صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر البيان بأن عائشة كانت تنام معترضة في القبلة والمصطفى صلى الله عليه وسلم يصلي وهي بينه وبينها باب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ عائشہ رضی اللہ عنہا قبلہ میں لیٹ کر سوتی تھیں اور مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اور قبلہ کے درمیان نماز پڑھتے تھے
حدیث نمبر: 2344
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ ، بِحَلَبَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ : " يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا نَائِمَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْوِتْرِ أَيْقَظَنِي " .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نماز ادا کر رہے ہوتے تھے اور میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان سوئی ہوئی ہوتی تھی جب آپ وتر ادا کرنے لگتے تھے، تو آپ مجھے بیدار کر دیتے تھے۔