حدیث نمبر: 12205
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو خُزَيْمَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا ، يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ ، لَا شَرِيكَ لَكَ ، الْمَنَّانَ بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ بِاسْمِ اللَّهِ الْأَعْظَمِ ، الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اس طرح دعاء کرتے ہوئے سنا کہ (اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ الْمَنَّانَ بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ) " اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، کیونکہ تمام تعریفیں تیرے لئے ہی ہیں، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، نہایت احسان کرنے والا ہے، آسمان و زمین کو بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا ہے اور بڑے جلال اور عزت والا ہے " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعے دعا مانگی ہے کہ جب اس کے ذریعے دعاء مانگی جائے تو اللہ اسے ضرور قبول کرتا ہے اور جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو وہ ضرور عطاء کرتا ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 12205
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، أبو خزيمة: ان كان هو العبدي نصر بن مرداس، فالإسناد حسن، وإن كان يوسف بن ميمون الصباغ، فالإسناد ضعيف، وعلي كلا الحالين، فالحديث صحيح بطرقه