اس عبارت: ”خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں ہو گا“ کا شرعی حکم

عقد بیع (خرید و فروخت کا معاہدہ)
1- اسلامی معاشیات کے ا جزائے ترکیبی
اسلامی معاشیات شرعی تجارت کی بنیاد پر قائم ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کے حلال کردہ کاموں میں، معاملات کے شرعی قواعد وضوابط کے مطابق سرمایہ کاری اور تجارت کی جاتی ہے۔
ان قواعد کی بنیاد اس قانون پر قائم ہے کہ معاملات میں اباحت اور حلال ہونا اصل قانون ہے، اور ہر قسم کی حرام کردہ اشیا، جیسے: سود وغیرہ سے اجتناب کرنا لازمی ہے۔ فرمان خداوندی ہے:
«وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا» ا [لبقرة 275]
”حالانکہ اللہ نے بیع کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا۔“
نیز فرمایا۔
«فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِن فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» [الجمعة: 10]
”پھر جب نماز پوری کر لی جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کے فضل سے (حصہ) تلاش کرو اور اللہ کو بہت یاد کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔“
[اللجنة الدائمة: 11170]
——————

2- عورت کے لیے تجارت اور کارو بار کرنا
سفر ہو کہ حضر، مرد اور عورت دونوں کے لیے تجارت اور کارو بار کرنا اصل اور قاعدے کے اعتبار سے حلال ہے، کیونکہ یہ اس آیت کے عموم سے ثابت ہے:
«وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا» ا [لبقرة 275]
”حالانکہ اللہ نے بیع کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا۔“
نیز مندرجہ ذیل حدیث کے عموم سے بھی اس کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سی کمائی پاکیزہ تر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”آدمی کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور ہر بیع مبرور (جو احکام شریعت کے مطابق ہو)“ [مسند أحمد 141/4 الصحيحة، رقم الحديث 607]
اس کے جواز کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اسلام کے ابتدائی زمانے میں عورتیں باوقار اور با حیا انداز میں زیب و زینت کا اظہار کیے بغیر خرید و فروخت کیا کرتی تھیں۔ لیکن جب عورت کا تجارت کرنا اس زیب و زینت کے اظہار کا سبب بنے جو حرام ہے، جیسے: چہرہ کھلا رکھنا، محر م کے بغیر سفر کرنا یا غیر مردوں سے اس انداز میں میل جول رکھنا کہ کسی فتنے میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہو تو پھر اس کے لیے تجارتی معاملات اور لین دین میں شمولیت اختیار کرناجائز نہیں، بلکہ اس کو منع کرنا واجب ہے، کیونکہ وہ محض مباح اور جائز کام کے حصول کے لیے حرام عمل کا ارتکاب کر رہی ہے۔
[اللجنة الدائمة: 2761]
——————

3- لین دین کرتے وقت لکھنے کا حکم
اگر ادھار خرید و فروخت کی جائے، جسے ادا کرنا ایک مقررہ مدت تک کسی کے ذمے واجب الادا ہو، تو اللہ تعالیٰ نے اسے لکھنے اور اس پر گواہ مقرر کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ بھول اور نسیان کا سدباب ہو سکے۔
سورۃ بقرہ کے آخر میں آیت دین میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
«وَلَا تَسْأَمُوا أَن تَكْتُبُوهُ صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا إِلَىٰ أَجَلِهِ ۚ ذَٰلِكُمْ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ وَأَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَأَدْنَىٰ أَلَّا تَرْتَابُوا» [البقرة: 282]
اور اس سے مت اکتاؤ وہ چھوٹا (معاملہ) ہو یا بڑا کہ اسے اس کی مدت تک لکھو، یہ کام اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف والا اور شہادت کو زیادہ درست رکھنے والا ہے اور قریب ہے کہ تم شک میں نہ پڑو۔“
یعنی گواہی لکھ لینا عدل کے زیادہ قریب، زیادہ محفوظ و مضبوط، زیادہ درست اور شک و شبہے سے بہت دور ہے۔ جب ضرورت پیش آئے تو ’’ لکھا ہو“ کاغذر پیش کر دیں جس میں ہر چیز لکھی ہوئی ملے گی، لہٰذا لکھنا حقیقت میں حقوق کو محفوظ کرنا ہے۔
رہا سوال نقد لین دین کا جسے لوگ فورا نپٹا دیتے ہیں، جس میں کوئی قرض ہوتا ہے نہ کوئی مقررہ مدت تو اسے نہ لکھنے میں کوئی حرج نہیں، مثلاً کسی نے گاڑی خریدی، موقع پر اس کی قیمت ادا کی اور چل دیا، کوئی عبایا (برقعہ) خریدی، اس کے پیسے ادا کیے، اور چلا گیا، یا کوئی برتن خریدا، اس کے پیسے ادا کیے اور چلتا بناء تو ان تمام صورتوں میں لکھنے کی کوئی ضرورت نہیں، لیکن جو لین دین واجب الادا ہو، اسے لکھنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ بھول نہ جائیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
«يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوهُ وَلْيَكْتُب بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ» [البقرة: 282]
”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب آپس میں ایک مقرر مدت تک قرض کا لین دین کرو تو اسے لکھ لو اور ایک لکھنے والا تمہارے درمیان انصاف کے ساتھ لکھے۔“
کیونکہ لکھنے سے حقوق محفوظ ہو جاتے ہیں۔ [ابن باز: مجموع الفتاوى و المقالات: 34/19]
——————

