حدیث نمبر: 6068
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ ، قَالَ : كُنْتُ أَدْفَعُ النَّاسَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَاحْتَبَسْتُ أَيَّامًا ، فَقَالَ : مَا حَبَسَكَ ؟ قُلْتُ : الْحُمَّى ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، فَأَبْرِدُوهَا بِمَاءِ زَمْزَمَ " .

ابوجمرہ بیان کرتے ہیں: میں لوگوں کو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر (انہیں تنگ کرنے) سے روکتا تھا ایک مرتبہ میں کچھ دن تک نہیں آیا، تو انہوں نے دریافت کیا تم کیوں نہیں آئے میں نے جواب دیا: بخار کی وجہ سے۔ انہوں نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” بے شک بخار جہنم کی تپش کا حصہ ہے، تو تم زم زم کے پانی کے ذریعے اسے ٹھنڈا کرو۔ “

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطب / حدیث: 6068
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6036»