ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ يس (36) — آیت 36

سُبۡحٰنَ الَّذِیۡ خَلَقَ الۡاَزۡوَاجَ کُلَّہَا مِمَّا تُنۡۢبِتُ الۡاَرۡضُ وَ مِنۡ اَنۡفُسِہِمۡ وَ مِمَّا لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۶﴾
پاک ہے وہ جس نے سب کے سب جوڑے پیدا کیے ان چیزوں سے جنھیں زمین اگاتی ہے اور خود ان سے اور ان چیزوں سے جنھیں وہ نہیں جانتے۔ En
وہ خدا پاک ہے جس نے زمین کی نباتات کے اور خود ان کے اور جن چیزوں کی ان کو خبر نہیں سب کے جوڑے بنائے
En
وه پاک ذات ہے جس نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کیے خواه وه زمین کی اگائی ہوئی چیزیں ہوں، خواه خود ان کے نفوس ہوں خواه وه (چیزیں) ہوں جنہیں یہ جانتے بھی نہیں En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

36۔ 1 یعنی انسانوں کی طرح زمین کی ہر پیداوار میں بھی ہم نے نر مادہ دونوں پیدا کئے۔ علاوہ ازیں آسمانوں میں اور زمین کی گہرائیوں میں بھی جو چیزیں تم سے غائب ہیں، جن کا علم تم نہیں رکھتے، ان میں زوجیت (نر اور مادہ) کا یہ نظام ہم نے رکھا ہے۔ پس تمام مخلوق جوڑا جوڑا ہے، نباتات بھی نر اور مادے کا یہی نظام ہے۔ حتٰی کہ آخرت کی زندگی، دنیا کی زندگی کے لئے بمنزلہ زوج ہے اور یہ حیات آخرت کے لئے ایک عقلی دلیل بھی ہے۔ صرف ایک اللہ کی ذات ہے جو مخلوق کی صفت سے اور دیگر تمام کوتاہیوں سے پاک ہے۔ وہ (فرد) ہے، زوج نہیں۔