حدیث نمبر: 2181
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَثْعَمِيِّ ، عَنْ أَبِي كَعْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ أَبْطَأَ عَنْكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام , فَقَالَ : " وَلِمَ لَا يُبْطِئُ عَنِّي ، وَأَنْتُمْ حَوْلِي لَا تَسْتَنُّونَ ، وَلَا تُقَلِّمُونَ أَظْفَارَكُمْ ، وَلَا تَقُصُّونَ شَوَارِبَكُمْ ، وَلَا تُنَقُّونَ رَوَاجِبَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! جبرئیل امین علیہ السلام نے آپ کی خدمت میں حاضر ہونے میں اس دفعہ بڑی تاخیر کر دی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”وہ تاخیر کیوں نہ کریں جبکہ میرے ارد گرد تم لوگ مسواک نہیں کرتے، اپنے ناخن نہیں کاٹتے، اپنی مونچھیں نہیں تراشتے، اور اپنی انگلیوں کی جڑوں کو صاف نہیں کرتے۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2181
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ثعلبة بن مسلم، مجهول، وأبو كعب مولي ابن عباس فيه ، جهالة