صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب الحدث في الصلاة - ذكر الأمر لمن أحدث في صلاته متعمدا أو ساهيا بإعادة الوضوء واستقبال الصلاة ضد قول من أمر بالبناء عليه باب: نماز میں حدث کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو شخص اپنی نماز میں جان بوجھ کر یا بھول کر حدث کرے، اسے وضو دوبارہ کرنا اور نماز دوبارہ شروع کرنا چاہیے، اس کے برخلاف جو اسے جاری رکھنے کا حکم دیتا ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ عِيسَى بْنِ حِطَّانَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ سَلامٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ الْحَنَفِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاةِ ، فَلْيَنْصَرِفْ ، ثُمَّ لِيَتَوَضَّأْ ، وَلْيُعِدْ صَلاتَهُ " . " وَلا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَدْبَارِهِنَّ " ، لَمْ يَقُلْ: " وَلْيُعِدْ صَلاتَهُ " إِلا جَرِيرٌ ، قَالَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْبِنَاءَ عَلَى الصَّلاةِ لِلْمُحْدِثِ غَيْرُ جَائِزٍ .سیدنا علی بن طلق حنفی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جب کسی شخص کی نماز کے دوران ہوا خارج ہو جائے، تو وہ واپس جائے پھر وضو کرے اور دوبارہ نماز ادا کرے اور تم خواتین کے ساتھ ان کی پچھلی شرم گاہ میں صحبت نہ کرو۔ “ راوی نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے کہ ” پھر وہ اپنی نماز کو دہرائے “ صرف جلیل نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ یہ بات امام ابوحاتم نے بیان کی ہے۔ اور اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ بے وضو ہونے والے شخص کے لیے نماز پر بناء قائم کرنا جائز نہیں ہے۔