4- آدمی کا اپنی اولاد میں سے کسی کے ہاتھ کوئی چیز فروخت کرنا
آدمی کے لیے اپنے مال میں سے کوئی چیز اپنی اولاد میں سے کسی کے ہاتھ فروخت کرنا جائز ہے، جب وہ خریداری پر قادر ہو، وہ اس کے ساتھ اس طرح پیش آئے جس طرح غیر معروف خریدار کے ساتھ پیش آتا ہے اور اس معاملے میں اس کے ساتھ جانبداری کا اظہار نہ کرے، جس میں اس کے دیگر بھائیوں پر اس کو ترجیح دینے کا کوئی پہلو ظاہر ہو۔
[اللجنة الدائمة: 4153]
——————

5- مسلمانوں کے درمیان خرید و فروخت
اصلا ہر مسلمان کے لیے ہر ضرورت کی چیز، جو اللہ تعالیٰ نے حلال کی ہو مسلمان یا کافر سے خریدنا جائز ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یہودیوں سے خریداری کی ہے۔
لیکن اگر ایک مسلمان اپنے مسلمان بھائی سے دھوکا دہی، مہنگائی یا خرابی سامان جیسے کسی بھی سبب کے بغیر پہلو تہی کرتے ہوئے کافر سے خریدنا پسند کرے اور کسی عذر کے بغیر اس کو مسلمان پر ترجیح دے تو یہ حرام ہے، کیونکہ اس میں کفار کے ساتھ دوستی، محبت اور ان سے راضی رہنے کا پہلو ظاہر ہوتا ہے، اور اگر ایک مسلمان یہ اپنی عادت بنالے تو یہ رویہ مسلمان تاجروں کو نقصان پہنچانے اور ان کے کاروبار ٹھپ کرنے کا ایک ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
لیکن اگر اس پہلو تہی کے اسباب ہوں جس طرح سطور بالا میں ذکر ہوا ہے تو پھر اس کو چاہیے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو نصیحت کرے کہ وہ یہ تمام عیو ب چھوڑ دے۔ اگر تو وہ نصیحت پکڑ لے تو بہت خوب اور کلمہ شکر ادا کرے، وگرنہ اس کو چھوڑ کر کسی دوسرے سے خرید لے، چاہے وہ کافر ہی ہو، اگر وہ معاملات میں سچائی اور فوائد و منافع کا احسن انداز میں تبادلہ کرنے والا ہو۔
[اللجنة الدائمة: 3233]
——————

