صحیح ابن حبان
كتاب الطب— کتاب: علاج و معالجہ کے احکام و مسائل
ذكر الخبر المفسر للفظة المجملة التي ذكرناها بأن شدة الحمى إنما تبرد بماء زمزم دون غيره من المياه- باب: - ذکر خبر جو ہمارے ذکر کردہ مجمل لفظ کی تفسیر کرتی ہے کہ بخار کی شدت کو زمزم کے پانی سے ٹھنڈا کیا جاتا ہے نہ کہ دیگر پانیوں سے
حدیث نمبر: 6068
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ ، قَالَ : كُنْتُ أَدْفَعُ النَّاسَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَاحْتَبَسْتُ أَيَّامًا ، فَقَالَ : مَا حَبَسَكَ ؟ قُلْتُ : الْحُمَّى ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، فَأَبْرِدُوهَا بِمَاءِ زَمْزَمَ " .ابوجمرہ بیان کرتے ہیں: میں لوگوں کو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر (انہیں تنگ کرنے) سے روکتا تھا ایک مرتبہ میں کچھ دن تک نہیں آیا، تو انہوں نے دریافت کیا تم کیوں نہیں آئے میں نے جواب دیا: بخار کی وجہ سے۔ انہوں نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” بے شک بخار جہنم کی تپش کا حصہ ہے، تو تم زم زم کے پانی کے ذریعے اسے ٹھنڈا کرو۔ “