ایسے سامان کی خرید وفروخت کا حکم جو اپنی جگہ پڑا ہو

تحریر : فتاویٰ سعودی فتویٰ کمیٹی

53- ایسے سامان کی خرید وفروخت کا حکم جو اپنی جگہ پڑا ہو
کسی مسلمان کے لیے کوئی سامان اس وقت تک نقد یا ادھار بیچنا جائز نہیں جب تک وہ اس کا مالک نہ ہو جائے اور اسے اپنے قبضے میں نہ کرلے، کیونکہ آنخضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حکیم بن حزام سے فرمایا تھا:
«لا تبع ما ليس عندك» [سنن ابي داود، رقم الحديث 35033]
”جو تیرے پاس نہیں اسے نہ بیچ۔“
حضرت عبداللہ بن عمر بن عاص رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«لا يحل سلف و بيع، ولا بيع ما ليس عندك» [سنن الترمذي، رقم الحديث 1234 سنن النسائي، رقم الحديث 4611]
”سلف (قرض) اور بیع (ایک ہی وقت میں) جائز نہیں، اور جو تیرے پاس نہیں اس کی کوئی بیع نہیں۔“
مذکورہ بالا دونوں احادیث کی بنا پر جو شخص کوئی سامان خریدتا ہے وہ اس وقت تک اسے بیچ نہیں سکتا جب تک اسے اپنے قبضے میں نہ کر لے۔
نیز امام احمد اور امام ابو داود نے بھی حضرت زید بن ثابت سے روایت کیا ہے اور اسے ابن حبان اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام سے منع فرمایا ہے کہ جس جگہ سے سامان خریدا جائے اسے تاجر اپنے گھر میں لے جانے سے پہلے وہیں بیچ دے۔ [سنن أبى داود، رقم الحديث 3499]
صحیح بخاری میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں خوراک (غلہ) بیچتے ہوئے دیکھا ہے، ان کو اسے اپنے گھروں میں لے جانے سے پہلے وہیں بیچنے پر مارا جاتا تھا۔ [سنن النسائي، رقم الحديث 4608]
اس مفہوم کی بہت ساری احادیث ہیں۔
[ابن باز: مجموع الفتاوي و المقالات: 64/19]

یہ تحریر اب تک 93 لوگ پڑھ چکے ہیں، جبکہ صرف آج 1 لوگوں نے یہ تحریر پڑھی۔