مسند احمد
مسند المكثرين من الصحابة
مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الَّذِي يَجُرُّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ نَافِعٌ : فَأُنْبِئْتُ أَنَّ أمَّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : فَكَيْفَ بِنَا ؟ قَالَ : " شِبْرًا " ، قَالَتْ : إِذَنْ تَبْدُوَ أَقْدَامُنَا ؟ قَالَ : " ذِرَاعًا ، لَا تَزِدْنَ عَلَيْهِ " .سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے گھسیٹتا ہوا چلتا ہے (کپڑے زمین پر گھستے جاتے ہیں) اللہ قیامت کے دن اس پر نظر رحم نہ فرمائے گا۔ “ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے (نافع رحمہ اللہ کے بقول) عرض کیا کہ ہمارے ساتھ کیا ہو گا ؟ (کیونکہ عورتوں کے کپڑے بڑے ہوتے ہیں اور عام طور پر شلوار پاؤنچوں میں آ رہی ہوتی ہے) فرمایا : ”ایک بالشت کپڑا اونچا کر لیا کرو۔ “ انہوں نے پھر عرض کیا کہ اس طرح تو ہمارے پاؤں نظر آنے لگیں گے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ایک بالشت پر اضافہ نہ کرنا (اتنی مقدارمعاف ہے)۔ “