6- بازار میں داخل ہونے کی دعا کے متعلق حدیث
بازار میں داخل ہونے کی دعا کے متعلق حدیث ضعیف ہے، یہ حدیث اس طرح ہے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو شخص بازار میں داخل ہو اور پڑھے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، يحيي ويميت وهو حي لا يموت، بيده الخير، وهو على كل شيء قدير»
”اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھ دیتے ہیں، اس کی دس لاکھ برائیاں مٹا دیتے ہیں اور اس کے لیے دس لاکھ درجے بلند کر دیتے ہیں۔“ [سنن الترمذي، رقم الحديث 3428]
یہ حدیث نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت نہیں۔ اس کو امام حاکم نے مستدرک میں روایت کیا ہے۔ حفاظ حدیث کی ایک جماعت نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ یہ
حدیث معلول (علت والی) اور ضعیف ہے۔
ان حفاظ میں امام ابن قیم رحمہ اللہ بھی شامل ہیں، ان سے امام عجلونی نے ”کشف الخفاء“ میں نقل کیا ہے، کیونکہ اس کی سند میں عمرو بن دینار مولی آل زبیر ہے، جو ضعیف ہے، اس کے ساتھ ساتھ اس کا متن بھی منکر ہے۔
[اللجنة الدائمة: 16103]
——————

خرید و فروخت میں شرطیں
خرید و فروخت میں شرط سے مراد ہے کہ ایک فریق کا دوسرے فریق کو معاہدہ بیع کی وجہ سے کسی ایسی چیز کا پابند کرنا جو عقد کا تقاضانہیں، عقد کا تقاضا تو صرف یہ ہے کہ سامان خریدار کی ملکیت ہو جاتا ہے اور قیمت فروخت کرنے والے کی ملکیت اور عقد مکمل ہونے کے بعد ایک فریق رقم دینے کا پابند ہوتا ہے اور دوسرا سامان مہیا کرنے کا۔
——————

7- رضا مندی کے بغیر لین دین
رضا مندی کے بغیر لین دین کرناجائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
«يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ ۚ وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا» [النساء: 29]
”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنے مال آپس میں باطل طریقے سے نہ کھاؤ، مگر یہ کہ تمھاری آپس کی رضا مندی سے تجارت کی کوئی صورت ہو اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر ہمیشہ سے بے حد مہربان ہے۔“
لیکن اگر کسی مال کے ساتھ کسی دوسرے کا کوئی مالی حق وابستہ ہو جو واجب الادا ہو تو اس میں مالک کی رضا مندی ضروری نہیں، جس طرح عدالت کا گروی میں رکھی ہوئی اشیا بیچ دینا۔ [اللجنة الدائمة: 8859]
——————

8- اس عبارت: ”خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں ہو گا“ کا شرعی حکم
اس شرط کے ساتھ سودا بیچنا کہ یہ نہ واپس ہوگا نہ تبدیل، جائز نہیں، کیونکہ یہ شرط صحیح نہیں، اس میں نقصان اور حقیقت چھپانے کا اندیشہ ہے۔ فروخت کرنے والا یہ شرط لگا کر گویا خریدار پر یہ سامان خریدنا لازم کر دیتا ہے چاہے اس میں کوئی عیب ہی ہو۔ اس کا یہ شرط لگانا سامان میں موجود عیب سے اس کو بری نہیں کر سکتا، کیونکہ اگر اس عیب دار سامان میں کوئی عیب ہو تو یہ فروخت کرنے والے کی ذمے داری ہے کہ وہ اس کو صحیح سامان کے ساتھ تبدیل کر دے، یا خریدار کو اس عیب کا ہرجانہ یعنی زر نقصان دے، کیونکہ مکمل قیمت صحیح سامان کے بدلے میں وصول کی جاتی ہے۔ فروخت کرنے والا سامان میں عیب کے ہوتے ہوئے نا جائز قیمت وصول کرتا ہے، نیز شریعت عرفی شرط کو لفظی شرط کے قائم مقام قرار دیتی ہے اور عرفا سامان کا عیب سے پاک ہونا شرط تسلیم کیا جاتا ہے، جس کی بنا پر اگر عیب نکل آئے تو واپس کرنے کا جواز پیدا ہو جاتا ہے، اس طرح عرف کے اعتبار سے سامان کے عیب سے پاک ہونے کی شرط لفظا شرط کے قائم مقام قرار دی گئی ہے۔ [اللجنة الدائمة: 13788]
——————

