدا آسمان سے اترا ہے۔ دوسری چیزوں کو چھوڑ کر ہم مرزا غلام احمد قادیانی کی آخری بات جو یہاں بیان کی گئی ہے یعنی ایسا بیٹا گھر میں پیدا ہو گا جو خدا کے روپ میں آسمان سے اترے گا مرزا کی اس پیشگوئی کے متعلق ان کے گھر کی دو گواہیاں ذکر کرتے ہیں سچ ہے کہ
’’ان الحديد بالحديد يفلح۔
ایک مرزائی خاتون راحت ملک قادیانی برادر خورد عبدالرحمن خادم مبلغ قادیانی مرزا بشیرالدین محمود خلیفہ ثانی کی مایہ ناز شخصیت کے بارے میں اپنا چشم دید واقعہ یوں بیان کرتی ہیں کہ :
’’میں میاں صاحب کے متعلق کچھ عرض کرنا چاہتی ہوں اور لوگوں میں ظاہر کر دینا چاہتی ہوں کہ وہ کیسی روحانیت رکھتے تھے۔ میں اکثر اپنی سہیلیوں سے سنا کرتی تھی کہ وہ بڑے زانی شخص ہیں مگر اعتبار نہیں آتا تھا۔ کیونکہ ، ان کی مومنانہ صورت اور نیچی شرمیلی آنکھیں ہر گز یہ اجازت نہیں دیتی تھیں کہ ان پر ایسا بڑا الزام لگایا جاسکے۔ ایک دن کا ذکر ہے کہ میرے والد صاحب نے جو ہر کام کے لئے حضور سے اجازت حاصل کرتے ہیں اور بڑے مخلص احمدی ہیں (خود نہ جانا اور نوجوان بیٹی کو حضور کی خدمت میں بھیجنا ہی تو اخلاص ہے) ایک رقعہ حضرت صاحب کو پہنچانے کے لئے دیا جس میں اپنے ایک کام کے لئے اجازت مانگی تھی۔ خیر رقعہ لے کر گئی اس وقت میاں صاحب نئے مکان میں مقیم تھے۔ میں نے اپنے ہمراہ ایک لڑکی لی جو وہاں تک میرے ساتھ ہی گئی اور ساتھ ہی واپس آئی۔ چند دن بعد مجھے پھر ایک رقعہ لے کر جانا پڑا اس وقت بھی وہی لڑکی میرے ہمراہ تھی۔ جوں ہی ہم دونوں میاں صاحب کی نشست گاہ میں پہنچی تو اس لڑکی کو کسی نے پیچھے سے آواز دی میں اکیلی رہ گئی۔ میں نے رقعہ پیش کیا اور جواب کے لئے عرض کیا مگر انہوں نے فرمایا کہ تم کو جواب دوں گا گھبراؤ مت، باہر ایک دو آدمی میرا انتظار کر رہے ہیں، ان سے مل آؤں۔ مجھے یہ کہہ کر باہر کی طرف چلے گئے اور چند منٹ بعد پیچھے کے تمام کمروں کو قفل لگا کر اندر داخل ہوئے اور اس کا بھی باہر والا دروازہ بند کردیا اور چنکیاں لگادیں۔ جس کمرے میں میں تھی وہ اندر سے چوتھا کمرہ تھا۔ میں یہ حالت دیکھ کر سخت گھبرائی اور طرح طرح کے حیالات دل میں آنے لگے۔ آخر میاں صاحب نے مجھ سے چھیڑ چھاڑ شروع کی اور مجھ سے برافعل کرنے کو کہا۔ میں نے انکار کر دیا، آخر ز بر دستی انہوں نے مجھے پلنگ پر گرا کر میری عزت برباد کی اور ان کے منہ سے اس قدر بدبو آرہی تھی کہ مجھ کو چکر آگیا اور وہ گفتگو بھی ایسے کرتے تھے۔ کہ بازاری آدمی بھی ایسی نہیں کرتے ممکن ہے جسے لوگ شراب کہتے ہیں انہوں نے پی ہو کیونکہ ان کے ہوش و حواس بھی درست نہیں تھے۔ مجھ کو دھمکایا کہ اگر کسی سے ذکر کیا تو تمہاری بد نامی ہو گی مجھ پر کوئی شک نہ کرے گا۔ قادیانی ، راحت ملک ، ربوہ کا مذہبی آمر ، ص ۱۶۹ بحوالہ مرزائیت اور اسلام، علامہ احسان الہیٰ ظہیر رحمہ اللہ ، ص ۴۱ ۔ ۱۳۹
ایک اور گواہی ملاحظہ فرمائیں:
ایک خاندانی مرزائی اور خلیفہ قادیان سے انتہائی قربت رکھنے والا نوجوان محمد یوسف لکھتا ہے کہ ۔۔۔۔ ’’ میں اپنے علم اور مشاہدہ اور رویت عینی اور آنکھوں دیکھی بات کی بنا پر خدا کو حاضر و ناظر جان کر اس کی پاک ذات کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ ربوہ نے اپنے سامنے اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد سے زنا کر وایا۔ اگر میں اس ملک میں جھوٹا ہوں تو خدا کی لعنت اور عذاب مجھ پرنازل ہو ۔ میں اس بات پر مرزا کے ساتھ بالمقابل حلف اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔‘‘ ایضاً: ۴۲ ۔ ۱۴۱
معزز قارئین! مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنی زبان سے اللہ تعالٰی کے متعلق جن گندے اور قاسد خیالات کا اظہار کیا تھاوہ آپ نے پڑھے۔ اللہ سبحانہ و تعالٰی اپنی ذات اور صفات میں بے مثل اور یکتا ہے۔ یہ جھوٹا، اس ذات حق تعالیٰ کو ’’ تیندوے leopard‘‘ جیسے درندہ جانور اور مخلوق سے تشبیہ دیتا ہے۔ اس مفتری کے خلیفہ کی گھریلوزندگی کے صرف دو واقعے ذکر کئے ہیں جبکہ بیشمار شر مناک واقعات اور بھی ہیں۔ ایک نبی کی ذات تو اعلیٰ حصائل کا مجسمہ ہوتی ہے لیکن ایک شریف النفس انسان کی زبان سے بھی ایسی رذیل باتیں اور گندے خیالات نہیں نکلتے۔ مرزا خود بھی ایک جگہ لکھتا ہے کہ :
هل انبئكم علي من تنزل الشياطين تنزل على كل افاك اثيم قادیانی، امام احمد ، مرزا روحانی خزائن بر انجام آتهم مع ضمیمہ ، مطبع ضیاء الاسلام، ربوہ جلد یاز دہم ص ۵۲
کیا میں بتلاؤں کہ کن پر شیطان اترا کرتے ہیں۔ وہ ایک جھوٹے مفتری پر اترتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جہاں نبوت کے سلسلے کو ہمیشہ کے لئے بند کرنے کا حکم فرمایا ہے وہاں اس عظیم المرتبت ہستی کا نام بھی لیا ہے جس پر نبوت کا دروازہ قیامت تک کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالٰی کا فرمان ہے کہ :
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰـكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ الاحزاب: ۴۰
تمہارے مردوں میں سے محمد نبی ﷺ کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن آپ اللہ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔
بیان کیے گئے عقیدے کے برعکس مرزا غلام احمد قادیانی نے عقیدہ ختم نبوت کے متعلق جو گوہرافشانی کی ہے وہ مختصر اًذکر کی جاتی ہے :
’’ سچا خداوہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔ ‘‘ قادیانی، غلام احمد ، حقیقت الوحی: ۱۰۲،۱۰۷
حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اس میں ایسے ایسے الفاظ ’’رسول‘‘ اور ’’مرسل‘‘ اور ’’نبی‘‘ کے موجود ہیں نہ ایک دفعہ بلکه صد با دفع هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖؕ (28)
اس میں صاف طور پر اس عاجز کو ’’رسول‘‘ کر کے پکارا گیا ہے۔
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِؕ-وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ ….
اس وحی میں میرا نام ’’ محمد ‘‘ رکھا گیا اور ’’رسول‘‘ بھی۔۔۔ اسی لئے اس کا نام آسمان پر ’’ محمد ‘‘ اور ’’احمد‘‘ ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ محمد کی نبوت آخر محمد کو ہی ملی گو بروزی طور پر مگر نہ کسی اور کو۔۔۔۔ غرض میری نبوت اور رسالت باعتبار محمد اور احمد ہونے کے ہے نہ میرے نفس کے رو سے اور یہ نام بحیثیت ’’ فنافی الرسول‘‘ مجھے ملا ہے۔ میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفی ﷺ پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔ اسی طرح میرے لئے آسمان بھی بولا اور زمین کہ میں ’’خلیفتہ اللہ ‘‘ ہوں۔ میں بموجب آیت وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ، بروزی طور وہی ” نبی خاتم الانبیاء“ ہوں۔
مجھے انحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا پس اس طور سے آنحضرت ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا اور میں چونکہ ظلی طور پر محمد ﷺ یوں سمجھ لو کہ مہدی موعود خلق اور خلق میں ہمرنگ آنحضرتﷺ ہو گا اور اس کا اہم انجناب کے اسم سے مطابق ہو گا یعنی اس کا نام بھی محمد اور احمد ہو گا اور اس کے اہل بیت میں سے ہو گا اور بعض حدیثوں میں ہے کہ مجھ میں سے ہو گا۔ قادیانی، غلام احمد ، مرزا، ایک غلطی کا ازالہ ، ویسٹ پنجاب پر نٹنگ پریس لاہور ۵ نومبر ۱۹۰۱ء۔ ١١ ۔٣
معزز قارئین نے مذکورہ دعویٰ پڑھا۔ ’’ نقل کفر کفر نہ باشد ‘‘ کے تحت ہم نے یہ عبارتیں من و عن نقل کی ہیں۔ دوران نقل نفس پر ایسا بوجھ پڑا کہ انگلیاں لکھنے سے جواب دے رہی تھیں۔ تامرد سخن نگفتہ باشد – عیب و ہنرش نہفتہ باشد کو سامنے رکھتے ہوئے اس خبیث بطن کی بیہودہ گفتگو اور غلیظ خیالات کو مسلمانوں کے سامنے لانا مقصود ہے تاکہ اس گستاخ شخص کی افراسیابی کا علم ہو سکے۔ ایک بد باطن اور کذاب شخص نے اپنے آپ کو’’ مسیح موعود، مہدی موعود، محمد‘ احمد‘ خاتم النبيين ، رسول الله ، نبي الله ، خلیفة الله‘ فنافی الرسول، ظل محمدی، بروز، غیب کی خبریں بتانے والا اور خلق و خلق میں آنحضرت ﷺ کا ہمرنگ وغیرہ کہا لیکن اللہ تعالیٰ نے عرش عظیم پر اور غیر تمند موحد، متبع سنت اور مخلص مسلمانوں نے اس فرش پر برداشت نہ کیا۔
قارعین کر ام کی خدمت میں اس مفتری و مفسد شخص کی زندگی کے چند تابناک نقوش ذکر کر کے ان سے ہی پو چھتے ہیں کہ کیا یہ شخص مندرجہ بالا القابات کا اہل اور لائق تھا؟ قرآن مجید کے حکم
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ أَهْلها (یوسف: 26)
کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد، ایم اے‘ سے بھی گواہیاں لیتے ہیں۔ بیٹے نے اپنے باپ کی سیرت کو قلمبند کیا ہے۔ فن اسماء الرجال کی کسوٹی کو سامنے رکھتے ہوئے
’’ حدثنا، اخبرنا، نبانا، ناولنا، ذکرلنا ‘‘
