حدیث نمبر: 9810
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ حَلِيفُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ يَأْتِي بِجِزْيَتِهَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُوَ صَالَحَ أَهْلَ الْبَحْرَيْنِ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَدِمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ فَسَمِعَتِ الْأَنْصَارُ بِقُدُومِهِ فَوَافَتْ صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْفَجْرِ انْصَرَفَ فَتَعَرَّضُوا لَهُ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُمْ فَقَالَ أَظُنُّكُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدْ جَاءَ وَجَاءَ بِشَيْءٍ قَالُوا أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَابْشِرُوا وَأَمِّلُوا مَا يَسُرُّكُمْ فَوَاللَّهِ مَا الْفَقْرَ أَخْشَى عَلَيْكُمْ وَلَكِنِّي أَخْشَى أَنْ تُبْسَطَ الدُّنْيَا عَلَيْكُمْ كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا وَتُلْهِيكُمْ كَمَا أَلْهَتْهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ بنو عامر بن لؤی کے حلیف اور غزوۂ بدر میں شریک ہونے والے سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح کو بحرین کی طرف جزیہ لینے کے لیے بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل بحرین سے مصالحت کر لی تھی اور سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر بنایا تھا، جب سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ مال لے کر بحرین سے واپس آئے اور انصار کو ان کے آنے کا پتہ چلا تو وہ نمازِ فجر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس نماز سے فارغ ہوئے تو انصار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درپے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم کو پتہ چل گیا ہے کہ ابو عبیدہ کچھ لے کر واپس آ گئے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خوش ہو جاؤ اور اس چیز کی امید رکھو جو تم کو خوش کرنے والے والی ہے، اللہ قسم کی ہے، مجھے تمہارے بارے میں فقیری کا کوئی ڈر نہیں ہے، بلکہ مجھے خوف یہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا کو تم پر فراخ کر دیا جائے، جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر کی گئی اور پھر تم اس میں اس طرح پڑ جاؤ، جیسے وہ لوگ پڑ گئے تھے اور پھر وہ تم کو اس طرح غافل کر دے، جیسے ان لوگوں کو غافل کر دیا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … کوئی شک نہیں ہے کہ دنیوی مال و دولت اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، لیکن اکثر لوگوں کو اس نعمت نے دھوکہ دیا ہے، لیکن سرمایہ دار اس حقیقت کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ملاحظہ ہوں احادیث نمبر (۹۲۶۳، ۹۲۷۵)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9810
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2961 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17234 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17366»