9- اس شرط کا حکم کہ تاجر یا خریدار یہ شرط لگائے کہ اگر خریدار کو نقصان ہوا تو تاجر خسارے کا عوضانہ ادا کرے گا
جب خریدار یہ شرط لگائے کہ خسارے کا بوجھ اس پر ہیں، یا جب سودا ہو تو یہ شرط عائد کرے کہ جو سامان بک جائے گا اس کے وہ (خریدار) پیسے دے گا اور جو بچ جائے گا اسے واپس کر دے گا یا فروخت کرنے والا یہ شرط لگائے کہ مجھ سے یہ سامان خرید لو اگر تجھے خسارا پہنچا تو میں خسارے کا عوض ادا کر دوں گا۔
یہ اکیلی شرط باطل ہے جبکہ بیع (سودا) درست ہے، کیونکہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
«كل شرط ليس فى كتاب الله فهو باطل وإن كان مائة شرطه» [سنن النسائي، رقم الحديث 3451]
”ہر وہ شرط جو کتاب اللہ میں نہیں، باطل ہے، چاہے وہ سو شرطیں ہی ہوں۔“
نیز اس معاہدے کا یہ تقاضا ہے کہ سامان قیمت ادا کرنے کے بعد خریدنے والے کی طرف منتقل ہو جائے، وہ اس میں آزادانہ تصرف کر سکتا ہے۔ اس کے منافع یا خسارے کا وہ اکیلا ہی مالک ہو۔ مزید برآں اس متوقع ضرر کا دفعیہ کرنا بھی ضروری ہے کہ خریدار اگر اس سامان کی ترویج میں سستی دکھاتے ہوئے اسے خسارے کے ساتھ فروخت کر دے تو وہ خسارہ فروخت کرنے والے
کے کھاتے میں پڑ جاتا ہے کیونکہ فروخت کنندہ کا یہ کہنا: ”اگر سامان میں خسارہ ہوا تو میں خسارہ پورا کر دوں گا“ ایک طرح کی دھوکا دہی ہے جس میں خریدار کو یہ وہم ہو جاتا ہے کہ یہ سودا بکنے والا ہے، اس کی مانگ ہے اور یہ اس قیمت کے برابر ہے۔ [اللجنة الدائمة: 19637]
——————

10- تعزیراتی شرطوں کا حکم
یہ خاص حالات میں جائز ہیں جس طرح ٹھیکیدار کے ساتھ معاہدہ جس میں یہ شرط ہو کہ اگر وہ سامان سونپنے میں تاخیر کرے تو اس کا ٹھیکہ منسوخ ہو جائے گا یا اساتذہ یا ملازمین کے ساتھ معاہدہ کرتے وقت خلاف ورزیوں کی صورت میں کٹوتی وغیرہ کرنے یا معاہدہ ختم کر دینے کی شرط لگانا۔
[عبدالرزاق عفیفى: فتاوي: 212/1]
——————