کی جگہ کبھی ماں سے روایت کی ہے کبھی ماموں سے اور کبھی کسی مرید مرزا ہے۔ اپنے باپ کی سیرت مرتب کر کے اس کا نام ’’ سیرت المہدی‘‘ رکھا ہے جو کہ تین حصوں پر مشتمل ہے ۔ باپ کو بیٹے سے زیادہ کون جانتا ہے؟
اس بیٹے کی چند گواہیاں ذکر کرتے ہیں جن میں باپ کی بچپن ، جوانی، کردار، اخلاق، عادات، اور عائلی زندگی کے واقعات شامل ہیں۔ یہ واقعات پڑھ کر قارئین کرام خود اندازہ لگائیں کہ کیا یہ شخص اس عالی منصب کا اہل تھا؟
’’بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ بعض بچوں نے مجھے کہا کہ جاؤ گھر سے میٹھالاؤ۔ میں گھر میں آیا اور بغیر کسی سے پوچھنے کے ایک برتن میں سے سفید بورا اپنی جیبوں میں بھر کر باہر لے گیا اور راستہ میں ایک مٹھی بھر کر منہ میں ڈال لی۔ بس پھر کیا تھا میر ادم رک گیا اور بڑی تکلیف ہوئی کیونکہ معلوم ہوا کہ جسے میں نے سفید بورا سمجھ کر جیبوں میں بھرا تھا و بورانہ تھا بلکہ پسا ہوا نمک تھا۔‘‘ بشیر احمد، مرزا، سیرت المہدی‘ ۲۴۴/۱
بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ بعض بوڑھی عورتوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ بچپن میں حضرت صاحب نے اپنی والدہ سے روٹی کے ساتھ کچھ کھانے کو مانگا انہوں نے کوئی چیز شاید گڑ بتایا کہ یہ لے لو۔ حضرت نے کہا نہیں یہ میں نہیں لیتا۔ انہوں نے کوئی اور چیز بتائی۔ حضرت صاحب نے اس پر بھی وہی جواب دیا۔ وہ اس وقت کسی بات پر چڑی ہوئی بیٹھی تھیں۔ سختی سے کہنے لگیں کہ جاؤ پھر راکھ سے روٹی کھالو۔ حضرت صاحب روٹی پر راکھ ڈال کر بیٹھ گئے اور گھر میں ایک لطیفہ ہو گیا۔ والدہ صاحبہ نے یہ واقعہ سنا کر کہا جس وقت اس عورت نے مجھے یہ بات سنائی تھی اس وقت حضرت صاحب بھی پاس تھے مگر آپ خاموش رہے۔ ایضاً: ۲۴۵/۱
’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ تمہاری دادی شہرایمہ ضلع ہوشیار پور کی رہنے والی تھیں۔ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہم اپنی والدہ کے ساتھ بچپن میں کئی دفعہ ایمہ گئے ہیں۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ وہاں حضرت صاحب بچپن میں چڑیاں پکڑا کرتے تھے اور چا قو نہیں ملتا تھا تو سر کنڈے سے ذبح کر لیتے تھے۔‘‘ ایضاً: ۴۵/۱
’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ آپ معمولی نقدی وغیرہ اپنے رومال میں جو بڑے سائز کا ململ کا بنا ہوا ہوتا تھا، باندھ لیا کرتے تھے۔ اور رومال کا دوسرا کنارہ واسکٹ کے ساتھ سلوا لیتے پاکاج میں بند ھوا لیتے تھے اور چابیاں ازار بند کے ساتھ باندھتے تھے جو بو جھ سے بعض اوقات لٹک آتا تھا اور والدہ صاحبہ بیان فرماتی ہیں کہ حضرت مسیح موعود عموماً ریشمی ازار بند استعمال فرماتے تھے ۔ کیونکہ آپ کو پیشاب جلدی جلدی آنا تھا اسی لئے ریشمی ازار بند رکھتے تھے تاکہ کھلنے میں آسانی ہو اور گرہ بھی پڑ جاوے تو کھولنے میں وقت نہ ہو۔ سوتی ازار بند میں آپ سے بعض وقت گرہ پڑ جاتی تھی تو آپ کو بڑی تکلیف ہوتی تھی۔ ‘‘ ایضاً: ۵۵/۱
’’ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب سے حضرت مسیح موعود کو دورے پڑنے شروع ہوئے اس وقت سے آپ نے سردی گرمی میں گرم کپڑے کا استعمال شروع فرمادیا تھا۔ ان کپڑوں میں آپ کو گرمی بھی لگتی تھی اور بعض اوقات تکلیف بھی ہوتی تھی۔ ایک دفعہ کوئی شخص آپ کے لئے گرگابی لے آیا۔ آپ نے پہن لی مگر اس کے الٹے سیدھے پاؤں کا آپ کو پتہ نہیں لگتا تھا۔ کئی دفعہ الٹی پہن لیتے تھے اور پھر تکلیف ہوتی تھی۔ بعض دفعہ آپ کا الٹا پاؤں پڑ جاتا تو تنگ ہو کر فرماتے ان کی کوئی چیز اچھی نہیں ہے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نے آپ کی سہولت کے واسطے الٹے سیدھے پاؤں کی شناخت کے لئے نشان لگا دیے تھے مگر باوجود اس کے آپ الٹا سیدھا پہن لیتے تھے۔‘‘ ایضاً: ۶۷/۱
’’بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب ایم، اے نے کہ میں نے مرزا سلطان احمد سے سوال کیا تھا کہ حضرت صاحب سے زیادہ تر قادیان میں کن لوگوں کی ملاقات تھی؟ مرزا صاحب نے کہا کہ ملاوامل اور شرمپت ہی زیادہ آتے تھے کسی اور سے ایسا راہ رسم نہ تھا۔ ‘‘ایضاً: ۲۲۳/۱
’’بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ انبالہ کے ایک شخص نے حضرت صاحب سے فتویٰ دریافت کیا کہ میری ایک بہن کنچنی ( کنجری) تھی۔ اس نے اس حالت میں بہت ساروپیہ کما یا پھر وہ مرگئی اور مجھے اس کا ترکہ ملا مگر بعد میں مجھے اللہ تعالٰی نے تو بہ اور اصلاح کی توفیق دی اب میں اس مال کو کیا کروں ؟ حضرت صاحب نے جواب دیا کہ ہمارے خیال میں اس زمانہ میں ایسا مال اسلام کی خدمت میں خرچ ہو سکتا ہے۔ خاکسارعرض کرتا ہے کہ اس زمانہ میں خدمت اسلام کے لئے بعض شرائط کے ماتحت سودی روپیہ خرچ کئے جانے کا فتویٰ بھی حضرت صاحب نے اس اصول پر دیا ہے مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ فتوی وقتی ہیں اور خاص شرائط کے ساتھ مشروط ہیں۔‘‘
ایضاً: ۲۶۲/۱
’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم اپنی کتاب سیرت مسیح موعود میں لکھتا ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ حضرت اقدس نازک سے نازک مضمون لکھ رہے ہیں یہاں تک کہ عربی زبان میں بے مثل فصیح کتابیں لکھ رہے ہیں اور پاس ہنگامہ قیامت برپا ہے بے تمیز بچے اور سادہ عور تیں جھگڑ رہی ہیں۔ چیخ رہی ہیں چلارہی ہیں یہاں تک کہ بعض آپس میں دست و گریباں ہو رہی ہیں اور پوری زنانہ کر توتیں کر رہی ہیں مگر حضرت صاحب یوں لکھے جارہے ہیں۔ اور کام میں یوں مستغرق ہیں کہ گویا خلوت میں بیٹھے ہیں۔ ساری لا نظیر اور عظیم الشان عربی، اردو، فارسی کی تصانیف ایسے ہی مکانوں میں لکھی ہیں۔ میں نے ایک دفعہ پوچھا اتنے شور میں حضور کو لکھنے میں یا سوچنے میں ذرا بھی تشویش نہیں ہوتی ؟ مسکرا کر فرمایا: میں سنتا ہی نہیں تشویش کیا ہو۔‘‘ ایضاً: ۲۷۸/۱
بیان کیا حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کسی سفر میں تھے اسٹیشن پر پہنچے تو ابھی گاڑی آنے میں دیر تھی۔ آپ بیوی صاحبہ کے ساتھ سٹیشن کے پلیٹ فارم پر ملنے لگ گئے۔ یہ دیکھ کر مولوی عبد الکریم صاحب جن کی طبیعت غیور اور جو شیلی تھی میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ بہت لوگ اور پھر غیر لوگ ادھر ادھر پھرتے ہیں۔ آپ حضرت صاحب سے عرض کریں کہ بیوی صاحبہ کو کہیں کہ الگ بٹھادیا جاوے۔ مولوی صاحب فرماتے تھے کہ میں نے کہا میں تو نہیں کہتا آپ کہہ کر دیکھ لیں۔ ناچار مولوی عبد الکریم صاحب خود حضرت صاحب کے پاس گئے اور کہا کہ حضور لوگ بہت ہیں بیوی صاحبہ کو الگ ایک جگہ بٹھا دیں۔ حضرت صاحب نے فرمایا۔ جاؤ گی میں ایسے پردے کا قائل نہیں ہوں۔ مولوی صاحب فرماتے تھے کہ اس کے بعد مولوی عبد الکریم صاحب سر نیچے ڈالے میری طرف آئے میں نے کہا مولوی صاحب جواب لے آئے ؟ایضاً: ۶۳/۱
’’ بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ سنوری نے کہ ایک دفعہ کسی شخص نے حضرت صاحب کو ایک جیبی گھڑی تحفہ دی۔ حضرت صاحب اس کو رومال میں باندھ کر جیب میں رکھتے تھے زنجیر نہیں لگاتے تھے اور جس وقت دیکھنا ہوتا تھا تو گھڑی نکال کر ایک کے ہند سے یعنی عدد سے گن کر وقت کا پتہ لگاتے تھے اور انگلی رکھ کر ہند سے گنتے جاتے تھے اور گھڑی دیکھتے ہی وقت نہ پہچان سکتے تھے۔ میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ آپ کا جیب سے گھڑی نکال کر اس طرح شمار کرنا مجھے بہت ہی پیارا معلوم ہوتا تھا۔‘‘ ایضاً: ۱۸۰/۱
خاکسارعرض کرتا ہے کہ مرزا سلطان احمد سے مجھے حضرت مسیح موعود کی ایک شعروں کی کاپی ملی ہے جو بہت پرانی معلوم ہوتی ہے غالباً نو جوانی کا کلام ہے۔ حضرت صاحب کے اپنے خط میں ہے جسے میں پہچانتا ہوں۔ بعض شعر بطور نمونہ درج ذیل ہیں:
عشق کا روگ ہے کیا پوچھتے ہو اس کی دوا ایسے بیمار کا مرنا ہی دوا ہوتا ہے
ہائے کیوں ہجر کے الم میں پڑے مفت بیٹھے بٹھائے غم میں پڑے
اس کے جانے سے صبر دل سے گیا ہوش بھی ورطہ عدم میں پڑے
سبب کوئی خداوند بنادے کسی صورت سے وہ صورت دکھاوے
نہیں منظور تھی گرتم کو الفت تو یہ مجھ کو بھی بتلایا تو ہوتا
میری دلسوزی سے بے خبر ہو میرا کچھ بھید بھی پایا تو ہوتا
دل اپنا اس کو دوں یا ہوش یا جاں کوئی اک حکم فرمایاتو ہوتا ایضاً: ۲۳۲/۱
’’بنیان آپ کبھی نہ پہنتے تھے بلکہ اس کی تنگی سے گھبراتے تھے۔ گرم قمیض جو پہنتے تھے ان کا اکثر اوپر کا بٹن کھلا رکھتے تھے نہ آپ کو کبھی پرواہ تھی کہ لباس عمدہ ہے یا برش کیا ہوا ہے یا بٹن سب درست لگے ہوئے ہیں یا نہیں۔ باربار دیکھا گیا کہ بٹن اپنا کاج چھوڑ کر دوسرے ہی میں لگے ہوئے ہوتے تھے بلکہ صدری کے بٹن کوٹ کے کاجوں میں لگائے ہوئے دیکھے گئے۔ جرابیں آپ سردیوں میں استعمال فرماتے اور ان پر مسح فرماتے بعض اوقات زیادہ سردی میں دودو جرابیں اوپر تلے چڑھالیتے مگر باربار جراب اس طرح پہن لیتے کہ وہ پیر پر ٹھیک نہ چڑھتی کبھی تو سرا آگے لٹکتا رہتا اور کبھی جراب کی ایڑی کی جگہ پیر کی پشت پر آجاتی، کبھی ایک جراب سیدھی دوسری الٹی۔‘‘ ايضاً: ۱۲۶/۲
