حدیث نمبر: 14011
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : انْطَلَقَ حَارِثَةُ ابْنُ عَمَّتِي يَوْمَ بَدْرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا نَظَّارًا ، مَا انْطَلَقَ لِلْقِتَالِ ، قَالَ : فَأَصَابَهُ سَهْمٌ ، فَقَتَلَهُ ، قَالَ : فَجَاءَتْ أُمُّهُ عَمَّتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْنِي حَارِثَةُ ، إِنْ يَكُنْ فِي الْجَنَّةِ أَصْبِرْ وَأَحْتَسِبْ ، وَإِلَّا فَسَيَرَى اللَّهُ مَا أَصْنَعُ ، قَالَ : " يَا أُمَّ حَارِثَةَ ، إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ ، وَإِنَّ حَارِثَةَ فِي الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَى " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ " جو کہ نوعمر لڑکے تھے " سیر پر نکلے، راستے میں کہیں سے ناگہانی تیر ان کے آکر لگا اور وہ شہید ہوگئے، ان کی والدہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ جانتے ہیں کہ مجھے حارثہ سے کتنی محبت تھی، اگر تو وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرلوں گی ورنہ پھر جو میں کروں گی وہ آپ بھی دیکھ لیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام حارثہ ! جنت صرف ایک تو نہیں ہے، وہ تو بہت سی جنتیں ہیں اور حارثہ ان میں سب سے افضل جنت میں ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14011
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6567