صحیح ابن حبان
كتاب الهبة— کتاب: تحفہ و عطیہ کے احکام و مسائل
ذكر إباحة إهداء المرء الهدية إلى أخيه وإن لم يحل لواحد منهما استعمال تلك الهدية بأنفسهما- باب: - اس بات کا بیان کہ کوئی شخص ایسی چیز کا ہدیہ اپنے بھائی کو دے سکتا ہے جس کا استعمال بظاہر دونوں کے لیے مباح نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ فَرَأَى حُلَّةَ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ فِي السُّوقِ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اشْتَرِهَا فَالْبَسْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَحِينَ يَقْدَمُ عَلَيْهِ الْوفُودُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لا خَلاقَ لَهُ " ، قَالَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلاثِ حُلَلٍ مِنْهُ ، فَكَسَا عُمَرَ حُلَّةً ، وَكَسَا عَلِيًّا حُلَّةً ، وَكَسَا أُسَامَةَ حُلَّةً ، فَأَتَاهُ عُمَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْتَ : فِيهَا مَا قُلْتَ ، ثُمَّ بَعَثْتَ بِهَا إِلَيَّ ، فَقَالَ : " بِعْهَا ، فَاقْضِ بِهَا حَاجَتَكَ ، أَوْ شُقَّهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ " .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ (بازار) گئے انہوں نے استبرق سے بنا ہوا ایک حلہ بازار میں فروخت ہوتے ہوئے دیکھا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ اسے خرید لیجئے اور جمعہ کے دن اور جب عفو آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوں۔ اس دن اسے زیب تن کر لیا کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے وہ شخص پہنے گا، جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسی قسم کے تین حلے پیش کئے گئے تو آپ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان میں سے ایک حلہ عطا کیا۔ ایک عدد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو عطا کیا اور ایک سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو عطا کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے تو اس کے بارے میں فلاں بات ارشاد فرمائی تھی اب آپ نے یہ میری طرف بھیج دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اسے فروخت کرو اور اس کے ذریعے اپنی ضروریات کو پورا کرو یا پھر اسے کاٹ کر اپنی بیویوں کی چادریں بنوا دو۔