ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 154

ثُمَّ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ تَمَامًا عَلَی الَّذِیۡۤ اَحۡسَنَ وَ تَفۡصِیۡلًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ وَّ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃً لَّعَلَّہُمۡ بِلِقَآءِ رَبِّہِمۡ یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۵۴﴾٪
پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اس شخص پر (نعمت) پوری کرنے کے لیے جس نے نیکی کی اور ہر چیز کی تفصیل اور ہدایت اور رحمت کے لیے، تاکہ وہ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لے آئیں۔ En
(ہاں) پھر (سن لو کہ) ہم نے موسیؑ کو کتاب عنایت کی تھی تاکہ ان لوگوں پر جو نیکوکار ہیں نعمت پوری کر دیں اور (اس میں) ہر چیز کا بیان (ہے) اور ہدایت (ہے) اور رحمت ہے تاکہ (ان کی امت کے) لوگ اپنے پروردگار کے رُوبرو حاضر ہونے کا یقین کریں
En
پھر ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی جس سے اچھی طرح عمل کرنے والوں پر نعمت پوری ہو اور سب احکام کی تفصیل ہوجائے اور رہنمائی ہو اور رحمت ہو تاکہ وه لوگ اپنے رب کے ملنے پر یقین ﻻئیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 154) ➊ { ثُمَّ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ:} پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی میں پھر کا لفظ زمانے کی ترتیب کے لیے نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کو کتاب بعد میں ملی، بلکہ بعد میں ذکر کی وجہ سے ہے، اسے ترتیب ذکری کہتے ہیں، مثلاً دیکھیے سورۂ بلد کی آیت (۱۷)۔ متعدد مقامات پر اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید اور تورات کا ذکر اکٹھا کیا ہے۔ (ابن کثیر)
➋ {تَمَامًا عَلَى الَّذِيْۤ اَحْسَنَ ……: تَمَامًا } یہاں { اِتْمَامًا } (پورا کرنے) کے معنی میں ہے، یعنی ہم نے تورات ہر اس شخص پر نعمت پوری کرنے کے لیے جو نیکی کرے اور ہر چیز کی تفصیل، رہنمائی اور رحمت کے لیے نازل فرمائی اور اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ یعنی بنی اسرائیل اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لے آئیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

154۔ 1 قرآن کریم کا یہ اسلوب ہے جو متعدد جگہ دہرایا کہ جہاں قرآن کا ذکر ہوتا ہے وہاں تورات کا اور جہاں تورات کا ذکر ہو وہاں قرآن کا بھی ذکر کردیا جاتا ہے۔ اس کی متعدد مثالیں حافظ ابن کثیر نے نقل کی ہیں۔ اسی اسلوب کے مطابق یہاں تورات کا اور اس کے وصف کا بیان ہے کہ وہ بھی اپنے دور کی ایک جامع کتاب تھی جس میں ان کی دینی ضروریات کی تمام باتیں تفصیل سے بیان کی گئی تھیں اور وہ ہدایت اور رحمت کا باعث تھی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

154۔ پھر ہم نے موسیٰ کو ایسی کتاب دی جو نیک روش اختیار کرنے والے کے لیے مکمل تھی اور اس میں ہر (ضروری) بات کی تفصیل [176۔ 1] بھی تھی اور یہ کتاب ہدایت اور رحمت بھی تھی (اور اس لیے دی تھی) کہ شاید وہ لوگ اپنے پروردگار سے ملاقات [177] پر ایمان لائیں
[176۔ 1] اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آج کل بائیبل میں جو عہد نامہ عتیق پایا جاتا ہے اور جسے تورات سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ وہ تورات نہیں جو موسیٰؑ پر نازل کی گئی تھی۔ کیونکہ وہ تورات تو دو بار گم ہوئی اور از سر نو لکھی جاتی رہی پھر اس میں الحاقی مضامین شامل ہوئے اور تحریف بھی ہوئی۔ اور جو تورات موسیٰؑ پر نازل ہوئی تھی اس میں نیک لوگوں کی ہدایت کے لیے کوئی کسر نہیں رہ گئی تھی۔ اخلاقی، تمدنی، معاشرتی اور معاشی احکام کے ہر لحاظ سے مکمل تھی اور اس کی نمایاں خوبی یہ تھی کہ اس سے آخرت پر ایمان پختہ ہوتا تھا۔
