حدیث نمبر: 9624
عَنْ أَبِي سَلَامٍ عَنْ مَوْلًى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَخٍ بَخٍ لِخَمْسٍ مَا أَثْقَلَهُنَّ فِي الْمِيزَانِ (وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ رَجُلٌ مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ) لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَالْوَلَدُ الصَّالِحُ يُتَوَفَّى فَيَحْتَسِبُهُ وَالِدُهُ وَقَالَ بَخٍ بَخٍ لِخَمْسٍ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُسْتَيْقِنًا بِهِنَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَبِالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَبِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْحِسَابِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو سلام ، ایک مولائے رسول سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واہ، واہ، کیا بات ہے پانچ چیزوں کی، وہ کتنی بھاری ہیں ترازو میں۔ ایک بندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ،اَللّٰہُ اَکْبَرُ،سُبْحَانَ اللّٰہِ،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِاور نیک بیٹا، جو فوت ہو جائے اور اس کے والدین ثواب کی نیت سے صبر کریں۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واہ، کیابات ہے پانچ چیزوں کی، جو اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملا کہ ان پر یقین رکھتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا، وہ اللہ تعالی، آخرت کے دن، جنت، جہنم، موت کے بعد جی اٹھنے اور حساب کتاب پر ایمان رکھتا ہو۔

وضاحت:
فوائد: … بَخٍ بَخٍ (واہ، واہ) یہ تعظیم کا صیغہ ہے، کسی کی تعریف کرنے اور رضامندی کا اظہار کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، مبالغہ کے لیے ایک سے زائد مرتبہ کہاجاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9624
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18076 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18244»