’’مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب مع چند خدام کے فوٹو کھنچوانے لگے تو فوٹو گرافر آپ سے عرض کرتا تھا کہ حضور آنکھیں کھول کر رکھیں ورنہ تصویر اچھی نہیں آئے گی۔ اور آپ نے اس کے کہنے پر ایک دفعہ تکلف کے ساتھ آنکھ کو کچھ زیادہ کھولا بھی مگر وہ پھر اسی طرح نیم بند ہو گئیں ۔‘‘ ایضاً: ۷۷/۲
’’ پیر سراج الحق نعمانی نے مجھ سے بیان کیا کہ جب آتھم کی پیشگوئی کی میعاد قریب آئی تو اھلیہ صاحبه حضرت مولوی نورالدین صاحب نے خواب میں دیکھا کہ کوئی ان سے کہتا ہے کہ ایک ہزار ماش کے دانے لے کر ان پر ایک ہزار دفعہ سورہ الم ترکیف پڑھنی چاہئے اور پھر ان کو کسی کنوئیں میں ڈال دیا جاوے اور پھر واپس منہ پھیر کر نہ دیکھا جاوے۔ یہ خواب حضرت خلیفہ اول نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کیا۔ اس وقت حضرت مولوی عبدالکریم صاحب بھی موجود تھے اور عصر کا وقت تھا۔ حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ اس خواب کو ظاہر میں پورا کر دینا چاہئے اس پر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے میرا اور میاں عبداللہ صاحب سنوری کا نام لیا اور حضرت نے پسند فرمایا اور ہم دونوں کو ماش کے دانوں پر ایک ہزار دفعہ سورہ الم ترکیف پڑھنے کا حکم کیا۔ چنانچہ ہم نے عشاء کی نماز کے بعد سے شروع کر کے رات دو بجے تک یہ وظیفہ ختم کیا۔‘‘ ایضاً: ۷/۲
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کسی وجہ سے مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نماز نہ پڑھا سکے۔ حضرت خلیفۃ المسیح اول بھی موجود نہ تھے تو حضرت صاحب نے حکیم فضل الدین صاحب مرحوم کو نماز پڑھانے کے لئے ہر ارشاد فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا کہ حضور تو جانتے ہیں کہ مجھے بواسیر کا مرض ہے اور ہر وقت ریح خارج ہوتی رہتی ہے میں نماز کس طرح سے پڑھاؤ ؟ حضور نے فرمایا حکیم صاحب آپ کی اپنی نماز باوجود اس تکلیف کے ہو جاتی ہے یا نہیں ؟ انہوں نے عرض کیا ہاں۔ حضور فرمایا کہ پھر ہماری بھی ہو جائے گی آپ پڑھائیے ۔ ‘‘ ایضاً: ۱۱۱/۳
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سل دق کے مریض کے لئے ایک گولی بنائی تھی اس میں کونین اور کافور کے علاوہ افیون، بھنگ اور دھتورہ و غیرہ زہریلی ادویہ بھی داخل کی تھیں اور فرمایا کرتے تھے کہ دوا کے طور پر علاج کے لئے اور جان بچانے کے لئے ممنوع چیز بھی جائز ہو جاتی ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ شراب کے لئے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہی فتویٰ تھا ‘‘ ایضاً: ۱۱۱/۳
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ڈاکٹر نور محمد صاحب لاہوری کی ایک بیوی ڈاکٹر کے نام سے مشہور تھی۔ وہ مدتوں قادیان آگر حضور کے مکان میں رہی اور حضور کی خدمت کرتی تھی۔ اس بیچاری کو سل کی بیماری تھی جب وہ فوت ہو گئی تو اس کا ایک دوپٹہ حضرت صاحب نے دعا کی یاد دہانی کے لئے بیت الدعاء کی کھڑکی کی ایک آہنی سلاخ سے بند ھوادیا۔‘‘ ایضاً: ۱۲۶/۳
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضور علیہ السلام ایک دفعہ فرماتے تھے کہ ہم نے ایک اہم امر کے لئے دیوان حافظ سے بھی فال لی تھی لیکن اب مجھے یاد نہیں رہا کہ کسی امر کے لئے فال لی تھی ۔ ‘‘ ایضاً: ۲۷۴/۳
یہ تھیں چند جھلکیاں اس شخص کے بچپن، جوانی اور اخیر عمر کی ، جس کو چند لوگ وہ مقام دیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیین محمد رسول الله ﷺ کو ہی عطا کیا تھا۔ آپ ھادی کائنات ، امام الانبیاء محمد رسول الله ﷺ کی حیات طیبہ کے مختلف ادوار کا مطالعہ کریں اور تحقیق کر ینگے تو آپ کو معلوم ہو جائیگا کہ آپ ﷺ کی بچپن کی زندگی، جوانی، نبوت سے قبل کی زندگی، نبوت ملنے کے بعد کی ۱۳ سال کی اور مدنی زندگی کے ۱۰ سال یعنی تقریبا ۶۳ سالہ زندگی ایسی شفاف، صاف ستھری اور بے عیب نظر آئے گی۔ آپ کی سیرت مبارک کا گہرائی سے مطالعہ کریں آپ کو کوئی ایسا نقطہ یا واقعہ نہ ملے گا جس پر اپنوں اور غیروں کو ہنسی آتی ہو۔ آپ کی حکیمانہ اور شریفانہ زندگی کے مختلف پہلوؤں کو دیکھ کر پھر اس مفتری و مفسد مخلص کی زندگی کو دیکھیں جس کے چند مختلف نمونے ہم نے ذکر کر دیئے ہیں تا کہ سچ اور جھوٹ میں موازنہ ہو جائے۔ انبیاء علیہم السلام ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ ان میں بعض کو بعض پر فضیلت الہیٰ حاصل ہے لیکن ہم مسلمان ہونے کے ناطے سب کو سچا اور عالی شان والے سمجھتے ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسلمانوں کی جماعت میں سے ایک آدمی اور یہودیوں میں سے ایک شخص کا جھگڑا ہوا۔ مسلمان نے کہا:
قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد ﷺ کو ساری دنیا میں برگزیدہ بنایا۔ اس پر یہودی نے کہا:
قسم ہے اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو ساری دنیا میں برگزیدہ بنایا اس پر مسلمان نے اپنا ہاتھ اٹھا کر یہودی کو تھپڑ مار دیا۔ وہ یہودی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور مسلمان کے ساتھ جھگڑے کی آپ کو خبر دی آپ نے فرمایا:
لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ بِجَانِبِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي أَوْ كَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَى اللَّهُ. صحیح بخاری : ۳۴۰۸
مجھے موسیٰ علیہ السلام پر ترجیح نہ دیا کرو۔ قیامت کے دن لوگ بے ہوش کر دیے جائنگے اور سب سے پہلے میں ہوش میں آؤن گا پھر دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کا پایہ تھامے ہوئے کھڑے ہیں، اب مجھے معلوم نہیں کہ وہ بھی بے ہوش ہونے والوں میں تھے ، یا مجھ سے پہلے ہی ہوش میں آگئے یا انہیں اللہ نے بے ہوش ہونے والوں میں ہی نہیں رکھا تھا۔
عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے عظیم نبی ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس کی شان بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ:
وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَىٰ وَعِيسَىٰ وَإِلْيَاسَ ۖ كُلٌّ مِّنَ الصَّالِحِينَ الانعام: ۸۵
اور زکریا، یحییٰ، عیسیٰ اور الیاس علیہم السلام سب نیک لوگوں میں سے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا ہے کہ :
اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهٗۚ-اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْهُ٘ النساء: ۱۷۱
بیشک مسیح عیسیٰ بن مریم تو بس اللہ کے رسول ہی ہیں اور اس کا ایک کلمہ ہے جسے اللہ نے مریم تک پہنچادیا۔
ابو ہرپرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، وَالأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلاَّتٍ، أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى، وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ صحیح بخاری: ۳۴۴۳
میں عیسی بن مریم سے اور لوگوں کی بنسبت زیادہ قریب ہوں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور انبیاء (علیهم السلام) علاقی بھائیوں (کی طرح) ہیں ان کے شرعی مسائل میں اگر چہ اختلاف ہے لیکن دین سب کا ایک ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالی اور آخری پیغمبر محمد ﷺ کے فرمائے ہوئے پاکیزہ ، باو قار اور شاہی مقام کے حامل الفاظ اور تعریفوں کے بعد آتے ہیں اس شخص کی گفتگو کی طرف جس نے نبوت کا جھوٹا دعوی کر رکھا ہے۔
معزز قارئین سے مودبانہ گذارش ہے کہ وہ اس مفسد اور فتان شخص کی اس زبان اور اخلاق کو غور سے پڑھیں جو کہ اس نے سید نا عیسیٰ علیہ السلام آپ کی والدہ ماجدہ مریم علیہ السلام اور ان کے خاندان عالیہ کے متعلق ذکر کئے ہیں۔ وہ لکھتا ہے:
کیا پیش گوئیاں؟ بہن کی حقیقت میں نے پہلے بتادی ہے کہ مسیح کی پیشن گوئیاں پیشگوئی کا رنگ ہی نہیں رکھتی ہیں، جو باتیں پیشنگوئی کے رنگ میں مندرج ہیں وہ ایسی ہیں کہ ایک معمولی آدمی بھی اس سے بہتر باتیں کہہ سکتا ہے اور قیافہ شناس مدبر کی پیش گوئیاں ان سے بدرجہا بڑھی ہوئی ہوتی ہیں۔ میں علی الاعلان کہتا ہوں کہ اگر اس وقت مسیح ہوتے تو جس قدر عظیم الشان تائیدی نشان پیشگوئیوں کے رنگ میں اب دیکھ کر شرمندہ ہو جاتے۔ مسیح کی زندگی اس کی پوری ناکامی اور نامریدی کی تصویر ہے۔ علم کی یہ صورت کہ اتنا پتہ نہیں کہ انجیر کے درخت کو اس وقت پھل نہ ہو گا۔ یسوع ایک لڑکی پر عاشق ہو گیا تھا اور اپنے استاد کے سامنے اس کے حسن و جمال کا تذکرہ کر بیٹھا تو استاد نے اسے عاق کر دیا۔ پھر آنحضرت ﷺ کا بروزی طور پر ظہور ہوا اور آپ کی عظمت کو مسیح کے مقابلے میں ظاہر کرنے کے لئے خدا کی غیرت نے چاہا کہ احمد کے غلام کو مسیح سے افضل قرار دیا۔ ‘‘
