صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر البيان بأن الزجر عن إيطان المرء المكان الواحد في المسجد إنما زجر عنه إذا فعل ذلك لغير الصلاة وذكر الله باب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ مسجد میں ایک ہی جگہ بار بار آنے سے منع اس وقت ہے جب یہ نماز اور اللہ کے ذکر کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے ہو
حدیث نمبر: 2278
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يُوطِنُ الرَّجُلُ الْمَسْجِدَ لِلصَّلاةِ أَوْ لِذِكْرِ اللَّهِ إِلا تَبَشْبَشَ اللَّهُ بِهِ كَمَا يَتَبَشْبَشُ أَهْلُ الْغَائِبِ إِذَا قَدِمَ عَلَيْهِمْ غَائِبُهُمْ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب کوئی شخص نماز ادا کرنے کے لیے یا اللہ کا ذکر کرنے کے لیے مسجد میں ٹھہر جاتا ہے، تواللہ تعالیٰ اس پر یوں خوش ہوتا ہے، جس طرح (طویل عرصے سے) غائب شخص کے گھر والے اس کے واپس آنے پر خوش ہوتے ہیں ۔“