خرید و فروخت میں اختیار
11- اختیار کے ساتھ ایک مقرر مدت تک بیع کا حکم
اہل علم کا اختیار کے ساتھ ایک مقررہ مدت تک بیع کے جواز میں اختلاف ہے، جب یہ مدت تین دن سے زیادہ ہو۔ ایک گروہ نے اس کی اجازت دی ہے جبکہ دوسروں نے اس سے منع کیا ہے، لیکن صحیح تر موقف کے مطابق یہ جائز ہے، کیونکہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
«المسلمون على شروطهم إلا شرطا حر م حلالا أو أحل حراما» [سنن أبى داود، رقم الحديث 5349]
”مسلمانوں کی شرطوں کا اعتبار کیا جائے گا (یعنی ان پر عمل کرنا ضروری ہوگا) مگر وہ ایسی شرط نہ ہو جو حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر دے۔“
اس کے علاوہ دیگر دلائل بھی ہیں۔ جواز کے قائل تمام علماء کرام نے یہ بات بھی ذکر کی ہے کہ اس میں یہ قید لگائی جائے گی کہ اگر فروخت کرنے والا بیچنے میں رغبت رکھتا ہو اور خریدنے والا خریدنے میں، لیکن اختیار کی شرط صرف اس لیے لگائے کہ سامان میں کوئی شبہ ہے، یا قیمت میں کوئی بات زیر غور ہے یا کوئی اور اچھا مقصد ہو۔
اگر معاہدہ بیع کا مقصد خریدار کا خرید شدہ سامان کی آمدن سے فائدہ اٹھانا ہو اور فروخت کرنے والے کا قیمت سے مستفید ہونا اور دونوں بائع اور مشتری کا ارادہ ہو کہ جب فروخت کرنے والا قیمت واپس کرنے پر قادر ہو جائے گا تو بیع (سودا) فسخ کر دی جائے گی تو یہ جائز نہیں بلکہ سود ہے کیونکہ یہ قرض کے مفہوم میں ہے اور ہر وہ قرض جس میں منافع کی شرط ہو وہ با جماع (با تفاق حرام ہے۔
اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس جیسے معاملے میں خریدار کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ سامان سے فائدہ اٹھائے، تا آنکہ اس کی قیمت اسے واپس مل جائے اور اس مال کا منافع ضائع نہ ہو جائے جو فروخت کنندہ کے قبضے میں ہے۔ ہر وہ حیلہ جس کے ذریعے سود حلال کیا جائے باطل ہے، کیونکہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
«لا ترتكبوا ما ارتكبت اليهود فتستحلوا محارم الله بأدني الحيل» [ضعيف: غاية المرام، رقم الحديث 11]
’’ اس برائی کا ارتکا ب نہ کرو جس کا ارتکا ب یہود نے کیا، مبادا تم چھوٹے چھوٹے حیلوں سے اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیا کو حلال کرنے بیٹھ جاؤ۔“
اس حدیث کو ابو عبد اللہ بن بطہ نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اس کے ہم معنی حدیث بھی صحیحین میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«قاتل الله اليهود لما حرم الله عليهم الشحوم جملوها ثم باعوها فأكلوا ثمنها» [صحيح البخاري، رقم الحديث 2236 صحيح مسلم 1581/71]
”اللہ تعالیٰ یہود کا ستیاناس کرے ! جب اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی حرام کر دی تو انہوں نے اسے پگھلا لیا، پھر اسے بیچ ڈالا اور اس کی قیمت کھا گئے۔“
اہل علم کی ایک جماعت نے اس مسئلے کا واضح الفاظ میں ذکر کیا اور اس کی حر مت بیان کی ہے۔ ان میں شیخ علامہ عبد الرحمن بن ابو عمر حنبلی صاحب ”الشرح الکبیر“ کا نام بھی شامل ہے، ان کی عبارت [80/4] پر ملاحظہ فرمائیں، وہ لکھتے ہیں:
”جب وہ قرض سے فائدہ اٹھانے کی خاطر بطور حیلہ اختیا کی شرط لگائے تاکہ قرض دار کے قیمت سے مستفید ہونے کی مدت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس فروخت شدہ سامان کی آمدن اور منافع حاصل کر سکے، پھر قیمت لوٹانے کے وقت ’’اختیا کی شرط کی وجہ سے سودا واپس کر دے، ایسی صورت میں کوئی اختیار نہیں، کیونکہ یہ حیلہ سازی ہے اور قیمت لینے والے کے لیے اختیار کی مدت میں اس سے فائدہ اٹھانا یا اس میں تصرف کرناجائز نہیں۔“

