ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانعام (6) — آیت 153

وَ اَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیۡ مُسۡتَقِیۡمًا فَاتَّبِعُوۡہُ ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمۡ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ؕ ذٰلِکُمۡ وَصّٰکُمۡ بِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿۱۵۳﴾
اور یہ کہ یہی میرا راستہ ہے سیدھا، پس اس پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تمھیں اس کے راستے سے جدا کر دیں گے۔ یہ ہے جس کا تاکیدی حکم اس نے تمھیں دیا ہے، تاکہ تم بچ جاؤ۔ En
اور یہ کہ میرا سیدھا رستہ یہی ہے تو تم اسی پر چلنا اور اور رستوں پر نہ چلنا کہ (ان پر چل کر) خدا کے رستے سے الگ ہو جاؤ گے ان باتوں کا خدا تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم پرہیزگار بنو
En
اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے جو مستقیم ہے سو اس راه پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وه راہیں تم کو اللہ کی راه سے جدا کردیں گی۔ اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 153) ➊ {وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِيْمًا ……:} یعنی اﷲ تعالیٰ کی راہ ایک ہی ہے اور وہی سیدھی اور جنت تک پہنچانے والی ہے، مگر شیطان نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے اس کے اردگرد بہت سی راہیں بنا ڈالی ہیں۔ عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے ایک لکیر کھینچی، اور فرمایا: یہ اﷲ تعالیٰ کا سیدھا راستہ ہے۔ پھر اس کے دائیں بائیں کئی لکیریں کھینچیں اور فرمایا: یہ الگ الگ راستے ہیں، ان میں سے ہر راہ پر ایک شیطان بیٹھا ہے جو لوگوں کو اپنی طرف بلاتا ہے۔ اس کے بعد آپ نے سیدھی راہ پر ہاتھ رکھا اور یہ آیت تلاوت فرمائی۔ [أحمد: 465/1، ح: ۴۴۳۶۔ مستدرک حاکم: 318/2، ح: ۳۲۴۱]
تمام دینوں میں سے صراط مستقیم صرف اسلام ہے، باقی سب باطل ہیں، اس آیت میں جس طرح تمام باطل دینوں سے منع فرمایا گیا ہے اسی طرح اسلام میں بھی فرقے بنانے سے روک دیا گیا ہے۔ اسلام میں سیدھی راہ صرف کتاب و سنت کی راہ ہے، جس پر وہ پہلے تین زمانے گزرے ہیں جنھیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیر الناس قرار دیا ہے۔ [بخاری، فضائل أصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، باب فضائل أصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ۳۶۵۱] اس کے سوا سب راستے ممنوع ٹھہرے، خواہ وہ مذاہب اربعہ کی تقلید ہو یا اہل بدعت کے بنائے ہوئے اور طریقے ہوں، کیونکہ یہ شروع ہی بعد میں ہوئے ہیں۔ پرانی اور نئی ہر قسم کی بدعات گمراہ کن ہیں، خود ائمۂ دین اور سارے مجتہدینِ سلف و خلف نے یہی وصیت کی ہے کہ کوئی ان کی تقلید نہ کرے، بلکہ سب کے سب کتاب و سنت کی اتباع کریں، یہی صراط مستقیم ہے جس کی طرف اﷲ تعالیٰ نے دعوت دی ہے۔
➋ {لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ:} تاکہ تم اﷲ کی نافرمانی، اس کے عذاب اور جہنم سے بچ جاؤ، کیونکہ مختلف راستوں سے بچ کر اس کے سیدھے راستے پر چلنے کے سوا بچنے کی کوئی صورت نہیں، اس لیے تقویٰ کی راہ یہی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

153۔ 1 ھَذَا (یہ) سے مراد قرآن مجید یا دین اسلام یا وہ احکام ہیں جو بطور خاص اس سورت میں بیان کئے گئے ہیں اور وہ ہیں توحید، معاد اور رسالت اور یہی اسلام کے ثلاثہ ہیں جن کے گرد پورا دین گھومتا ہے، اس لئے جو مراد لیا جائے مفہوم سب کا ایک ہے۔ 153۔ 2 صراط مستقیم کو واحد کے صیغے سے بیان فرمایا ہے کیونکہ اللہ کی، یا قرآن کی، یارسول اللہ کی راہ ایک ہے ایک سے زیادہ نہیں۔ اس لئے پیروی صرف اس ایک راہ کی کرنی ہے کسی اور کی نہیں، یہی ملت مسلمہ کی وحدت و اجماع کی بنیاد ہے جس سے بہت ہٹ کر یہ امت مختلف فرقوں اور گروہوں میں بٹ گئی ہے، حالانکہ اس کی تاکید کی گئی ہے کہ دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کردیں گی۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا دین کو قائم رکھو اور اس میں پھوٹ نہ ڈالو گویا اختلاف اور تفرقہ کی قطعا اجازت نہیں ہے۔ اسی بات کو حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح واضح فرمایا کہ آپ نے اپنے ہاتھ سے ایک خط کھینچا اور فرمایا کہ یہ اللہ کا سیدھا راستہ ہے۔ اور چند خطوط اس کی دائیں اور بائیں طرف کھینچے اور فرمایا یہ راستے ہیں جن پر شیطان بیٹھا ہوا ہے اور وہ ان کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت فرمائی جو زیر وضاحت ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