ملفوظات حضرت مسیح موعود ، ۲۵۵/۳-۱۳۲ (۱۳۶۲۵۵ ۱۳۷ ۱۳۳ ۱۳۲)
محمد ی سلسلہ میں ، میں مسیح موعود ہوں سو میں اس کی عزت کرتا ہوں جس کا ہمنام ہوں اور مفسد اور مفتری ہے وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا بلکہ مسیح تو مسیح، میں تو اس کے چاروں بھائیوں یہودا، یعقوب، شمعون، یوزس کی بھی عزت کر ہوں کیونکہ پانچوں ایک ماں کے بیٹے ہیں نہ صرف اسی قدر بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیروں آسیا اور لیدیا کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں کیونکہ یہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ سے ہیں اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیس نکاح سے روکا پھر بزرگان قوم کے نہایت اسرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا گولوگ اعتراض کرتے ہیں کہ بر خلاف تعلیم توریت عین حمل میں کیوں کر نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق تو ڑا گیا اور تعدد ازدواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی کے ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض۔ ‘‘کشتی نوح ۱۶
’’آپ کے یسوع صاحب کی نسبت کیا کہیں اور کیا لکھیں اور کب تک ان کے حال پر رودیں۔ کیا یہ مناسب تھا کہ وہ ایک زانیہ عورت کو یہ موقعہ دیتا کہ وہ عین جوانی اور حسن کی حالت میں ننگے سراس سے مل کر بیٹھتی اور نہایت ناز اور نخرہ سے اس کے پاؤں پر اپنے بال ملتی اور حرام کاری کے عطر سے اس کے سر پر مالش کرتی۔ اگر یسوع کا دل بد خیالات سے پاک ہوتا تو وہ ایک کسبی عورت کو نزدیک آنے سے ضرور منع کرتا مگر ایسے لوگ جن کو حرام کار عورت کو پونے سے مزہ آتا وہ ایسے نفسانی موقعہ پر کسی ناصح کی نصیحت بھی نہیں سنا کرتے ، دیکھو یسوع کو ایک عز تمند بزرگ نے نصیحت کے ارادہ سے روکنا چاہا کہ ایسی حرکت کرنا مناسب نہیں مگر یسوع نے اس کے چہرہ کی ترش روئی سے سمجھ لیا کہ میری اس حرکت سے یہ شخص بیزار ہے تو رندوں کی طرح اعتراض کو باتوں میں ٹال دیا اور دعویٰ کیا کہ یہ کنجری بڑی اخلاص مند ہے ایسا اخلاص تو تجھ میں بھی نہیں پایا گیا۔ سبحان اللہ کیا عمد و جواب ہے۔ یسوع صاحب ایک زناکار عورت کی تعریف کر رہے ہیں کہ بڑی نیک بخت ہے۔ دعویٰ خدائی کا اور کام ایسے بھلا جو شخص ہر وقت شراب سے سرمست رہتا ہے اور کنجریوں سے میل جول رکھتا ہے اور کھانے میں بھی ایسا اور نمبر کا جو لوگوں میں یہ اس کا نام ہی پڑ گیا ہے کہ یہ کھاؤ پیو ہے اس سے کسی تقویٰ اور نیک ہستی کی امید ہو سکتی ہے۔ مگر کون عقلمند اور پرہیز گار ایسے شخص کو پاک باطن سمجھے گا جو ان عورتوں کو چھونے سے پر ہیز نہیں کرتا۔ ایک کنجری خوبصورت ایسی قریب بیٹھی ہے گویا بغل میں ہے اور گود میں تماشا کر رہی ہے۔ اور طرفہ یہ کہ عمر جوان اور شراب پینے کی عادت اور پھر مجرد اور ایک خوبصورت کسبی عورت سامنے پڑی ہے۔ جسم کے ساتھ جسم لگارہی ہے۔ کیا یہ نیک آدمیوں کا کام ہے ؟ اور اس پر کیادلیل ہے کہ اس کسبی کے چھونے سے یسوع کی شہوت نے جنبش نہیں کی تھی۔ افسوس کہ یسوع کو یہ بھی میسر نہیں تھا کہ اس فاسقہ پر نظر ڈالنے کے بعد اپنی کسی بیوی سے صحبت کر لیتا۔ کمبخت زانیہ کے چھونے سے اور ناز وادا کرنے سے کیا کچھ نفسانی جذبات پیدا ہوئے ہونگے اور شہوت کے جوش نے پورے طور پر کام کیا ہو گا۔ اس وجہ سے یسوع کے منہ سے یہ بھی نہ نکلا کہ اے حرام کار عورت مجھ سے دور رہ ‘‘ قادیانی، غلام احمد ، مرزا، نور القرآن، مطبع ضباء الاسلام قادیان ماه ستمبر، دسمبر ۱۸۹۵ء و جنوری، اپریل ۱۸۹۶ء بار چہارم، حصہ دوم ۴۷-۵۶)
’’اس سے عجب تریہ کہ کفارہ یسوع کے دادیوں اور نانیوں کو بھی بد کاری سے نہ بچا سکا، حالانکہ ان کی بدکاریوں سے یسوع کے گوہر فطرت پر داغ لگتا تھا اور یہ دادیاں نانیاں صرف ایک دو نہیں بلکہ تین ہیں۔ چنانچہ یسوع کی ایک بزرگ نانی جو ایک طور سے دادی بھی تھی یعنی راحاب کسبی یعنی کنجری تھی اور دوسری نانی جو ایک طور سے دادی بھی تھی اس کا نام ثمر ہے یہ خانگی بدکار عورتوں کی طرح حرامکار تھی اور ایک نانی یسوع صاحب کی جو ایک رشتہ سے دادی بھی تھی بنت سمیع کے نام سے موسوم ہے یہ وہی پاکدامن تھی جس نے داؤد کے ساتھ زنا کیا تھا۔ ‘‘ قادیانی، مرزا غلام احمد، مرزا ‘رسالہ معیار المذاہب ، یکم دسمبر ۱۸۹۵ء بروز یکشنبه ، ص ۱۶
معزز قارئین! یہ تھے خیالات، نظریات اور عقائد اس شخص کے جو اپنے تئیس آپ کو نبی اور رسول کے علاوہ‘ ’’ مسیح موعود‘‘ کے الفاظ سے موسوم کرتا ہے۔ عیسائیوں نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جو سلوک کیا اس کا یہ مطلب تو نہ ہوا کہ ہم بھی ان کی طرز پر بولیں اور وہی جذبات رکھیں۔ امام الانبیاء محمد ﷺ کے وہ سونے کے پانی سے لکھنے کے لائق الفاظ پڑھ کر پھر اس بد باطن شخص کی قلم سے نکلے ہوئے نظریات کو پرکھیں اور دیکھیں کہ اخلاق و شرافت کے پیمانہ پر اس کا کتنا وزن ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام اور اس کی والدہ محترمہ مریم علیہا السلام کا کتنا اونچا مقام و مرتبہ ہے اور اس کذاب نے ان کے اور ان کے شریف خاندان کے متعلق جو زہر اگلا ہے وہ بھی آپ مطالعہ کر چکے ہیں۔ انبیاء علیہم السلام کی تاریخ کا مطالعہ کریں ان میں سے کسی ایک نے بھی اپنے بھائی پیغمبر کی شان میں ریت کے ذرے کے برابر بے ادبی اور گستاخی نہیں کی مگر ، اس جھوٹے ، مکار‘ اور مفسد نے اس حوالہ سے کئی صفحات سیاہ کر ڈالے ہیں۔ کسی بھی نبی یا ایک شریف النفس اور با اخلاق انسان کے منہ سے ایک نبی کے متعلق ہرگز ایسے گندے غلیظ اور کچرے کے ڈھیر پر پڑے ہوئے الفاظ نہیں نکلیں گے۔
اخلاق فاضلہ کی اہمیت اور حیثیت کے متعلق مرزا غلام احمد قادیانی ایک جگہ پر لکھتا ہے کہ ’’حقیقی اخلاق فاضلہ جن کے ساتھ نفسانی اغراض کی کوئی زہریلی آمیزش نہیں وہ اوپر سے بذریعہ روح القدوس آتے ہیں سو تم ان اخلاق فاضلہ کو محض اپنی کوششوں سے حاصل نہیں کر سکتے جب تک تم کو اوپر سے وہ اخلاق عنایت نہ کئے جائیں اور ہر ایک جو آسمانی فیض سے بذریعہ روح القدوس اخلاق کا حصہ نہیں پاتا وہ اخلاق کے دعویٰ میں جھوٹا ہے اور اس کے پانی کے نیچے بہت سا کیچڑ ہے اور بہت ساگوبر ہے جو نفسانی جوشوں کے وقت ظاہر ہوتا ہے۔‘‘کشتی نوح: ۴۱
مرزا بشیر احمد اپنے باپ مرزاغلام احمد قادیانی کے اخلاق فاضلہ کے متعلق لکھتا ہے کہ :
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے اخلاق میں کامل تھے یعنی آپ نہایت رؤف رحیم تھے ، سخی تھے ، مہمان نواز تھے ، اشجع الناس تھے، ابتلاؤں کے وقت جب لوگوں کے دل بیٹھ جاتے تھے آپ شیرنر کی طرح آگے بڑھتے تھے۔ عفو‘ چشم پوشی، فیاضی، دیانت، خاکساری، صبر، شکر، استغناه، حیا، غض البصر ، عفت، محنت، قناعت، وفاداری، بے تکلفی، سادگی، شفقت، ادب، الہیٰ، ادب رسول، بزرگان دین، علم، میانہ روی، ادائیگی حقوق ، ایفائے عہد ، چستی، ہمدردی، اشاعت دین، تربیت، حسن معاشرت، مال کی نگہداشت ، وقار، طہارت، زندہ دلی اور مزاح، رازداری، غیرت، احسان، حفظ مراتب، حسن ظن ، ہمت اور اولوالعزمی، خودداری، خوش روئی‘ اور کشادہ پیشانی، کظم عیض، کف ید، و کف لسان، ایثار، معمول الاوقات ہونا، انتظام ، اشاعت علم و معرفت، خدا اور اس کے رسول کا عشق، کامل اتباع رسول، یہ مختصراً آپ کے اخلاق و عادات تھے۔‘‘ سیرت المہدی: ۳/ ۳۰۵
معزز قارئین! آپ نے مرزا غلام احمد قادیانی کی خوبیوں کی ایک طویل فہرست پڑھی۔ ہم اس کی صرف ایک خوبی کی حقانیت اور سچائی کے متعلق کچھ عرض کرینگے وہ ہے ’’آپ اشجع الناس تھے ، ابتلاؤں کے وقت جب لوگوں کے دل بیٹھ جاتے تھے آپ شیر نر کی طرح آگے بڑھتے تھے۔ ‘‘ بیٹے نے باپ کی کئی خوبیوں کے ضمن میں چند واقعات لکھتے ہیں، قارئین کرام سے التماس ہے کہ وہ ان واقعات کو غور سے پڑھیں پھر فیصلہ کریں کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے۔
حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت صاحب شروع دعویٰ مسیحیت میں دہلی تشریف لے گئے تھے اور مولوی نذیر حسین کے مباحثہ کی تجویز ہوئی تھی۔ اس وقت شہر میں مخالفت کا سخت شور تھا۔ چنانچہ حضرت صاحب نے افسران پولیس کے ساتھ انتظام کر کے ایک پولیس مین کو اپنی طرف سے تنخواہ دینی شروع کر کے مکان کے ڈیوڑہی پر پہرہ کے لئے مقرر کر لیا تھا۔ ‘‘ ایضاً: ۶۴/۲
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود خطرات کے وقت ہمیشہ احتیاط کا پہلو مد نظر رکھتے تھے۔ آپ کو شہتیر والا مکان ناپسند تھا اور فرماتے تھے کہ ایسی چھت خطرناک ہوتی ہے۔ خود اپنی رہائش کے دلان کی چھت جس میں چار شہتیر تھے بدلوا کر صرف کڑیوں والی چھت ڈلوائی تھے۔ اسی طرح آپ نے لدھیانہ سے دہلی جاتے ہوئے ۱۸۹۱ء میں کرنال والی لائن سے سفر کیا۔ کیونکہ دوسری طرف سے راستہ میں دو دفعہ دریا کاپل آتا تھا اور ان دونوں میں کچھ حادثات بھی ریلوں کے زیادہ ہوئے تھے۔ اس ضمن میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایک دفعہ حضرت خلیفۃ المسیح اول کے بھتیجے نے جواک نشہ باز اور خطر ناک آدمی تھا، حضور کو ایک خط تحریر کیا اور اس میں قتل کی دھمکی دی۔ کچھ دن بعد وہ خود قادیان آیا۔ آپ نے جب سنا تو حضرت خلیفہ اول کو تاکیداً کہلا بھیجا کہ اسے فوراً رخصت کر دیں۔ چناچہ مولوی صاحب نے اسے کچھ دے دلا کر رخصت کر دیا۔‘‘ ایضاً: ۱۲۵/۳