[177] آخرت پر ایمان رکنے اور نہ رکھنے اور نہ رکھنے والے کی زندگی کا تقابل:۔
پروردگار سے ملاقات سے مراد اللہ کے حضور اعمال کی جواب دہی کا تصور ہے۔ یہی وہ تصور ہے جو انسان کی زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔ ایک آخرت پر ایمان نہ رکھنے والے انسان کی زندگی نہایت آزادانہ، غیر ذمہ دار بلکہ وحشیانہ قسم کی بھی ہو سکتی ہے۔ یہ آخرت کی عند اللہ مسؤلیت ہی کا تصور ہے جو انسان کو اوامر الٰہی کی اطاعت اور نواہی سے اجتناب کا پابند بناتا اور دنیا میں انتہائی محتاط ذمہ دارانہ زندگی گزارنے کا پابند بناتا ہے یعنی بنی اسرائیل کو یہ کتاب اس لیے دی گئی تھی کہ اس کتاب کی حکیمانہ تعلیمات سے ان میں ذمہ داری کا احساس پیدا ہو اور آخرت پر ایمان رکھنے والے اور نہ رکھنے والے کی زندگیوں کا مشاہدہ انہیں انکار سے ایمان کی طرف کھینچ لائے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

جنوں نے قرآن حکیم سنا ٭٭
امام ابن جریر نے تو لفظ «ثُمَّ» کو ترتیب کے لیے مانا ہے یعنی ان سے یہ بھی کہہ دے اور ہماری طرف سے یہ خبر بھی پہنچا دے، لیکن میں کہتا ہوں «ثُمَّ» کو ترتیب کیلئے مان کر خبر کا خبر پر عطف کر دیں تو کیا حرج؟ ایسا ہوتا ہے اور شعروں میں موجود ہے چونکہ قرآن کریم کی مدح آیت «وَأَنَّ هَـٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا» ۱؎ [6-الأنعام:153]‏‏‏‏ میں گزری تھی اس لیے اس پر عطف ڈال کر توراۃ کی مدح بیان کر دی۔ جیسے کہ اور بھی بہت سی آیتوں میں ہے -
چنانچہ فرمان ہے آیت «وَمِن قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسَىٰ إِمَامًا وَرَحْمَةً وَهَـٰذَا كِتَابٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِيًّا» ۱؎ [46-الأحقاف:12]‏‏‏‏ یعنی ’ اس سے پہلے توراۃ امام رحمت تھی اور اب یہ قرآن عربی تصدیق کرنے والا ہے ‘۔ اسی سورت کے اول میں ہے آیت «قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِيْ جَاءَ بِهٖ مُوْسٰي نُوْرًا وَّهُدًى لِّلنَّاسِ» ۱؎ [6-الأنعام:91]‏‏‏‏، اس آیت میں بھی تورات کے بیان کے بعد «وَهَـٰذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ» ۱؎ [6-الانعام:92]‏‏‏‏ اس قرآن کے نزول کا بیان ہے۔
کافروں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے آیت «فَلَمَّا جَاءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِندِنَا قَالُوا لَوْلَا أُوتِيَ مِثْلَ مَا أُوتِيَ مُوسَىٰ» ۱؎ [28-القصص:48]‏‏‏‏، ’ جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آ پہنچا تو کہنے لگے اسے اس جیسا کیوں نہ ملا جو موسیٰ علیہ السلام کو ملا تھا ‘، جس کے جواب میں فرمایا گیا «أَوَلَمْ يَكْفُرُوا بِمَا أُوتِيَ مُوسَىٰ مِن قَبْلُ قَالُوا سِحْرَانِ تَظَاهَرَا وَقَالُوا إِنَّا بِكُلٍّ كَافِرُونَ» ۱؎ [28-القصص:48]‏‏‏‏ ’ کیا انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کی اس کتاب کے ساتھ کفر نہیں کیا تھا؟ کیا صاف طور سے نہیں کہا تھا کہ یہ دونوں جادوگر ہیں اور ہم تو ہر ایک کے منکر ہیں ‘۔
