مسند احمد
مسند المكثرين من الصحابة
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَأَلْتُهُ عَنِ امْرَأَتِهِ الَّتِي طَلَّقَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : طَلَّقْتُهَا وَهِيَ حَائِضٌ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ ، فَذَكَرَهُ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ، إِذَا طَهُرَتْ طَلَّقَهَا فِي طُهْرِهَا لِلسُّنَّةِ " ، قَالَ : فَفَعَلْتُ , قَالَ أَنَسٌ : فَسَأَلْتُهُ , هَلْ اعْتَدَدْتَ بِالَّتِي طَلَّقْتَهَا وَهِيَ حَائِضٌ ؟ قَالَ : وَمَا لِي لَا أَعْتَدُّ بِهَا ، إِنْ كُنْتُ عَجَزْتُ وَاسْتَحْمَقْتُ ! ! .انس بن سیرین کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ اپنی زوجہ کو طلاق دینے کا واقعہ تو سنایئے انہوں نے فرمایا : کہ میں نے اپنی بیوی کو " ایام " کی حالت میں طلاق دے دی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکر ہ کیا تو انہوں نے فرمایا : اسے کہو کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لے، جب وہ " پاک " ہو جائے تو ان ایام طہارت میں اسے طلاق دے دے۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ نے وہ طلاق شمار کی تھی جو " ایام " کی حالت میں دی تھی ؟ انہوں نے کہا کہ اسے شمار نہ کرنے کیا وجہ تھی ؟ اگر میں ایسا کرتا تو لوگ مجھے بیوقوف سمجھتے۔