حدیث نمبر: 9620
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((سِتَّةُ أَيَّامٍ ثُمَّ اعْقِلْ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا أَقُولُ لَكَ بَعْدُ)) فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ السَّابِعُ قَالَ ((أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ فِي سِرِّ أَمْرِكَ وَعَلَانِيَتِهِ وَإِذَا أَسَأْتَ فَأَحْسِنْ وَلَا تَسْأَلَنَّ أَحَدًا شَيْئًا وَإِنْ سَقَطَ سَوْطُكَ وَلَا تَقْبِضْ أَمَانَةً)) وَفِي رِوَايَةٍ ((وَلَا تُؤْوِيَنَّ أَمَانَةً)) ((وَلَا تَقْضِ بَيْنَ اثْنَيْنِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چھ دن ہیں، پھر اے ابو ذر! اس چیز کو سمجھنا جو میں تجھے بیان کرنے والا ہوں۔ جب ساتواں دن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے تیرے مخفی اور اعلانیہ امور میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں، جب تو برائی کرے تو اس کے بعد نیکی کر، کسی سے کسی چیز کا ہر گز سوال نہ کر، اگرچہ تیرا کوڑا گر جائے، کوئی امانت اپنے پاس نہ رکھ اور دو افراد کے مابین فیصلہ نہ کر۔

وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث تو ضعیف ہے، لیکن اس میں کی گئی پانچ نصیحتوں کا مضمون دوسری احادیث سے ثابت ہے۔ دوسری نصوص میں امانتیں وصول کرنے اور لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کا حکم دیا گیا ہے، ہاں جو آدمی سمجھتا ہو کہ وہ ان امور کا حق ادا نہیں کر سکے گا تو وہ بیچ میں دخل ہی نہ دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات / حدیث: 9620
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سييء الحفظ، ودراج بن سمعان ضعيف صاحب مناكير ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21573 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21906»