153۔ اور بلا شبہ یہی میری سیدھی راہ ہے لہذا اسی پر چلتے جاؤ اور دوسری راہوں پر نہ چلو ورنہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے ہٹا کر جدا جدا [176] کر دیں گی اللہ نے تمہیں انہی باتوں کا حکم دیا ہے شاید کہ تم (کجروی سے) بچ جاؤ
[176] سیدھی راہ اور غلط راہیں:۔
ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سیدھی لکیر کھینچی۔ پھر اس لکیر کے دائیں بائیں بہت سی لکیریں کھینچ دیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ یہ سیدھی لکیر تو اللہ تعالیٰ کی راہ ہے اور دائیں اور بائیں جتنی لکیریں ہیں یہ شیطان کی راہیں ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھی [نسائي بحواله مشكوٰة۔ كتاب الاعتصام الفصل الثاني] یعنی سیدھی راہ سے بھٹکتے ہی ادھر ادھر بے شمار پگڈنڈیاں سامنے آجاتی ہیں۔ اللہ کی راہ چھوڑنے کے بعد کوئی ایک پگڈنڈی پر جا پڑتا ہے کوئی دوسری پر اور کوئی تیسری پر۔ اس طرح پوری نوع انسانی بھٹک کر پراگندہ ہو جاتی ہے اور نوع انسانی کے ارتقاء کا خواب بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہونے پاتا۔ اسی حقیقت کو اس فقرے میں بیان کیا گیا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

شیطانی راہیں فرقہ سازی ٭٭
یہ اور ان جیسی آیتوں کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو باہم اعتماد کا حکم دیتا ہے اور اختلاف و فرقہ بندی سے روکتا ہے اس لیے کہ اگلے لوگ اللہ کے دین میں پھوٹ ڈالنے ہی سے تباہ ہوئے تھے۔‏‏‏‏
مسند میں ہے کہ { اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سیدھی لکیر کھینچی اور فرمایا: { اللہ کی سیدھی راہ یہی ہے } پھر اس کے دائیں بائیں اور لکیریں کھینچ کر فرمایا: { ان تمام راہوں پر شیطان ہے جو اپنی طرف بلا رہا ہے } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کا ابتدائی حصہ تلاوت فرمایا }۔ ۱؎ [مسند احمد:465/1:حسن]‏‏‏‏
اسی حدیث کی شاہد وہ حدیث ہے جو مسند وغیرہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سامنے ایک سیدھی لکیر کھینچی اور فرمایا: { یہ شیطانی راہیں ہیں } اور بیچ کی لکیر پر انگلی رکھ کر اس آیت کی تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:11،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ ابن ماجہ میں اور بزار میں بھی یہ حدیث ہے۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا صراط مستقیم کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جس پر ہم نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑا اسی کا دوسرا سرا جنت میں جا ملتا ہے اس کے دائیں بائیں بہت سی اور راہیں ہیں جن پر لوگ چل رہے ہیں اور دوسروں کو بھی اپنی طرف بلا رہے ہیں جو ان راہوں میں سے کسی راہ ہو لیا وہ جہنم میں پہنچا پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14170/1:اسنادہ ضعیف جدا]‏‏‏‏
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی مثال بیان فرمائی، اس راستے کے دونوں طرف دو دیواریں ہیں جن میں بہت سے دروازے ہیں اور سب چوپٹ کھلے پڑے ہیں اور ان پر پردے لٹکے ہوئے ہیں اس سیدھی راہ کے سرے پر ایک پکارنے والا ہے پکارتا رہتا ہے کہ لوگو! تم سب اس صراط مستقیم پر آ جاؤ راستے میں بکھر نہ جاؤ، بیچ راہ کے بھی ایک شخص ہے، جب کوئی شخص ان دروازوں میں سے کسی کو کھولنا چاہتا ہے تو وہ کہتا ہے خبردار اسے نہ کھول، کھولو گے تو سیدھی راہ سے دور نکل جاؤ گے -پس سیدھی راہ اسلام ہے دونوں دیواریں اللہ کی حدود ہیں کھلے ہوئے دروازے اللہ کی حرام کردہ چیزیں ہیں نمایاں شخص اللہ کی کتاب ہے اوپر سے پکارنے والا اللہ کی طرف کا نصیحت کرنے والا ہے جو ہر مومن کے دل میں ہے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2859، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
اس نکتے کو نہ بھولنا چاہیئے کہ اپنی راہ کیلئے «سَبِیلِ» واحد کا لفظ بولا گیا اور گمراہی کی راہوں کے لیے «سُّبُلَ» جمع کا لفظ استعمال کیا گیا اس لیے کہ راہ حق ایک ہی ہوتی ہے اور ناحق کے بہت سے طریقے ہوا کرتے ہیں۔
جیسے آیت «اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ» ۱؎ [2-البقرة:257]‏‏‏‏ میں «لظُّلُمٰتِ» کو جمع کے لفظ سے اور «النُّوْرِ» کو واحد کے لفظ سے ذکر کیا گیا ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ «قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ» سے تین آیتوں [6-الأنعام:151تا153]‏‏‏‏ تک تلاوت کر کے فرمایا: { تم میں سے کون کون ان باتوں پر مجھ سے بیعت کرتا ہے؟ } پھر فرمایا: { جس نے اس بیعت کو اپنا لیا اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے اور جس نے ان میں سے کسی بات کو توڑ دیا اس کی دو صورتیں ہیں یا تو دنیا میں ہی اس کی سزا شرعی اسے مل جائے گی یا اللہ تعالیٰ آخرت تک اسے مہلت دے پھر رب کی مشیت پر منحصر ہے اگر چاہے سزا دے اگر چاہے تو معاف فرما دے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8077/5:ضعیف]‏‏‏‏