’’خاکسار کے ماموں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ گھر میں ایک مرغی کے چوزہ کے ذبح کرنے کی ضرورت پیش آئی اور اس وقت گھر میں کوئی اور اس کام کو کرنے والا نہ تھا اس لئے حضرت صاحب اس چوزہ کو ہاتھ میں لے کر خود ذبح کرنے لگے مگر بجائے چوزہ کی گردن پر چھری پھیرنے کے غلطی سے اپنی انگلی کاٹ ڈالی جس سے بہت خون گیا اور آپ تو بہ تو بہ کرتے ہوئے چوزہ کو چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے پھر وہ چوزہ کسی اور نے ذبح کیا۔ ‘‘ ایضا: ۴/۲
مرزا بشیر الدین نے اپنے باپ مرزا غلام احمد قادیانی کی شخصیت کے متعلق تفصیل سے بیان کیا ہے کہ مندرجہ ذیل عیوب ونقائص سے کوسوں دور تھے۔ ’’ بے صبری، کینہ ، حسد، ظلم، عداوت، گندگی، حرص دنیا، بدخواہی، پرده دری ، غیبت، کذب، بے حیائی ، ناشکری، تکبر ، کم ہمتی، بخل ترش روئی، خلقی ، بزدلی، چالاکی، فحشاء، بغاوت، عجز ، کسل، ناامیدی، ریا، تفاخر نا جائز، دل دکھانا، استہزاء، نمسخر، بدظنی، بے غیرتی، تہمت لگانا، دھوکا، اسراف، تبذیر، بے احتیاطی، چغلی، لگائی بجھائی، بے استقلالی لجاجت، بے وفائی، لغو حرکات یا فضولیات میں انہماک، ناجائز بحث و مباحثہ ، پرخوری، کن رسی، افشائے عیب، گالی، ایذارسانی، سفلہ پن، ناجائز طرفداری، خود بینی ، کسی کے دکھ میں خوشی محسوس کرنا، وقت کو ضائع کرنا ۔ ‘‘ ایضاً: ۳۰۶/۳
ڈاکٹر میر محمد اسماعیل، مرزاغلام احمد قادیانی کے گھر کا ایک اہم فرد ہے وہ ایک جگہ لکھتا ہے کہ :
اگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آنحضرت ﷺ کی نسبت یہ بات سچی کہی تھی کہ ’’کان خلقه القرآن‘‘ تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت اس طرح یہ کہہ سکتے ہیں’’کان خلقه حب محمد و اتباعه عليه الصلوة والسلام‘‘
مرزا بشیر الدین مذکورہ بالا بات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ :
مکرم ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے اس روایت میں ایک وسیع دریا کو کوزے میں بند کرنا چاہا ہے۔ مگر ایک دریا کو کوزے میں بند کرنا انسانی طاقت کا کام نہیں ہاں خدا کو یہ طاقت ضرور حاصل ہے اور میں اس جگہ اس کو زے کا خاکہ درج کرتا ہوں جس میں خدا نے دریا کو بند کیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق اللہ تعالی فرماتا ہے ’’جرى الله في حلل الانبیاء ’’ یعنی ” خدا کار سول جو تمام نبیوں کے لباس میں ظاہر ہوا ہے۔ اس فقرہ سے بڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی جامع تعریف نہیں ہو سکتی، آپ ہر نبی کے ظل اور بروز تھے اور ہر نبی کی اعلیٰ صفات اور اعلیٰ اخلاق اور اعلیٰ طاقتیں آپ میں جلوہ فگن تھیں۔ کسی نے آنحضرت ﷺ کے متعلق کہا اور کیا خوب کہا ہے:
حسن یوسف دم عیسیٰ ید بیضا داری
آنکہ خوباں ہمہ دارند تو تنہاداری
یہی ورثہ آپ کے کل کامل نے بھی پایا مگر لوگ صرف تین نبیوں کو گن کر رہ گئے لیکن خدا نے اپنے کوزے میں سب کچھ بھر دیا۔ ‘‘ ایضاً: ۳۰۸/۳
محترم قارئین کرام نے مرزا غلام احمد قادیانی کی خوبیوں کا مطالعہ کیا اور ان میں وہ کتنا سچا تھا وہ بھی معلوم کیا اور جن معاشرتی برائیوں اور کمزوریوں سے اسے پاک وصاف ہونے کی جو سند دی گئی ہے اور اخلاق کے جس رتبہ پر اس کو دکھایا گیا ہے اس کے متعلق کچھ گزارشات عرض کی جاتی ہیں۔ مرزا کو کینہ‘ حسد، عداوت، گندگی ، غیبت، ترش روئی و کج خلقی، دل دکھانے ، استہزاء، تمسخر ، تہمت لگانے، افشائے عیب ، گالی، اور سفلہ پن وغیرہ سے بالکل شفاف دکھایا گیا ہے۔ مرزا بشیر احمد اپنے باپ کی پارسائی اور اخلاق حسنہ کے متعلق لکھتا ہے کہ :
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان سے غصہ کی حالت میں بھی گالی یا گالی کا ہمرنگ لفظ نہیں سنا۔ ‘‘ایضا: ۲۱/۲
بیان کی گئیں گواہیاں بیٹے اور مرید خاص اور رسالے کی تھیں جبکہ خود مرزاغلام احمد بھی لکھتا ہے کہ:
’’اسلام کا طریق گالی دینا نہیں ہے۔‘‘ نور القرآن حصہ دوم‘ ۱۵
اب اس امر کا جائزہ لیتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے معتقدین نے جو چیزیں بیان کی ہیں اس میں موجود تھیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ہاتھی کے دانت کھانے والے ایک ہوتے ہیں اور دکھانے والے اور ہوتے ہیں۔ یہاں بھی یہ معاملہ ہے۔ امام کائنات محمد رسول اللہ ﷺ کی پیاری بیٹی، امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی نامدار بیوی، حسنین رضی اللہ عنہم کی پیاری ماں کا مقام و مرتبہ کونسا مسلمان نہیں جانتا۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا:
أَمَا تَرَضَيْنَ أَن تَكُونِ سَيْدَةَ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَوْ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ صحیح بخاری ۳۶۲۴، صحیح مسلم : ۶۳۱۳
کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم جنت کی عورتوں کی سردار یا مومنہ عورتوں کی سردار ہو ؟ پھر میں اس بات پر ہنسنے لگی۔
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
فاطمة بضعة منى فمن اغضبها أغضبني۔ صحیح بخاری: ۳۷۱۴
فاطمہ رضی اللہ عنہا میرے جسم کا ٹکڑا ہے اس لئے جس نے اس کو ناحق ناراض کیا اس نے گویا کہ مجھے ناراض کیا۔
بیان کی گئیں احادیث مبارکہ سے محمد ﷺ کی دختر نیک اختر کی دنیا اور آخرت میں فضیلت معلوم ہوئی ’’ادب بزرگان‘‘ کے داعی اور دنیا کی کتنی گندگیوں سے دور ہونے کادعویٰ کرنے والا شخص مرزا غلام احمد قادیانی ایک جگہ پر لکھتا ہے کہ :
’’ اس جگہ ایک نہایت روشن کشف یاد آیا اور وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ نماز مغرب کے بعدعین بیداری میں ایک تھوڑی سی غیبت جس سے جو خفیف سے نشاء سے مشابہہ تھی ایک عجیب عالم ظاہر ہوا کہ پہلے یکد فعہ چند آدمیوں کے جلد جلد آنے کی آواز آئی جیسی بسرعت چلنے کی حالت میں پاؤں کی جوتی اور موزہ کی آواز آتی ہے۔ پھر اس وقت پانچ آدمی نہایت وجیہہ اور مقبول اور خوبصورت سامنے آگئے یعنی جناب پیغمبر خدا ﷺ و حضرت علی رضی اللہ عنہ و حسنین رضی اللہ عنہ وفاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا اور ایک نے ان میں سے اور ایسا یاد پڑتا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نہایت محبت اور شفقت سے مادر مہربان کی طرح اس عاجز کا سر اپنی ران پر رکھ لیا۔ ‘‘ قادیانی، غلام احمد، روحانی خزائن مشتمل بر براہین احمدیہ، الناشر الشركة الاسلامیہ لمیٹڈ، ربوه، ۱۹۵۷ء ۵۹۸/۱
معزز قارئین نے اس جھوٹے مفتری اور اخلاق حسنہ سے کوسوں دور شخص کی ذہنیت کا اندازہ لگا لیا ہوگا کہ وہ ادب، احترام، حیاء، اخلاق اور انسانیت کے معاملات میں کہاں کھڑا ہے۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا جیسی عظیم مرتبہ کی مالک شخصیت کے متعلق کیا کچھ لکھ گیا ہے۔ اس کو یہ ڈر نہیں تھا کہ کل قیامت کے دن ان الفاظ کا بھی حساب ہو گا۔ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں آیا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابو جہل کی بیٹی سے شادی کرنے کا ارادہ کیا۔ جب آپ ﷺ نے یہ بات سنی تو آپ ناراض ہوئے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
وَاللَّهِ لا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ ﷺ ، وَبِنتُ عَدُةِ اللَّهِ عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ. فَتَرَكَ عَلَى الخطبة . صحیح البخاری: ۳۷۲۹
اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺ کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک شخص کے پاس جمع نہیں ہو سکتیں۔ پھر علی رضی اللہ عنہ نے اس شادی کا ارادہ ترک کر دیا۔
اسلام نے چار شادیوں تک اجازت دے رکھی ہے بشر طیکہ عدل وانصاف کو قائم رکھا جائے پھر بھی رسول اللہ ﷺ نے اپنی لاڈلی بیٹی کے لئے سوکن کا ہونا نا پسند کیا۔ اس شخص کی جرات کو دیکھیں کہ کس ڈھٹائی سے گستاخی کی ہے۔ کہاں محمد رسول اللہ ﷺ کی پاکبازی، جنتی اور جنتی عورتوں کی سردار بیٹی اور کہاں یہ خبیث روح رکھنے والا کذاب۔ مرزا غلام احمد ایک جگہ پر لکھتا ہے کہ :
’’میں اپنے نفس پر اتنا قابور رکھتا ہوں اور خدا نے میرے نفس کو ایسا مسلمان بنایا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک سال بھر میرے سامنے میرے نفس کو گندی گالیاں دیتار ہے آخر وہی شرمندہ ہو گا اور اسے اقرار کر نا پڑے گا کہ وہ میرے پاؤں جگہ سے اکھاڑ نہ سکا۔ ‘‘ امرتسری، محمد عبدالله معمار، مولانا محمدیہ پاکٹ بک بجواب احمدیہ پاکٹ ، المکتبۃ السلفیہ شیش محل روڈ لاہور ۲- ۱۹۸۹ء، ۲۴۰ایک جگہ لکھتا ہے کہ :
