صحیح ابن حبان
كتاب الزكاة— کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل
باب جمع المال من حله وما يتعلق بذلك - ذكر الإخبار بأن التنافس في هذه الدنيا الفانية مما كان يتخوف المصطفى صلى الله عليه وسلم على أمته منه باب: حلال طریقے سے مال جمع کرنے اور اس سے متعلق امور کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ اس فانی دنیا میں مقابلہ بازی وہ چیز ہے جس سے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت پر خوف تھا
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ : آخِرُ مَا خَطَبَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ صَلَّى عَلَى شُهَدَاءِ أُحُدٍ ، ثُمَّ رَقِيَ الْمِنْبَرَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنِّي لَكُمْ فَرَطٌ ، وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الآنَ فِي مَقَامِي هَذَا ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي ، وَلَكِنِّي أُرِيتُ أَنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الأَرْضِ ، فَأَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا " .سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جو آخری خطبہ دیا تھا اس میں یہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے شہدائے احد کی نماز جنازہ ادا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر ارشاد فرمایا: ” بے شک میں تمہارا پیش رو ہوں گا اور میں تمہارا گواہ ہوں گا اور میں اس وقت بھی اپنی اس جگہ پر کھڑے ہوئے اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اللہ کی قسم! مجھے یہ اندیشہ نہیں ہے کہ تم لوگ میرے بعد شرک کرو گے بلکہ مجھے یہ بات دکھائی گئی ہے کہ مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں عطاء کر دی گئی ہیں، تو مجھے تمہارے بارے میں یہ اندیشہ ہے کہ تم دنیا کی طرف راغب ہو جاؤ گے ۔“