صحیح ابن حبان
كتاب الزكاة— کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل
باب فرض الزكاة - ذكر ما يستحب للإمام أن يدعو للمخرج صدقة ماله بالخير باب: زکاۃ کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا ذکر جو امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ زکوٰۃ ادا کرنے والے کے لیے خیر کی دعا کرے
حدیث نمبر: 3274
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفِي ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ رَجُلٌ بِصَدَقَةِ مَالِهِ ، صَلَّى عَلَيْهِ ، فَأَتَيْتُ بِصَدَقَةِ مَالِي ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفِي " .سیدنا ابن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کوئی شخص اپنے مال کی زکوۃ لے کر آتا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے دعائے رحمت کیا کرتے تھے میں اپنے مال کی زکوۃ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ابواوفی کی آل پر رحمت نازل کر۔