اثرم کہتے ہیں:
”میں نے ابو عبد اللہ سے سنا، ان سے سوال کیا گیا: ایک آدمی کسی دوسرے آدمی سے کوئی چیز خریدتا ہے جیسے کوئی زمین، اور کہتا ہے: فلاں، فلاں مدت تک مجھے اختیار ہے، اس نے کہا جائز ہے، اگر حیلہ نہ ہو، یعنی: وہ اس کو قرض دینا چاہتا ہے اور نتیجے میں اس سے زمین لے لیتا ہے، پھر اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اس میں شرط خیار عائد کر دیتا ہے تاکہ اس حملے کے ذریعے اس نے جو قرض دیا تھا اس میں نفع کما سکے، اگر اس کا یہ ارادہ نہیں تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں۔“
ابو عبد اللہ سے پوچھا گیا: اگر اس کی خیر خواہی کرتے ہوئے اس نے اس کو مال بطور قرض دینے کا ارادہ کیا اور اسے خدشہ ہوا کہ وہ چلا جائے گا لہٰذا وہ اس سے کچھ خرید لیتا ہے اور شرط اختیار عائد کر دیتا ہے جبکہ اس نے اختیار کی شرط عائد کر دی، اس کا حیلہ سازی کا کوئی ارادہ نہیں؟ تو انہوں نے کہا: یہ جائز ہے، البتہ یہ ہے کہ اگر وہ مر گیا تو اختیار منقطع ہو جائے گا، اس کے ورثا کے لیے نہیں ہوگا۔
”س مسئلے میں امام احمد کے جواز کا قول اس سودے پر محمول ہوگا جس سے فائدہ نہ اٹھایا جائے، الا یہ کہ وہ تلف ہو جائے، یا اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ خریدار اختیار کی مدت میں سامان سے فائدہ نہ اٹھائے تاکہ یہ اس قرض کی طرف نہ لے جائے جو منافع کماتا ہے۔“
اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ بیع اگر قرض کے مقصد اور ارادے سے خالی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ یہاں ابو عبد اللہ سے ان کی مراد امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ ہیں۔
حیلہ سازی کی ایک یہ علامت ہے کہ وہ اس کو زمین یا کوئی بھی چیز اس کی اس قیمت سے کم پر فروخت کر دے، جس قیمت میں اسے بیچا جاتا ہے، اگر حقیقت میں بیع مقصود ہوتی تو کیا اس طرح ہوتا ہے کہ آدمی جو چیز سو کی ہے اسے پچاس میں بیچ دے؟ اس نے یہ کام اس وجہ سے کیا ہے کہ اس کو یقین ہے کہ یہ بیع نہیں بلکہ بیع کی صورت میں قرض ہے۔ واللہ اعلم
[ابن باز: مجموع الفتاوي و المقالات: 125/19]
——————

12- عیب دار چیز کا عیب بیان کیے بغیر بیچنا
عیب دار چیز کا عیب بیان کیے بغیر بیچناجائز نہیں، کیونکہ یہ اس دھوکے اور خیانت کی ایک صورت ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«من غش فليس منا» [صحيح مسلم 102/164]
”جس نے دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔“
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«البيعان بالخيار مالم يتفرقا، فإن صدقا، و بينا بورك لهما فى بيعهما، وإن كتما و كذبا محقت بركة بيعهما» [صحيح البخاري، رقم الحديث 2079 صحيح مسلم 1532/47]
”وہ بیع کرنے والوں کو اس وقت تک اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدانہ ہو جائیں، اگر وہ سچ بولیں اور بیان کر دیں تو ان دونوں کی بیع مبارک ہو گی اور اگر انہوں نے چھپایا اور جھوٹ بولا تو ان دونوں کی بیع برکت سے محروم ہو جائے گی۔“
لہٰذا جس نے دھوکا دیا اور عیب دار چیز صحیح چیز کی قیمت میں بیچ دی، اسے اپنے فعل پر شرمندہ ہونا چاہیے، آئندہ ایسا نہ کرنے کا ارادہ رکھنا چاہیے، اسے تو بہ کرنی چاہیے، اور اس دھوکے دہی کو حلال نہیں سمجھنا چاہیے۔ لہٰذا اس کا جو حق بنتا ہے، اسے لوٹانے کے لیے اس کے ساتھ مصالحت کرے۔
[اللجنة الدائمة: 4708]
——————

13- حد سے زیادہ منافع خوری کی مقدار
اس میں علما کا اختلاف ہے کسی کا قول ہے: ”تیسرا حصہ“ درست ہے۔ کسی کا قول ہے اس سے کم، لیکن اس مسئلے میں جو بہترین بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جسے لوگ اپنے عرف میں غبن شمار کرتے ہیں یعنی غیر معمولی نفع خوری، جسے خرید و فروخت کرنے والے اس اعتبار سے غبن سمجھیں کہ وہ خریدار کے لیے نقصان رساں ہے۔
[ابن باز: مجموع الفتاوي و المقالات: 128/19]
——————

