حدیث نمبر: 8040
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَابْنِ سِيرِينَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ ، فَلَمَّا احْتُضِرَ قَالَ لِأَهْلِهِ : انْظُرُوا إِذَا أَنَا مِتُّ أَنْ يُحْرِقُوهُ حَتَّى يَدَعُوهُ حُمَمًا ، ثُمَّ اطْحَنُوهُ ، ثُمَّ اذْرُوهُ فِي يَوْمِ رِيحٍ ، فَلَمَّا مَاتَ فَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ ، فَإِذَا هُوَ فِي قَبْضَةِ اللَّهِ ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " يَا ابْنَ آدَمَ ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ ؟ " قَالَ : أَيْ رَبِّ مِنْ مَخَافَتِكَ ، قَالَ : فَغُفِرَ لَهُ بِهَا ، وَلَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا جس نے توحید کے علاوہ کوئی نیک عمل کبھی نہیں کیا تھا جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو بلا کر یہ وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلانا یہاں تک وہ کوئلہ بن جائے پھر اسے خوب باریک کر کے پیسنا اور سمندری ہواؤں میں مجھے بکھیر دینا اس کے مرنے کے بعد اس کے بیٹوں نے ایسا ہی کیا اسی لمحے وہ بندہ اللہ کے قبضہ میں تھا اللہ نے اس سے پوچھا کہ اے ابن آدم تجھے اس حرکت پر کس چیز نے بر انگیختہ کیا ؟ اس نے عرض کیا کہ پروردگار تیرے خوف نے اللہ نے اس پر اس کی بخشش فرما دی۔ حالانکہ اس نے توحید کے علاوہ کوئی نیک عمل کبھی نہیں کیا تھا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8040
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وله إسنادان: الأول متصل صحيح، والثاني ضعيف لارساله وللجهالة، خ: 3481، م: 2756