حدیث نمبر: 16259
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، قَالَ : قَالَ هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ جَاءَتْ الْأَنْصَارُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَصَابَنَا قَرْحٌ وَجَهْدٌ ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنَا ؟ ، قَالَ : " احْفِرُوا ، وَأَوْسِعُوا ، وَاجْعَلُوا الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ " ، قَالُوا : فَأَيُّهُمْ نُقَدِّمُ ؟ ، قَالَ : " أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا " ، قَالَ : فَقُدِّمَ أَبِي عَامِرٌ بَيْنَ يَدَيْ رَجُلٍ أَوْ اثْنَيْنِ .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ہشام بن عامر سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن انصار کی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! لوگوں کو بڑے زخم اور مشکلات پیش آئے ہیں اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قبریں کشادہ کر کے کھودو اور ایک قبر میں دو دو تین تین آدمیوں کو دفن کر و لوگوں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! پہلے کسے رکھیں فرمایا : جسے قرآن زیادہ یاد ہو چنانچہ میرے والد عامر کو ایک یا دو آدمیوں سے پہلے رکھا گیا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16259
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، حميد بن هلال اختلف فى سماعه من هشام