الفتح الربانی
القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي— قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيْبِ مِنَ الْحِرْصِ عَلَى الْمَالِ باب: مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان
حدیث نمبر: 9813
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ شَيْئًا إِذَا دَخَلَ الْبَيْتَ قَالَتْ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْبَيْتَ تَمَثَّلَ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ فَمَهُ إِلَّا التُّرَابُ وَمَا جَعَلْنَا الْمَالَ إِلَّا لِإِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَيَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گھر تشریف لاتے تو یہ بات بیان فرماتے: اگر آدم کے بیٹے کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری تلاش کرے گا، مٹی ہی ہے، جو اس کے منہ کو بھر سکتی ہے، اور ہم نے مال تو اس لیے بنایا ہے کہ نماز قائم کی جائے اور زکوۃ ادا کی جائے اور اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہے۔