(آیت 26) {قَالَرَبُّكُمْوَرَبُّاٰبَآىِٕكُمُالْاَوَّلِيْنَ:} فرعون نے درباریوں کو بھڑکایا تو موسیٰ علیہ السلام نے انھیں بھی خطاب میں شامل کر لیا اور فرمایا ”رب العالمین“ وہ ہے جو تمھارا اور تمھارے پہلے آبا و اجداد کا رب ہے، جو پہلے بھی موجود تھا، اب بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ یہ بات اگرچہ {”رَبُّالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِ“} کے ضمن میں آ چکی تھی کہ آسمان و زمین تو فرعون کی پیدائش سے پہلے پیدا ہو چکے تھے، یہ ان کا رب کیسے بن گیا، مگر موسیٰ علیہ السلام بات کو مزید قریب کرکے ان کے اور ان کے باپ دادا تک لے آئے کہ سوچو، جب تمھارے باپ یا دادا موجود تھے تو رب ہونے کے یہ مدعی صاحب کیا اس وقت موجود تھے؟ اور آئندہ جب تمھاری اولاد کی اولاد ہو گی تو اس وقت یہ رب صاحب کہاں ہوں گے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
26۔ موسیٰ نے کہا: ”ہاں وہی تمہارا اور تمہارے آباء و اجداد [19] کا پروردگار ہے“
[19] درباریوں کے کوئی جواب دینے سے پہلے ہی موسیٰؑ نے بھرے دربار میں پھر فرعون کو مخاطب ہو کر کہا: تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ ملک بھر کے وسائل معاش کو اپنے قبضہ میں کر لینے کے بعد تم ہی اپنی رعایا کے پروردگار بن گئے ہو۔ میں اس پروردگار کی بات کر رہا ہوں جس کا تمام تر وسائل پر براہ راست کنٹرول ہے۔ اگر وہ ایک سال یا چند سال بارش ہی نہ برسائے تو تم رعیت تو درکنار اپنی خوراک تک کے لئے ترس جاؤ گے۔ رب العالمین وہ ہے جو خود تمہیں اور تمہارے سب آباء و اجداد کو رزق دیتا رہا ہے اور وہی تمہارا حقیقی پروردگار ہے۔ میں اس رب العالمین کا رسول ہوں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