’’ یہ بات نہایت قابل شرم ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر اخلاق رذیلہ میں گرفتار ہو اور درشت بات کا ذرا بھی متحمل نہ ہو سکے اور جو امام زماں کہلا کر ایسی کچھ طبیعت کا آدمی ہو کہ اوٹی بات پر منہ میں جھاگ آتا ہے۔ آنکھیں نیلی پیلی ہوتی ہیں۔ وہ کس طرح بھی امام زماں نہیں ہو سکتا۔‘‘ قادیانی، غلام احمد مرزا امام الزمان اور اس کی علامات ملخص از ضرورة الامام ، احمد یه انجمن اشاعت اسلام‘ لاہور طبع سو ئم دسمبر ۱۹۶۸ء ص: ۱۰
’’خداوہ خدا ہے جس نے اپنے رسول یعنی اس عاجز (یعنی مرزا غلام احمد ) کو تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔‘‘قادیانی، غلام احمد مرزا، اربعین ص ۳‘۴۴
اس کرہ ارض پر جتنے انسان آباد ہیں ان سب میں سب سے بڑارتبہ ’’علمائے حق‘‘ کا ہے۔ اللہ تعالٰی کا ارشاد مبارک ہے کہ :
يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ المجادلہ: ۱۱
اللہ تعالی تم میں سے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ہیں اور جو علم دیئے گئے ہیں درجے بلند کر دیگا۔
شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ-وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآىٕمًۢا بِالْقِسْطِؕ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ آل عمران: ۱۸
اللہ تعالی اور فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور وہ عدل کو قائم رکھنے والا ہے اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ :
نَضرَ اللهُ امْرَأَ سَعَ مِنَّا حَدِيثًا فَحَفِظَهُ حَتَّى يُبَلَغَهُ سجستانی، ابوداؤد سلیمان بن اشعث ، امام، سنن ابو داؤ: ۳۶۶۰، جامع الترمذی: ۲۶۵۶
اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش و خرم اور شاداب رکھے جس نے ہم سے کوئی حدیث سنی پھر اس کو حفظ کیا اور یاد رکھا حتی کہ اس کو دوسرے لوگوں تک پہنچایا۔
بیان کی گئیں قرآن مجید کی آیات مقدسہ اور حدیث مبارکہ میں سے ان لوگوں کی شان، بزرگی، قدرو منزلت معلوم ہوئی جن کے سینوں میں قرآن وحدیث کا علم اور اس پر عمل وافر مقدار میں موجود ہے۔ ان خوش قسمت انسانوں کے حق میں نبوی دعا میں بیان کیے گئے الفاظ کو دیکھیں کہ اس میں دنیا کی سرفرازی اور آخرت کی کامرانی کا کتنا سامان موجود ہے۔ دولتمند لوگ اپنی ساری دولت بھی اللہ کے راستے میں خرچ کر ڈالیں پھر بھی اس اعزاز کے مصداق نہیں بنیں گے اللہ تعالیٰ نے ان علماء حق کو دنیاوی اور اخروی عظمتوں کا مالک بنایا ہے۔ ایک بار سہل بن عبد الله تستری رحمہ اللہ ، امام ابوداؤد رحمہ اللہ کی زیارت کے لئے آئے۔ آپ نے ان کا بھر پور استقبال کیا اور ان کو عزت واحترام سے نوازا۔ انہوں نے عرض کیا :
حضرت الامام! میں آپ کی خدمت میں ایک اہم کام سے آیا ہوں۔ آپ نے پوچھا، فرمائیے ؟ کہا کہ پہلے وعدہ فرمائیں کہ حتی الامکان ضرور کریں گے ۔ آپ نے وعدہ فرمالیا کہ جہاں تک ہو سکا۔ میں آپ کا کام ضرور کرونگا۔ تو جناب سہیل رحمہ اللہ نے عرض کیا کہ میں آپ کی اس مبارک زبان کا بوسہ لینا چاہتا ہوں جس سے آپ احادیث رسول بیان کرتے ہیں۔ چنانچہ امام صاحب نے اپنی زبان باہر نکالی اور انہوں نے اس کا بوسہ لیا۔ الصباغ، محمد بن لطفی، ڈاکٹر ، حالات امام ابو داؤد رحمہ اللہ سنن اوداود ، تحقیق و تخریج حافظ ابو طاہر زبیر علی زئی، دار السلام ، لاھور‘ ۷۴۱ھ۱/ ۴۵
بیان کئے گئے ایمان افروز واقعات سے اہل علم اور علمائے حق کی فضیلت معلوم ہوئی۔ یقیناً اس قسم کے لوگ امت کے دوسرے عام لوگوں کے لئے اللہ تعالٰی کی رحمت کے موجب ہوتے ہیں جن عظیم انسانوں کی موجودگی سے اللہ تعالیٰ کی رحمتیں برستی ہوں۔ فرشتے آکر ان کی مجالس میں بیٹھتے ہوں اور اللہ تعالیٰ اس مجلس اور مجلس میں موجود افراد کا تذکرہ ملائکہ کے سامنے کرتا ہو وہ یقیناً ممتاز مقام کے مالک ہیں۔ ان کے ہاں حاضر ہو نا، ان کی زیارت کرنا اور ان کے علم سے فیضیاب ہونا بڑی سعادتمندی ہے۔ علمائے حق کی شکایت اور غیبت کرنا بڑی بد بختی ہے۔ اس لئے اہل علم کہتے تھے کسی عام مسلمان کی غیبت کرنا ایک نہایت سنگین گناہ کا کام ہے لیکن ایک جید عالم دین کی خوامخواہ غیبت و شکایت کرنا اس سے بھی برا اور کمینہ قسم کے لوگوں کا کام ہے۔
مورخ حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ المتوفی ۵۷۱ ہجری کا ایک قول ہے کہ :
اياكم ولحوم العلماء فانها مسومة – ‘‘ الشافعی، ابوالقاسم علی بن هبة الله بن عبد الله‘ امام تبیین و کذاب المقترى رقم الاثر : ۲۸ .
’’علماء کی غیبت سے بچو کیونکہ ان کا گوشت زہر آلود ہوتا ہے۔‘‘
قرآن حکیم کی آیات مقدسہ، حدیث مبارکہ اور بلند پایہ محدثین کرام رحمہم اللہ کے اقوال و واقعات سے علماء حق کی مختصر مدح و توصیف کے بعد اس شخص کے اس دعویٰ کی طرف آتے ہیں جس میں اس نے ببانگ دہل کہا تھا کہ ’’اسلام کا طریق گالی دینا نہیں ہے‘‘ اور اس کا مرید خاص لکھتا ہے کہ ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان غصہ کی حالت میں بھی گالی یا گالی کی ہمرنگ لفظ نہیں سنا۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین کے بیان کیے گئے دعوؤں کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں اس کے مخالف علماء کا کیا مقام و مرتبہ تھا اور انہوں نے اپنے ’’اخلاق فاضلہ ‘‘کا مظاہرہ کرتے ہوئے جو زبان استعمال کی ہے اس کی چند جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں:
شیخ الکل میاں نذیر حسین محدث دہلوی ( المتوفی ۱۳۲۰ھ) کی عالی جاہ شخصیت کو علم کی دنیا میں کون نہیں جانتا۔ اس وقت علم حدیث کے زیور سے آراستہ جتنی بھی نامور علمی شخصیات موجود ہیں یا وفات کر گئیں ہیں ان میں اکثریت ان کی ہے جو میاں نذیر حسین رحمہ اللہ کے شاگردیا ان کے شاگردوں کے شاگرد ہیں۔ شیخ العرب والعجم علامہ سید بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ (۱۴۱۶ھ۔ ۱۳۴۳ھ ) بھی ایک واسطے سے میاں صاحب رحمہ اللہ کے شاگرد تھے۔ اس عظیم شخصیت نے ایک جگہ پر ۵۰ برس سے زیادہ عرصہ بیٹھ کر درس حدیث دیا۔ مختلف علمی موضوعات پر کتنی نادر تصانیف اپنے پیچھے چھوڑی ہیں جن سے علماء استفادہ کر رہے ہیں۔ مولانا محمد حسین بٹالوی رحمہ اللہ (المتوفی ۱۹۲۰ء) شیخ الکل میاں نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ کے تلمیذ رشید ہیں۔ اس بلند پایہ ہستی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے ’’مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکار دائرہ اسلام سے خارج ہیں‘‘ کے عنوان سے ایک فتوی مرتب کیا، جس پر پاک وہند کی عظیم علمی شخصیات سے فتوے حاصل کئے یہ فتویٰ کتابی صورت میں ’’ دار الدعوۃ السلفیہ، لاہور‘‘ سے نومبر ۱۹۷۶ء میں ۱۸۸ صفحات پر شایع ہو کر علماء کے کتب خانوں کی زینت بن چکا ہے۔ جہاں جماعت اہل حدیث کے لئے یہ بات ’’اعزاز اول‘‘ کا درجہ رکھتی ہے وہاں ان شاء اللہ مولانامحمد حسین بٹالوی رحمہ اللہ کے لئے اخروی نجات کا باعث بھی ہو گی۔ علماء اہل حدیث کے ان دو قد آور اور درخشندہ ستاروں کے متعلق مرزا غلام احمد قادیانی کی زبان درازی کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔
مرزا لکھتا ہے کہ :
واذيمكر بك الذي كفر او قدلی يا هامان لعلى اطلع على الٰه موسى وان لاظنه من الکا ذبین ۔ ۔ ۔ ۔
وہ زمانہ جب ایک کفر تجھ سے مکر کر یگا جو تیرے ایمان سے انکاری ہے اور کہے گا اے بامان میرے لئے آگ بھڑکا۔ بامان سے مراد نظیر حسین دہلوی ہے۔ فرعون سے مراد محمد حسین ہے۔
قادیانی، غلام احمد مر زا الاستفتاء‘ احمد یہ انجمن اشاعت اسلام لاہور ،۱۶ امئی ۱۸۹۷ ء‘ ۲۱
’’چونکہ بعض ظالم مولوی جیسا کہ محمد حسین بٹالوی میری دشمنی کے لئے اسلام پر حملہ کرنا چاہتے ہیں ہم بجز اس کے کیا کہیں کہ لعنة اللہ علی الکاذبین اس کو نخوت نے اندھا کر دیا۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ شخص نہایت مفسد اور دشمن حق ہے۔ اب سے خوب یادرکھو کہ خدا بہت سے نشان دکھائے گا، نہیں چھوڑے گا جب تک ایسے لوگوں کو ذلیل کر کے نہ دکھلائے۔ ‘‘ ایضاً: ۲۵-۲۴
’’یہ جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھارہے ہیں ۔ ‘‘ ضمیمہ انجام آتھم: ۲۵’’اگر چہ اس تمام فتنہ تکفیر کا بوجھ نذیر حسین دہلوی کی گردن پر ہے مگر تا ہم دوسرے مولویوں کا یہ گناہ ہے کہ انہوں نے اس نازک امر تکفیر مسلمانوں میں اپنی عقل اور اپنی تفتیش سے کام نہیں لیا بلکہ نذیر حسین کے دجالانہ فتوے کو دیکھ کر جو محمد حسین بٹالوی نے تیار کیا تھا بغیر تحقیق اور تنقیح کے اس پر ایمان لے آئے۔ ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ اس نالائق نذیر حسین اور اس کے ناسعاد تمند شاگرد محمد حسین کا یہ سراسر افترا ہے۔ ‘‘قادیانی، غلام احمد مرزا در ساله اشتہار مباہلہ : ۱۹۲۲ طبع دوم ‘ ۴۵
