صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر الزجر عن مرور المرء معترضا بين يدي المصلي باب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ کوئی شخص نمازی کے سامنے سے گزرے
حدیث نمبر: 2365
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَبِيرِ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمِّي عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ مَوْهَبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا لَهُ فِي أَنْ يَمْشِيَ بَيْنَ يَدَيْ أَخِيهِ مُعْتَرِضًا وَهُوَ يُنَاجِي رَبَّهُ ، لَكَانَ أَنْ يَقِفَ فِي ذَلِكَ الْمَقَامِ مِائَةَ عَامٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الْخُطْوَةِ الَّتِي خَطَا " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” اگر کسی شخص کو یہ بات پتہ چل جائے، اس کے اپنے بھائی کے آگے سے گزرنے پر کتنا گناہ ہو گا، جبکہ اس کا بھائی اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کر رہا ہو یعنی نماز ادا کر رہا ہو) تو اس شخص کا اس جگہ پر ایک سو سال تک کھڑے رہنا اس کے نزدیک اس بات سے زیادہ پسندیدہ ہو گا، وہ ایک قدم اٹھائے (اور اپنے بھائی کے آگے سے گزرے) “