14- چو پائے کے امید سے ہونے کی شرط پر فروخت کا حکم
اس شرط کا صحیح ہونا مخفی نہیں کہ فروخت شدہ گائے حاملہ ہونی چاہیے لیکن فلاں فلاں مہینے میں اس کے جنم دینے کی شرط درست نہیں تاہم یہ شرط عقد باطل نہیں کرتی، اگر پیدائش، اس گائے کے وضع حمل کی معروف عادت اور مہینے کی نسبت بہت زیادہ تاخیر سے ہو تو خریدار کو اختیار ہوگا کہ وہ اس کو بر قرار رکھے اور اس مخصوص صفت کے نہ ہونے کی وجہ سے زر نقصان لے لے یا یہ سودا ختم کر دے۔ یہاں یہ فقہی قاعدہ ہے کہ بیان کردہ صفت کانہ پایا جانا عیب کے قائمقام ہے۔
البتہ خریدار گائے کو جو چارہ ڈالتا رہا ہے اس کی قیمت، اگر وہ سودا واپس کرنا چاہتا ہے، تو اس کے مال سے ادا ہوگی اور یہ ایک معروف بات ہے کہ یہ گائے اگر اس مدت میں مر جاتی تو یہ خریدار کے ذمے ہوگی کیونکہ وہ عقد درست ہے جو ملکیت کے ثبوت کا تقاضا کرتا ہے۔
خریدار اس بات کو قبول کرے گا کہ سامان میں اس کا تصرف اس وجہ سے نہیں تھا کہ وہ اس کے عیب پر راضی ہے بلکہ اس وجہ سے تھا کہ وہ اس کو زر نقصان کے ساتھ روکے ہوئے ہے اور اس پر قسم کھانے کو بھی تیار ہے، چاہے اس کے لیے اس پر گواہی قائم کرنا ممکن تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا، یا اس کے لیے یہ ممکن ہی نہیں تھا، ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔
[عبدالله بن عقيل: فتاوي: 278]
——————

خرید و فروخت کی بعض اقسام
15- پھل پکنے سے پہلے پیدا وار کی خرید و فروخت کا حکم
یہ حرام ہے، زرعی پیداوار کی خرید و فروخت اس وقت تک جائز نہیں جب تک اس کی نشوونما مکمل نہ ہو جائے، لیکن اگر وہ دانوں کی صورت میں ہو تو مکمل پل جائیں اور اگر انگور وغیرہ کی طرح کوئی پھل ہو تو اچھی طرح پختہ ہو جائے اور کھانے کے صحیح قابل ہو جائے لیکن اس سے پہلے پیداوار کی بیع حرام ہے۔
جہاں تک اس چیز کی بیع کا تعلق ہے جسے اس وقت کاٹ لیا جاتا ہے جب اس کی کٹائی کا وقت آجاتا ہے تو اس کی بیع جائز ہو جاتی ہے، مثلاً کوئی گھاس یا فصل جو بطور چارہ استعمال ہوتی ہو یا چارے کے کھیت جب ان کی کٹائی کا وقت آجائے تو تب ان کی خرید و فروخت میں کوئی ممانعت نہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تک غلہ پک نہ جائے، یا پھل کا پکنا ظاہر نہ ہو جائے تب تک اس کی خرید و فروخت ممنوع قرار دی ہے۔ اس کی وجہ سے تنازعات مٹ جاتے ہیں، جھگڑوں کے امکانات دور ہو جاتے ہیں اور خریدار جب اس کو خریدتا ہے تو اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے لیکن اگر پھل پکنے سے پہلے ہی بیچ دیا جائے تو اس پر
کوئی آفت بھی آسکتی ہے جس کی وجہ سے کئی تنازعات، جھگڑے اور مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں۔
شریعت نے اسی حکمت کے پیش نظر ہر ایسی خرید و فروخت ممنوع قرار دی ہے جو تنازعات، جھگڑوں اور دشمنی کا باعث ہوتی ہو، کیونکہ ہر وہ چیز جو تنازعات کا سبب ہو وہ اہل ایمان کے درمیان بغض اور افتراق پیدا کرتی ہے جو کمال ایمان کے منافی ہے۔
[ابن عثيمين: نور على الدرب: 229/3]

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
لنکڈان
ٹیلی گرام
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
پرنٹ کریں
ای میل