ایک جگہ مولانا محمد حسین بٹالوی رحمہ اللہ کو مخاطب ہو کر کہتا ہے:
یا شیخ ارض الخبيث ارض بطالة انجام آتھم ۲۶۹
اے شیخ زمین پلید ، زمین بطالت ۔
مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ (المتوفی ۱۳۶۷ھ ) فاتح قادیان برصغیر پاک وہند کی وہ گرانقدر علمی شخصیت تھی جس کو علم ، دعوت، توحید ، سنت، مناظرے اور مباہلہ کے میدان میں قیامت تک یاد رکھا جائیگا۔ بیک وقت ایک مفسر شہیر ، فن اسماء الرجال پر گہری نظر رکھنے والے، کامیاب و حاضر دماغ مناظر، پر زور خطیب، صاحب قلم انشا پرداز، ذہین و فطین انسان اور نہایت سنجیدہ اور بردبار شخص کے طور پر جانے پہچانے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کے جتنے بھی فرقے ہیں وہ سب بلا امتیاز آپ کی بلند اور گوناکوں شخصیت کی تعریف میں رطب للسان ہیں مگر غیر مسلم مثلاً ہندومت، آریہ سماج، سکھ، عیسائی، پارسی اور بدہ مت وغیرہ کے اہل علم اور اکابر بھی آپ کے علم و فضل کے دلی طور پر معترف ہیں۔ اس جامع المنقولات والمعقولات شخصیت جس کے شبدیز قلم کی شوخی اور با نکپن کی پوری دنیا تعریف کرتی ہے اس کی قابل رشک شخصیت کے متعلق مرزا غلام احمد قادیانی نے جو کچھ لکھا ہے اور جن القابات سے انہیں پکارا ہے وہ ملاحظہ فرمائیں:
’’ابوجہل (۱۰۰) کتے مردار خور تمتہ حقیقتہ الوحی: ۴۹ (۱۰۱) کفن فروش کتاحاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ۲۵ (۱۰۲) ابن ہواء، غدارقادیانی، غلام احمد مرزا، اعجاز احمدی مطبع ضیاء الاسلام، قادیان: ۱۵نومبر ۱۹۰۲، ۳۸ (۱۰۳) خبیث ، سور ،کتا، بدذات، گوھ خور، ہم اس (ثناء اللہ) کو کبھی (جلسہ عام میں) بولنے نہ دیں گے گدھے کی طرح لگام دے کر بٹھائیں گے اور گندگی اس کے منہ میں ڈالیں گے ایضاً ۴۳ (۱۰۴) جس حالت میں دودو آنہ کے لئے وہ در بدر خراب ہوتے پھرتے ہیں اور خدا کا قہر نازل ہے اور مردوں کے کفن اور وعظ کے پیسوں پر گزارہ ہے۔ قادیان میں نہ آئیں تو پھر لعنت ہے اس لاف و گزاف پر جو انہوں نے موضع مد میں مباحثہ کے وقت کی اور سخت بے حیائی سے جھوٹ بولا‘ الله تعالیٰ فرماتا ہے ،
امرتسری، شاء الله ، مولاناء‘ الہامات مرزا، ۱۲۲ حاشیه
لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ،
گمراہوں نے بغیر علم اور پوری تحقیق کے عام لوگوں کے سامنے تکذیب کی۔ کیا یہی ایمانداری ہے۔ وہ انسان کتوں سے بد تر ہوتا ہے جو بے وجہ بھونکتا ہے اور وہ زندگی لعنتی ہے جو بے شرمی سے گذرتی ہے۔ ‘‘ اعجاز احمدی: ۲۳
بیان کیا گیا ’’ دلنشین‘‘ لب ولہجہ مسلمانوں کے دوسرے فرقوں کے مولویوں کے لئے بھی استعمال کیا ہے۔ چند شہ پارے ملاحظہ فرمائیں:
’’ بعض خبیث طبع مولوی جو یہودیت کا خمیر اپنے اندر رکھتے ہیں دنیا میں سب جانوروں سے زیادہ پلید خنزیر ہے مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں۔ اے مردار خور مولویو! اور گندی روحو! اے بدذات فرقہ مولویاں۔انجام آتھم ضمیمہ وحاشیہ : ۲۱
پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کا نام لے کر لکھتا ہے کہ :
’’کذاب دروغ گو، مزور، خبیث، بچھو کی طرح نیش زن ، اے گولڑہ کی زمین ! تجھ پر خدا کی لعنت تو ملعون کے سبب ملعون ہو گئی۔‘‘
قادیانی، غلام احمد مرزا، نزول المسیح ،۷۵
مولانا عبد الحق غزنوی کی متعلق ’’ کنجری کا بیٹا‘‘ بھی لکھ گیا۔
انجام آتھم: ۸۲-۲۸۱
علماء کے بعد اب عام مسلمانوں کی باری ہے کیونکہ اس مفسد اور مفتری نے زندگی کے کسی بھی شعبہ سے تعلق رکھنے والے مسلمان کو ڈسنے کے سوا نہیں چھوڑا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتب کا مطالعہ کرنے والوں کے ایمان کے بارے میں لکھتا ہے کہ ’’ ہماری جماعت کے آدمیوں کو چاہئے کہ کم از کم تین دفعہ ہماری کتابوں کا مطالعہ کریں اور فرماتے تھے کہ جو ہماری کتابوں کا مطالعہ نہیں کرتا اس کے ایمان کے متعلق مجھے شبہ ہے۔‘‘
سیرت المہدی: ۷۸/۲
مرزا کی کتب نہ پڑھنے والوں کے ایمان میں شک اور شبہ کی بات معزز قارئین نے پڑھ لی، اب دل تھام کے مرزا کے اخلاق کا ملہ اور علم نافعہ کی ایک جھلک کا مطالعہ کریں جو اس نے اپنی کتب مطالعہ نہ کرنے والوں کے متعلق ذکر کی ہے۔ چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ :
تلك كتب ينظر اليها كل مسطم بعين المحبة والمودة وينتفع من معارفها ويقبلني ويصدق دعوتی الاذرية البغايا الذين ختم الله علىٰ قلوبهم فهم لا يقبلون۔ آئینہ کمالات اسلام: ۴۸-۵۴۷
ان کتابوں کو سب مسلمان محبت کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور ان کے معارف سے فائد ہ اٹھاتے ہیں اور میرے دعویٰ کی تصدیق کرتے ہیں مگر کنجریوں کی اولاد نہیں مانتی ہے کہ ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر کر دی ہے۔‘‘
عالم اسلام کی عظیم علمی شخصیت علامہ احسان الہیٰ ظہیر شہید رحمہ اللہ اس عربی عبارت کے متعلق لکھتے ہیں کہ’’ اس سطر کی عربی عبارت میں جو غلطیاں ہیں وہ مرزا غلام احمد کی عربی دانی اور جہالت علمی پر شاہد عدل ہیں۔ ‘‘
ظہیر، احسان الہی ، علامہ، مرزائیت اور اسلام، ادارہ ترجمان السنتہ لاہور ۔ ۱۹۹۳ء، ۱۷۶
’’کنجریوں کے بچوں کے بغیر جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگادی ہے باقی سب میری نبوت پر ایمان لا چکے ہیں اور
ان العدى صاروا خنازير الفلاة ونسائهم من دونهن الا كلب ‘‘
میرے دشمن جنگل کے سور بن گئے ہیں اور ان کی عور تیں کتیوں سے بد تر ہیں۔‘‘
قادیانی، غلام احمد ، مرزا نجم الہدیٰ : ۱۰
جو ہماری فتح کا قائل نہ ہو گا اس کو ولد الحرام بنے کا شوق ہے ، حرام زادہ کی یہی نشانی ہے کہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے۔ ‘‘
قادیانی، غلام احمد ، مرزا انوار الاسلام : ۳۰
بعض کتوں کی طرح‘ بعض بھیڑیوں کی طرح‘ بعض سوروں کی طرح اور بعض سانپوں کی طرح ڈنگ مارتے ہیں۔
قادیانی، غلام احمد ، مرزا، خطبات الہامیہ، مطبع ضیاء الاسلام ، قادیان با ہتمام حکیم فضل الدین البهیر وی‘ ۱۳۱۹ هجری: ۵۱
’’ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہیں۔‘‘
قادیانی، غلام احمد ، مرزا، حقیقتہ الوحی، الناشر الشركتہ الاسلامیتہ لمیٹڈ، ربوہ ۱۵ مئی ۱۹۰۷ء،۱۶۳
’’شیخ ابو سعید محمد حسین بٹالوی کے خط کا جواب الحکم کی گذشتہ اشاعت میں کسی قدر بسط سے شایع ہو چکا ہے لیکن امام حجت اور ایک نقطہ معرفت کے لئے اتنا اور عرض کرناضروری سمجھا ہے کہ حضرت اقدس علیہ الصلاۃ والسلام کے حضور جب وہ خط پڑھا گیا اور اعتراض پیش کیا گیا کہ آپ کیوں حج نہیں کرتے ؟ تو فرمایا کہ میرا پہلا کام خنزیروں کا قتل اور صلیب کی شکست ہے، ابھی تو میں خنزیروں کو قتل کر رہا ہوں، بہت سے خنزیر مرچکے ہیں اور بہت سے سخت جان ابھی باقی ہیں ان سے فرصت اور فراغت تو ہولے ۔ ’’ شیخ بٹالوی صاحب ! اگر انصاف سے کام لیں گے تو امید ہے یہ لطیف جواب انہیں تسلیم ہی کرنا پڑے گا۔ کیوں شیخ صاحب ! ٹھیک ہے نا! پہلے خنزیروں کو قتل کر لیں ۔ ‘‘
ملفوظات حضرت مسیح موعود، روحانی خزائن ۲ جلد سوم : ۲۷۲
معزز قارئین کرام ! آپ نے اس شخص کے عقائدہ نظریات، خیالات، گفتگو کا تحریری اسلوب اور لب ولہجے کے علاوہ اخلاق فاضلہ کے چند نمونے ملاحظہ فرمائے جس کا یہ دعویٰ تھا کہ :
اقتضىٰ رحم الله نور السماء فان ذالك النور والمجدد المامور – والعبد المنصور۔ والمهدى المعهود۔ والمسيح الموعود وانى نزلت بمنزلة من ربي لا يعلمها احد من الناس وان سرى اخفى وان من اكثر اهل الله فضلاً عن عامة الاناس۔ وان مقامى أبعد من ایدی الغواصين و صعودی ارفع من قياس القائسين۔
خطبات الہاميه : ۵۱
خدا کے رحم نے تقاضا کیا کہ آسمان سے نور نازل ہو سو میں وہ نور ہوں اور وہ مجدد ہوں جو خدا تعالیٰ کے حکم سے آیا ہے اور بندہ ومدد یافتہ ہوں اور وہ مہدی ہوں جس کا آنا مقرر ہو چکا ہے اور وہ مسیح ہوں جس کے آنے کا وعدہ تھا اور میں اپنے رب سے اس مقام پر نازل ہوا ہوں جس کو انسانوں میں سے کوئی نہیں جانتا اور میرا بھید اکثر اہل اللہ سے پوشیدہ اور دور تر ہے قطع نظر اس سے کہ عام لوگوں کو اس سے کچھ اطلاع ہو سکے اور مقام غوطہ لگانے والوں کے ہاتھوں سے دور ہے اور میرے اوپر چڑھنے کی بلندی قیاس میں نہیں آسکتی۔
عربی عبارت کا ترجمہ جوں کا توں نقل کیا گیا ہے ۔ اسی عربی اور اردو دونوں عبارتیں غور سے پڑھیں کہ اس کذاب نے کتنے جھوٹے دعوے کیے ہیں۔ یہ کون سانور، مجدد، مددیافته بنده، مہدی، مسیح موعود ہے جو نازل ہوا ہے۔ جس کو انسانوں میں سے کوئی بھی نہیں جانتا، اہل اللہ سے پوشیدہ ہے۔ غوطہ لگانے والوں کو اس کا مقام معلوم نہیں ہوتا لیکن عام لوگوں کو کچھ اطلاع ہے ۔ ’’میرے اوپر چڑھنے ‘‘ سے اس کی پتہ نہیں کیا مراد تھی ؟ اس شخص کا دینی اور دنیوی معیار آپ نے معلوم کر لیا کہ یہ خبیث النفس کہاں کھڑا ہے۔ ایک طرف بیان کی گئی اس کی گندی گفتگو اور غلیظ بکواس اور دوسری طرف اس کے یہ دعوے کہ ’’ہم لوگ دوسری قوموں کے نبیوں کی نسبت ہر گز یہ زبانی نہیں کرتے۔‘‘
