حدیث نمبر: 9706
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ بَكَى فَقِيلَ لَهُ مَا يُبْكِيكَ قَالَ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ فَذَكَرْتُهُ فَأَبْكَانِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَتَخَوَّفُ عَلَى أُمَّتِي الشِّرْكَ وَالشَّهْوَةَ الْخَفِيَّةَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُشْرِكُ أُمَّتُكَ مِنْ بَعْدِكَ قَالَ نَعَمْ أَمَا إِنَّهُمْ لَا يَعْبُدُونَ شَمْسًا وَلَا قَمَرًا وَلَا حَجَرًا وَلَا وَثَنًا وَلَكِنْ يُرَاؤُونَ بِأَعْمَالِهِمْ وَالشَّهْوَةُ الْخَفِيَّةُ أَنْ يُصْبِحَ أَحَدُهُمْ صَائِمًا فَتَعْرِضُ لَهُ شَهْوَةٌ مِنْ شَهَوَاتِهِ فَيَتْرُكُ صَوْمَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عبادہ بن نُسی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ رونے لگے، کسی نے ان سے کہا: تم کیوں روتے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، وہ یاد آ گئی تھی، اس لیے رونے لگ گیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: میں اپنی امت پر شرک اور مخفی شہوت کے بارے میں ڈرتا ہوں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کی امت آپ کے بعد شرک کرے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، خبردار! وہ سورج، چاند، پتھراور بت کی عبادت نہیں کرے گی، وہ اپنے اعمال کے ذریعے ریاکاری کریں گے اور مخفی شہوت یہ ہے کہ بندہ صبح کو روزہ رکھے، پھر اس کی کوئی شہوت اس پر غالب آجاتی ہے اور وہ روزہ توڑ دیتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … دکھاوے، تصنع، عدم خلوص، نفاق، نمود و نمائش اور شہرت طلبی جیسے امورِ خبیثہ کو سامنے رکھ کر کوئی ایسا کام کرنا، جو اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے حصول کے لیے سرانجام دیا جاتا ہے، اسے ریاکاری کہتے ہیں۔
سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَیْکُمُ الشِّرْکُ اْلأَصْغَرُ۔)) قَالُوْا: وَمَا الشِّرْکُ الأَصْغَرُ؟ قال: ((اَلرِّیَائُ،یقولُ اللّٰہُ عزَّ وجلَّ لِأَصْحَابِ ذَالِکَ یومَ القِیامَۃِ إِذَا جَازٰی النَّاسَ: اِذْھَبُوْا إِلٰی الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تُرَاؤُوْنَ فِی الدُّنْیَا، فَانْظُرُوْا ھَلْ تَجِدُوْنَ عِنْدَھُمْ جَزَائً؟)) … مجھے تمھارے حق میں سب سے زیادہ ڈر شرکِ اصغر کا ہے۔ صحابہ نے عرض کی: شرکِ اصغر کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ریاکاری کو کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن جب لوگوں کو بدلہ دے گا تو ریاکاروں سے کہے گا: ان ہستیوں کی طرف چلے جاؤ، جن کے سامنے دنیا میں ریاکاری کرتے تھے اور دیکھ آؤ کہ آیا ان کے پاس کوئی بدلہ ہے؟ (أحمد: ۵/۴۲۸و۴۲۹، صحیحہ: ۹۵۱)
امام مبارکپوریl نے کہا: لوگوں کو دکھانے کی خاطر عبادت کا اظہار کرنا، تاکہ لوگ اس عبادت گزار کی تعریف کریں۔ جبکہ امام غزالیl نے کہا: ریاکاری کا اصل معنی لوگوں کو محمود اور قابل تعریف خصائل دکھا کر ان کے دلوں میں مقام حاصل کرنا ہے، تو ریاکاری کی تعریفیہ ہوئی کہ لوگوں کو دکھانے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت کے امور سر انجام دینا۔ (تحفۃ الاحوذی: ۳/ ۲۷۹)
ریاکار عارضی طور پر لوگوں کی نظروں میں تو متقی اور پارسا بن جاتا ہے، لیکن اپنے عمل کو برباد اور اس کے اجر کو ضائع کر دیتا ہے، یہ ریاکاری کی شناعت و قباحت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی عبادات میں اخلاص پیدا کریں اور ریاکاری، خوشامد اور چاپلوسی جیسے غیر اخلاقی امور سے مکمل اجتناب کریں۔
شرک اکبر اور شرک صریح کا مرتکب دائمی جہنمی ہے۔ ریاکاری جیسا شرک اصغر قابل معافی جرم ہے، اگر معاف نہ ہوا تو اس کی سزا بھگتنے کے لیے عارضی طور پر جہنم میں جانا پڑے گا۔
آج کل مقابلہ بازی کا دور ہے اور ہمارے ہاں کئی اعمال کی بنیاد دوسرے کو دکھانے اور اپنے آپ کو ظاہر کرنے پر ہے، مثلا نمازِ جنازہ میں شرکت، کسی کی دعوت کرنا یا کسی کی دعوت قبول کرنا، کسی سے حسن اخلاق سے پیش آنا، یہ امور اللہ تعالیٰ کی محبت کے لیے نہیں، بلکہ ذاتی دوستی و دشمنی کی بنا پر سر انجام دیئے جا رہے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9706
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدّا، عبد الواحد بن زيد البصري متروك الحديث، أخرجه ابن ماجه: 4205 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17120 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17250»