صحیح ابن حبان
كتاب الزكاة— کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الحرص وما يتعلق به - ذكر البيان بأن من أوتي الوادي من الذهب كان حكمه فيه حكم من وصفنا قبل باب: حرص اور اس سے متعلق امور کا بیان - اس بات کا بیان کہ جسے سونے کی وادی دی جائے اس کا حکم وہی ہے جو ہم نے پہلے بیان کیا
حدیث نمبر: 3235
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَوْ أَنَّ لابْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ ذَهَبٍ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ لَهُ وَادٍ آخَرُ ، وَلا يَمْلأُ فَاهَ إِلا التُّرَابُ ، وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ " .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” اگر آدمی کے پاس سونے کی ایک وادی ہو، تو وہ اس بات کا آرزومند ہو گا کہ اسے ایک اور وادی بھی مل جائے اس کے منہ کو صرف مٹی بھر سکتی ہے اور جو شخص توبہ کرتا ہے، تواللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کرتا ہے۔ “