جنوں کا قول بیان ہوا ہے کہ «قَالُوا يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَابًا أُنزِلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَإِلَىٰ طَرِيقٍ مُّسْتَقِيمٍ» ۱؎ [46-الأحقاف:30]‏‏‏‏ ’ انہوں نے اپنی قوم سے کہا ہم نے وہ کتاب سنی ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد اتری ہے جو اپنے سے اگلی کتابوں کو سچا کہتی ہیں اور راہ حق کی ہدایت کرتی ہیں ‘۔ «وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِن كُلِّ شَيْءٍ» ۱؎ [7-الأعراف:145]‏‏‏‏ ’ وہ کتاب جامع اور کامل تھی ‘۔
شریعت کی جن باتوں کی اس وقت ضرورت تھی سب اس میں موجود تھیں یہ احسان تھا نیک کاروں کی نیکیوں کے بدلے کا۔ جیسے فرمان ہے ’ احسان کا بدلہ احسان ہی ہے ‘۔
اور جیسے فرمان ہے کہ «وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ» [32-السجدہ:24]‏‏‏‏ ’ بنی اسرائیلیوں کو ہم نے ان کا امام بنا دیا جبکہ انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیتوں پر یقین رکھا ‘۔ غرض یہ بھی اللہ کا فضل تھا اور «هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ» ۱؎ [55-الرحمن:60]‏‏‏‏ ’ نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں ہے ‘۔
احسان کرنے والوں پر اللہ بھی احسان پورا کرتا ہے یہاں اور وہاں بھی۔ امام ابن جریر «الَّذِي» کو مصدریہ مانتے ہیں جیسے آیت «وَخُضْتُمْ كَالَّذِي خَاضُوا» ۱؎ [9-التوبة:69]‏‏‏‏ میں۔
ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کا شعر ہے «وَثَبَّتَ اللَّه مَا آتَاك مِنْ حُسْن» «فِي الْمُرْسَلِينَ وَنَصْرًا كَاَلَّذِي نُصِرُوا» اللہ تیری اچھائیاں بڑھائے اور اگلے نبیوں کی طرح تیری بھی مدد فرمائے۔
بعض کہتے ہیں یہاں «الَّذِي» معنی میں «الَّذِينَ» کا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت «تَمَامًا عَلَى الَّذِينَ أَحْسَنُوا» ہے۔
پس مومنوں اور نیک لوگوں پر اللہ کا یہ احسان ہے اور پورا احسان ہے۔ بغوی رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد اس سے انبیاء علیہم السلام اور عام مومن ہیں۔ یعنی ان سب پر ہم نے اس کی فضیلت ظاہر کی۔ جیسے فرمان ہے آیت «قَالَ يٰمُوْسٰٓي اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ» ۱؎ [7-الأعراف:144]‏‏‏‏، یعنی ’ اے موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) میں نے اپنی رسالت اور اپنے کلام سے تجھے لوگوں پر بزرگی عطا فرمائی ‘۔
ہاں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی اس بزرگی سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو خاتم الانبیاء ہیں اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام جو خلیل اللہ ہیں مستثنیٰ ہیں بہ سبب ان دلائل کے جو وارد ہو چکے ہیں۔ یحییٰ بن یعمر «أَحْسَنُ هُوَ» کو مخذوف مان کر «أَحْسَنُ» پڑھتے تھے، ہو سکتا ہے؟ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اس قرأت کو جائز نہیں رکھوں گا اگرچہ عربیت کی بنا پر اس میں نقصان نہیں۔
آیت کے اس جملے کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام پر احسان رب کو تمام کرنے کیلئے یہ اللہ کی کتاب ان پر نازل ہوئی، ان دونوں کے مطلب میں کوئی تفاوت نہیں۔
پھر تورات کی تعریف بیان فرمائی کہ اس میں ہر حکم بہ تفصیل ہے اور وہ ہدایت و رحمت ہے تاکہ لوگ قیامت کے دن اپنے رب سے ملنے کا یقین کر لیں۔
پھر قرآن کریم کی اتباع کی رغبت دلاتا ہے اس میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اور اس پر عمل کرنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اس کی طرف لوگوں کو بلانے کا حکم دیتا ہے برکت سے اس کا وصف بیان فرماتا ہے کہ جو بھی اس پر کار بند ہو جائے وہ دونوں جہان کی برکتیں حاصل کرے گا اس لیے کہ یہ اللہ کی طرف مضبوط رسی ہے۔