الفتح الربانی
كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات— ترغیبات میں آداب، مواعظ، حکمتوں اور جوامع الکلم کی جامع کتاب، میں ثلاثیات سے ابتداء کی جائے گی، علی ہذا القیاس
بابُ السَّدَاسِياتِ الْمَبْدُوءَ وَ بَعَدَدٍ باب: عدد سے ابتداء ہونے والی سداسیات کا بیان
عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْأَعْمَالُ سِتَّةٌ وَالنَّاسُ أَرْبَعَةٌ فَمُوجِبَتَانِ وَمِثْلٌ بِمِثْلٍ وَحَسَنَةٌ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَحَسَنَةٌ بِسَبْعِمِائَةٍ فَأَمَّا الْمُوجِبَتَانِ فَمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ وَأَمَّا مِثْلٌ بِمِثْلٍ فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ حَتَّى يَشْعُرَهَا قَلْبُهُ وَيَعْلَمَهَا اللَّهُ مِنْهُ كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً وَمَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً كُتِبَتْ عَلَيْهِ سَيِّئَةً وَمَنْ عَمِلَ حَسَنَةً فَبِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَمَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَحَسَنَةٌ بِسَبْعِمِائَةٍ وَأَمَّا النَّاسُ فَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ وَمَفْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ۔ سیدنا خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اعمال چھ ہیں اور لوگ چار ہیں، دو واجب کرنے والے ہیں، دو ہم مثل ہیں، ایک نیکی دس گناہ ہے اور ایک نیکی سات سو گناہے، دو واجب کرنے والے یہ ہیں: جو اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو، جنت میں داخل ہو گیا اور جو اس حال میں مرا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہو گا۔ دو ہم مثل یہ ہیں: جس نے نیکی کرنے کا اتنا ارادہ کیا کہ اس کے دل کو سمجھ آگئی اور اللہ تعالیٰ نے اس کو جان لیا تو اس کی ایک نیکی لکھی جائے گی اور جو ایک برائی کرے گا، اس کی ایک برائی ہی لکھی جائے گی، جو ایک نیکی کرے گا، اس کو ثواب دس گنا ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرکے ایک نیکی کرے گا، اس کا اجر سات سو گنا ہو گا، رہا مسئلہ لوگوں کا ، تو جس پر دنیا میں وسعت کی جائے گی، آخرت میں اس پر تنگی کی جائے گی، جس پر دنیا میں تنگی کی جائے گی، آخرت میں اس پر وسعت پیدا کی جائے گی اور بعض ایسے ہیں کہ دنیا و آخرت میں ان پر وسعت اختیار کی جائے گی۔
آخری جملے میں (اما الناس …) لوگوں کی چار قسمیں بیان ہوئی ہیں۔
۱۔ مال دار ہیں لیکن اس کے حقوق ادا کرنے سے غافل رہے تو آخرت میں ان پر تنگی ہو گی۔
۲۔ دنیا میں مالی لحاظ سے تنگی والے لیکن آخرت میں ان کے لیے فراخی ہو گی کیونکہ وہ مالی لحاظ سے تنگ دست ہونے کے با وصف اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے۔
۳۔ دنیا میں فقیر و محتاج اور اللہ کے نافرمان، اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے آخرت میں تنگی والے۔
۴۔ دنیا میں مالدار اور اللہ کے مطیع اور صحیح مسلم، ان کے لیے آخرت میں فراخی ہی فراخی ہے۔