الہ دین، عبداللہ ، اسلام کا ایک عظیم الشان نشان، فیصلہ کن کتاب الہ دین بلڈ نگ ، سکندر آباد دکن انڈیا، ۱۹۵۲ء ۶۰/۱
’’ اسلام میں کسی قوم کے پیشوا کی بد گوئی کرنا منع ہے۔ ‘‘ایضاً ۶۰/۱
’’ ہماری اس کتاب اور دوسری کتابوں میں کوئی لفظ یا کوئی اشارہ ایسے معزز لوگوں کی طرف نہیں ہے جو بد زبانی اور کمینگی کے طریق کو اختیار نہیں کرتے ایضاً ۷۰/۲
آپ ان دعوؤں کا پچھلے صفحات سے موازنہ کریں کہ یہ شخص اپنے نفس کے اعتبار سے کتنا جھوٹا، مکار اور فریبی ہے۔ اللہ رب العزت سے لے کر ایک ادنی درجے کے مسلمان تک کوئی بھی اس بد بخت مفتری اور مفسد کی توہین ، دشنام طرازی، استہزاء اور بد اخلاقی سے بچ نہیں سکا۔ امام کائنات محمد رسول اللہ ﷺ نے اس قسم کے عیار اور مکار لوگوں کے متعلق ہمیں پہلے ہی بتادیا تھا۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ:
أَرْبَعُ مَنْ كُنْ فِيهِ كَانَ مُنَافِقَا خالِصًا وَإِنْ كَانَتْ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ فِيهِ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَنَعَهَا مَنْ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ إِذَا عَاهَدَ غدر۔ صحیح بخاری: ۳۴، صحیح مسلم: ۵۸
’’چار چیزیں ہیں جس شخص میں ہوں گی وہ پکا اور خاص منافق ہو گا اور جس میں ان میں سے ایک خصلت ہو گی اس میں نفاق کی ایک خصلت ہو گی یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے جب اس کو امانت سپرد کی جائے تو اس میں خیانت کرے اور جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب عہد کرے تو بد عہدی کرے اور جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ پر اتر آئے۔‘‘
اس حدیث مبارکہ کی روشنی میں معزز قارئین خود فیصلہ کریں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کیا تھا؟ دعویٰ کرتا ہے کہ میں نے کسی کے حق میں کچھ نہیں کہا حالانکہ اس کذاب نے جو کچھ لکھا ہے آپ اس کی جھلکیاں پڑھ چکے ہیں۔
عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ، وَلاَ اللِّعَانِ، وَلاَ الْفَاحِشِ وَلاَ الْبَذِي‏.‏ ترمذی: ۱۹۷۷، مستدرک حاکم: ۱۲/۱
مومن بندہ نہ طعن و تشنیع کرتا ہے، نہ لعنت اور فحش کلامی کرنے والا ہوتا ہے ،نہ بد زبان ہوتا ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی ایک جگہ لکھتا ہے کہ ’’ لعنت بازی کرناصدیقوں کا کام نہیں، مومن لعان نہیں ہوتا ۔ ‘‘
قادیانی ، غلام احمد ، مرزا، ازلہ: ۶۶۰ ( طبع اول) ۲۶۹ (طبع دوم) بحوالہ محمدیہ پاکٹ بک بجواب احمدیہ پاکٹ بک : ۲۳۸
مرزا غلام احمد قادیانی کے قول اور فعل میں اتنا تضاد ہے جتنادن اور رات اور آسمان اور زمین کے درمیان ہے۔ وہ ملعون کہتا کچھ اور ہے اور زبان و قلم سے بکتا کچھ اور ہے۔ مثال کے طور پر یہ دلنشین انداز پڑھیں:
’’بلکہ وہ شریر جو گالیاں دینے سے باز نہیں آتا اور ٹھٹھا کرنے سے نہیں رکھتا اور توہین کی عادت کو نہیں چھوڑتا، ہر ایک مجلس میں میرے نشانوں سے انکار کرتا ہے اس کو چاہئے کہ میعاد مقررہ میں اس نشان کی نظیر پیش کرے ورنہ ہمیشہ کے لئے اور دنیا کے انقطاع تک مفصلہ ذیل لعنتیں اس پر آسمان سے پڑتی رہیں گی، بالخصوص مولوی ثناء اللہ صاحب جو خود انہوں نے میری نسبت دعویٰ کیا ہے کہ اس شخص کا کلام معجزہ نہیں ہے ان کو ڈرنا چا ہے کہ خاموش رہ کر ان لعنتوں کے نتیجے کچلے نہ جائیں اور وہ لعنتیں یہ ہیں۔
۱۔ لعنت
۲۔ لعنت
۳۔ لعنت
۴۔ لعنت
۵۔ لعنت
۶۔ لعنت
۷۔ لعنت
۸۔ لعنت
۹۔ لعنت
۱۰۔ لعنت
وتلك عشرة كاملة اعجاز احمدی: ۳۸
مسلمانوں کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی نے عیسائیوں پر بھی ’’ نظر الفت‘‘ ڈالی ہے۔ چنانچہ اس نے پورے چار صفحات پر ایک ہزار دفعہ لعنت ، لعنت ، لعنت ، لعنت لکھی ہے۔
قادیانی، غلام احمد ، مرزا، انور الحق، مطبع مصطفائی پر یسں، لاہور بار اول: ۱۳۱۱ھ ۔ ۱۲۲۔۱۱۱۸
آپ انصاف سے فیصلہ کریں کہ اس قسم کا شخص بھی ہی بن سکتا ہے ؟ قرآن، حدیث ، علم، عقل، اخلاق اور انسانیت وغیرہ بیانگ دہل کہہ رہے ہیں کہ نبوت کا سلسلہ تو منقطع ہو گیا ہے یہ شخص ایک اچھا انسان بھی نہیں تھا۔ علامہ احسان الہی ظہیر رحمہ اللہ اس مضمون کی مناسبت سے لکھتے ہیں کہ :
’’مرزا غلام احمد کے لئے اس لئے ہمارے قلم سے احترام کا کوئی لفظ نہیں نکلتا کہ اس ’’مرد شریف‘‘ سے کسی شخص کی عزت محفوظ نہیں رہی ایک عام آدمی سے لے کر علماء، فقہاء، ائمہ محد ثین اور صحابہ کرام علیہم الرضوان اور انبیاء عظام علیہم السلام تک اس کی دریدہ دہنی سے نہیں بچ سکے۔ اس لئے ہم مرزا غلام احمد کی مزعومہ نبوت اور امامت تو در کنار اس کی شرافت تک کے قائل نہیں ہو سکے۔ ‘‘ مرزائیت اور اسلام: ۱۷۴
بیان کئے گئے حقائق کے بر عکس مرزا غلام احمد قادیانی نے ہندو مذ ہب کے ایک رشی کے متعلق جو کلمات کہے ہیں وہ ملاحظہ کرتے چلیں:
راجا کرشن جیسا کہ میرے پر ظاہر کیا گیا ہے در حقیقت ایک ایسا کامل انسان تھا جس کی نظیر ہندوؤں کے کسی رشی اور اوتار میں نہیں پائی جاتی اور اپنے وقت کا اوتار یعنی نبی تھا جس پر خدا کی طرف سے روح القدس اترتا تھا۔ وہ خدا کی طرف سے فتح مند اور بااقبال تھا جس نے آریہ دت کی زمین کو پاپ سے صاف کیا۔ وہ اپنے زمانے کا در حقیقت نبی تھا جس کی تعلیم کو پیچھے سے بہت باتوں میں بگاڑ دیا گیا۔ وہ خدا کی محبت سے پر تھا اور نیکی سے دوستی اور شرک سے دشمنی رکھتا تھا۔ ‘‘
اسلام کا ایک عظیم الشان نشان، فیصلہ کن کتاب : ۸۳/۲
معزز قارئین کرام ! آپ نے مرزا غلام احمد قدیانی کے عقائد، نظریات، خیالات اور اخلاقیات کے گوہر ملاحظہ فرمائے اس کی شخصیت کے متعلق آخر میں شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کا ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہیں جو ہماری اس پوری کاوش کا نچوڑ ہے:
’’ایک دفعہ کسی تقریب سے آپ رحمہ اللہ لاہور تشریف فرما تھے ۔ انہی دنوں قادیانیوں کی لاہوری پارٹی کا جلسہ تھا۔ مولانا چونکہ نہایت وسیع الظرف تھے اور تمام فرقوں کے اکابر سے مناظرانہ نوک جھونک کے باوجود نہایت اچھے ، دوستانہ اور فیاضانہ مراسم رکھتے تھے۔ اس لئے منتظمین جلسہ نے آپ کو بھی تقریر کے لئے مدعو کیا۔ آپ اپنے احباب کی ایک مجلس میں تشریف فرما تھے کہ آپ کو اچانک دعوت نامہ ملا۔ آپ فوراً احمد یہ بلڈ نگس روانہ ہو گئے۔ لاہوریوں نے آپ کو دیکھ کر مسیح موعود زندہ باد اور احمدیت پائندہ باد کے پر جوش نعرے لگائے۔ در حقیقت وہ یہ محسوس کر رہے تھے کہ آج مولانا کو دام فریب کے اندر پھانسنے میں وہ کامیاب ہو چکے ہیں۔ چنانچہ صدر جلسہ نے کہا کہ ہم نے آپ کو اس لئے زحمت دی ہے کہ آپ حضرت مرزا صاحب کے اخلاق و عادات پر کچھ ارشاد فرمائیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ آپ موقع کی مناسبت سے مرزا صاحب کی کچھ نہ کچھ مدح و توصیف کر ہی دیں گے۔ لیکن مولانا بھی غضب کے موقع شناس، معاملہ فہم اور برجستہ گو تھے، اٹھے اور حمد و صلوۃ کے بعد فرمایا:
احمدی دوستو! میں اپنے پڑوسی کے خصائل و فضائل کیا بیان کروں۔ جہاں تک مجھے یاد ہے۔ ان کے محاسن و محامد کی نسبت یہی کہہ سکتا ہوں کہ :
مرے معشوق کے دو ہی نشاں ہیں
مولانا نے اس مصرع کو چند بار دو انگلیاں اٹھا کر دھرایا۔ جب مرزائی سامعین دوسرے مصرع کےلئے سراپا انتظار بن گئے تو پورا شعر یوں ادا فرمایا
مرے معشوق کے دو ہی نشان ہیں
زباں پر گالیاں، مجنوں کی باتیں
یہ سنتے ہی مرزائیوں کی آنکھیں مچ گئیں اور مولانا اپنی قیام گاہ پر واپس آگئے۔
الاعظمی، صفی الرحمن، مولانا، فتنہ قادیانیت اور مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ ادارة البحوث الاسلاميه والدعوة والافتاء، بالجامعة السلفيه (مرکزی دارالعلوم) ریوڑی تالاب، بنارس، الہند: ١٩٧٩ء
ہم شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کے اس بیان سے بالکل اتفاق کرتے ہوئے اپنے ٹوٹے پھوٹے اور منتشر خیالات کو سمیٹتے ہوئے فیصلہ معزز قارئین کرام پر چھوڑتے ہیں۔ آپ اس شخص کی بچپن سے لے کر مرنے تک کی کہانی پڑھ کر آئے ہیں۔ اب آپ قرآن مجید صحیح احادیث مبارکہ اور فہم سلف صالحین کو سامنے رکھ کر مرزا غلام احمد کے عقائد ، خیالات، نظریات ، اخلاق اور اس کی زبان کالب ولہجہ دیکھیں اور پھر خود فیصلہ کریں کہ کیا یہ شخص اگر خاتم انبیین محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے بھی ہوتا تو کیا اس دور میں بھی یہ نبی بننے کے لائق اور اہل تھا؟
میری وفا کو دیکھ کرمیری جفا کو دیکھ کر
بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
لنکڈان
ٹیلی گرام
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
پرنٹ کریں
ای میل