حدیث نمبر: 9668
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ وَالْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ وَكَانَ يَنْهَى عَنِ النَّوْحِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سود کھانے والے پر، کھلانے والے پر، اس کے دونوں گواہوں پر، اس کو لکھنے والے پر، تل بھرنے والی پر، تل بھروانے والی پر، حلالہ کرنے والے پر، جس کے لیے حلالہ کیا جائے اس پر اور صدقہ یا زکوۃ روکنے والے پر لعنت کی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نوحہ سے بھی منع کیا کرتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … تل بھرنے سے مراد خواتین کا اپنے جسم میں تل بھرنا ہے، اس سے اللہ تعالیٰ کی تخلیق تبدیل ہو جاتی ہے۔ تین طلاق والی عورت کو اس کے خاوند کے لیے حلال کرنے کی نیت سے جو نکاح کیا جاتا ہے، اس کو حلالہ کہتے ہیں، جو کہ لعنتی عمل ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي / حدیث: 9668
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه ابوداود: 2077، ابن ماجه: 1935، والترمذي: 1119 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 844 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 844»